۱۶ آذر ۱۴۰۰ |۲ جمادی‌الاول ۱۴۴۳ | Dec 7, 2021
مولانا کلب جواد نقوی

حوزہ/ مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری امام جمعہ لکھنؤ نے افغانستان میں شیعوں کی نسل کشی کے خلاف اور ان کی حفاظت کو یقینی بنائے جانے کے لیے اقوام متحدہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر کو خط لکھ کر صورتحال پر قابو پانے اور دہشت گرد گروہوں کی بیخ کنی کا مطالبہ کیا ہے ۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنؤ/ افغانستان میں شیعوں کے قتل عام اور مساجد پر جاری دہشت گردانہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری امام جمعہ لکھنؤ مولانا سید کلب جواد نقوی نےاقوام متحدہ کے دفتر واقع دہلی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے دفترکو خط لکھ کر مجرموں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ افغانستان میں زمانۂ دراز سے شیعوں کی نسل کشی کی جارہی ہے جس کے خلاف امن عالم کی تنظیموں ،اقوام متحدہ اور مسلم رہنمائوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔مگر افسوس شیعوں کے قتل عام پر سبھی نے چپّی سادھ رکھی ہے۔گذشتہ ایک ہفتہ میں دو بار شیعوں کی مساجد کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایاہے جس میں سیکڑوں افراد شہید ہوچکے ہیں ۔گذشتہ جمعہ کو صوبہ قندوز کی جامع مسجد میں دہشت گردوں نے نمازیوں پر حملہ کیا تھا جس میں سیکڑوں لوگ شہید اور زخمی ہوئے تھے ۔

مولانانے کہا کہ آخر کیاوجہ ہے کہ افغانستان کے اقتدار پر طالبان کے قبضے کے بعد مسلسل شیعوں کو مارا جارہاہے ؟۔ طالبان جو افغانوں کی حفاظت کا دعویٰ کررہے ہیں ،ان واقعات سے ان کے تمام تر دعوئوں کی قلعی کھل گئی ہے ۔طالبان مجرموں کو پکڑنے میں بھی ناکامی شکار رہے ہیں ،اور صرف اظہار ہمدردی کے پیغامات جاری کرکے اپنی ذمہ داری پوری کررہے ہیں ۔مولانا نے کہا کہ افغانستان میں شیعوں کی نسل کشی کے لیے نام نہاد اسلامی تنظیمیں اور استعماری طاقتیں ذمہ دار ہیں ۔افغانستان کو بغیر کسی مزاحمت کے طالبان کے حوالے کردینا امریکہ کی منصوبہ بند سازش ہے جس کے تحت اقلیتوں کا قتل عام جاری ہے ۔اس کے بعد ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنایا جائے گا ۔

مولانانے خط میں لکھاکہ طالبان کو اقتدار حاصل کرنے میں جن طاقتوں نے مدد کی وہ خطے میں امن کے خواہاں نہیں ہیں ۔اس لیے ہماری اپیل ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف مضبوط لائحۂ عمل تیار کیا جائے ۔خاص طورپر وہاں کے اقلیتی طبقات کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔شیعہ جو ایک زمانے سے دہشت گردوں کے لیے آسان ٹارگیٹ بنے ہوئے ہیں ،ان کی جان ،مال اور ناموس کی حفا ظت کو یقینی بنایاجائے ۔دہشت گرد گروہوں پر لگام کسی جائے تاکہ دہشت گردی کی آگ ہمارے ملک کی سرحدوں تک نہ پہونچے ۔کیونکہ ہمارا ملک پہلے ہی دہشت گردوں کی دراندازی کا شکار ہے ،اگر اس معاملے میں ذرا بھی کوتاہی برتی گئی تویہ دہشت گرد گروہ افغانستان سے ہماری سرحدوں میں دراندازی کی کوشش کریں گے ۔اس لیے ہم اقوام متحدہ ،امن عالم کی ذمہ دار تنظیموں اور اپنے ملک ہندوستان کی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں سخت قدم اٹھاتے ہوئے افغانستان میں متحرک دہشت گرد گروہوں پر لگام کسیں اور اقلیتوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں ۔اگر افغانستان کی صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو دہشت گرد ی کی آگ ہمسایہ ملکوں تک بھی پہونچے گی ۔

مولانا نے افغانستان میں شیعوں کی نسل کشی کے خلاف اور ان کی حفاظت کو یقینی بنائے جانے کے لیے اقوام متحدہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر کو خط لکھ کر صورتحال پر قابو پانے اور دہشت گرد گروہوں کی بیخ کنی کا مطالبہ کیاہے ۔

جاری کردہ : دفتر مجلس علمائے ہند 

انتہائی افسوس ہے کہ جب سے افغانستان میں طالبان برسراقتدار آئے ہیں ،آئے دن اقلیتوں پر ظلم و تشدد ہورہاہے ۔گذشتہ جمعہ  اکتوبرکو افغانستان کے صوبہ قندوز میں شیعہ جامع مسجد پر دہشت گرد حملہ ہو اتھا جس میں سیکڑوں نمازی زخمی اور شہید ہوئے تھے ۔اس کے بعد ۱۵ اکتوبر جمعہ کے دن قندھار میں جامع مسجد کو نشانہ بنایا گیا جس میں درجنوںنمازی مارے گئے اور سیکڑوں زخمی ہوئے ۔طالبان کی موجودہ حکومت سے پہلے جب ملّا عمر اور اسامہ بن لادن اس کے سربراہ ہوتے تھے ،اس وقت بھی شیعوں کی منظم نسل کشی کا سلسلہ جاری تھا ۔آج جیسے ہی طالبان مختلف طاقتوں کی مدد سے دوبارہ اقتدار میں آئے ہیں ،ایک بار پھر شیعوں کے قتل عام کے واقعات میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔

قابل غور یہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گردگروہ مزید متحرک ہوگئے ہیں ۔آج ا ن کا ہدف اقلیتی فرقہ ہے اور کل اس دہشت گردی کی آگ ہمسایہ ملکوں تک بھی پہونچے گی ۔کیونکہ دہشت گرد کبھی کسی کے دوست نہیں ہوسکتے ۔طالبان کو اقتدار حاصل کرنے میں جن طاقتوں نے مدد کی وہ خطے میں امن کے خواہاں نہیں ہیں ۔اس لیے ہماری اپیل ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف مضبوط لائحۂ عمل تیار کیا جائے ۔خاص طورپر وہاں کے اقلیتی طبقات کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔شیعہ جو ایک زمانے سے دہشت گردوں کے لیے آسان ٹارگیٹ بنے ہوئے ہیں ،ان کی جان ،مال اور ناموس کی حفا ظت کو یقینی بنایاجائے ۔دہشت گرد گروہوں پر لگام کسی جائے تاکہ دہشت گردی کی آگ ہمارے ملک کی سرحدوں تک نہ پہونچے ۔کیونکہ ہمارا ملک پہلے ہی دہشت گردوں کی دراندازی کا شکار ہے ،اگر اس معاملے میں ذرا بھی کوتاہی برتی گئی تویہ دہشت گرد گروہ افغانستان سے ہماری سرحدوں میں دراندازی کی کوشش کریں گے ۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت ہند اور اقوام متحدہ مل کر اس سلسلے میںمناسب اقدام کریں اور شیعوں کے قتل میں ملوث گروہوں اور تنظیموں کی بیخ کنی کے لیے ہر ممکن کاروائی کی جائے ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 6 =