۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

حوزہ/ مسلم تنظیمیں نفرت کا جواب نفرت سے دینے پر یقین نہیں رکھتیں بلکہ ملک میں پائیدار اور سازگار حالات کے لیے سرگرم رہتی ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات میں مسلم تنظیموں کا موقف یہ ہے کہ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں دیا جاسکتا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے نفرت کے ماحول میں مسلم تنظیموں کی خاموشی پر اٹھ رہے سوال پر مرکزی جماعت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ مسلم تنظیمیں نفرت کا جواب نفرت سے دینے پر یقین نہیں رکھتیں بلکہ ملک میں پائیدار اور سازگار حالات کے لیے سرگرم رہتی ہیں۔

مولانا اصغر امام مہدی سلفی نے کہا کہ مسلم تنظیمیں دراصل اسی ملک اور اسی سماج کا حصہ ہیں اور ایسے حالات اور واقعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تنظیمیں موجودہ حالات پر سنجیدگی سے غور وفکر کررہی ہیں اور حالات کو سازگار بنانے کے لیحوزہے فکرمند ہیں۔ جہاں تک ممکن ہوسکے نفرت کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم تنظیمیں غیر سرکاری اور غیر سیاسی تنظیم ہیں۔ اس کا ایک دائرۂ کار ہے۔ دھرم کی روشنی میں ایک دوسرے سے جڑنے کے کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب جب بھی ملک میں نفرت کا ماحول ہوتا ہے اور ننگا ناچ کھیلا جاتا ہے اور دوسرے مذہب کے ساتھ ناانصافی کا دور چلتا ہے، ایسے حالات میں ہم اپنے موقف سے نہیں ہٹتے اور نفرت کا جواب نفرت سے دینے پر یقین نہیں رکھتے، دیر سے ہی صحیح اس پر ایک ذمہ داری کے ساتھ کام کرتے ہیں تاکہ نفرت کا ماحول مزید نہ بڑھ سکے۔

مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ سماج کو پائیدار بنانے کے لیے ہم لوگ بنیادی چیزوں پر زیادہ کام کرتے ہیں چاہے وہ مدارس کے ذریعہ ہو یا پھر مذاہب کی معزز شخصیات کی تقریر کے ذریعہ ہو تاکہ وہ انتقامی امور پر کام نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تنظیمیں اپنے کام میں مصروف ہیں وہ اپنے ملک کے حالات پر نگاہیں رکھتی ہیں اور ملک کی ہم آہنگی کو بنائے رکھنے کے لیے اس پر تبادلۂ خیال کرتی ہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
9 + 3 =