۹ مهر ۱۴۰۱ |۵ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 1, 2022
News Code: 383241
9 اگست 2022 - 23:13
گزارش تصویری هوایی از عاشورای حسینی در کربلای معلی

حوزہ/ امام حسین علیہ السلام کے سلسلہ میں ہمارا وہی عقیدہ ہے جو اللہ نے قرآن کریم میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی سنت میں اور ائمہ معصومین علیہم السلام نے اپنی سیرت و احادیث میں بیان کیا ہے۔ اغیار کے افکار و خیالات ہمارے لئے بطور احتجاج ہیں نہ کہ ہمارا عقیدہ ۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | تاریخ بشریت کا وحید و فرید واقعہ، واقعہ کربلا ہے جو صرف ایک انقلاب نہیں بلکہ انقلاب ساز ہے جو اپنے وقوع سے رہتی دنیا تک بشریت کو انسانی اقدار کے تحفظ کی راہوں کی رہنمائی اور عظیم مقصد خلقت سے آگاہی اور اس کے حصول کے طریقوں کی ہدایت کرتا رہے گا۔
کربلا سے پہلے اور کربلا کے بعد بہت سے واقعات ہوئے لیکن جیسے جیسے زمانہ گذرا گمنامی ان کا مقدر بن گئی، اگر ان کے اثرات معاشرہ پر مرتب بھی ہوئے تو وہ بھی کچھ ہی عرصہ بعد محو ہو گئے۔ لیکن واقعہ کربلا جس طرح چودہ سو سال پہلے زباں زد خاص و عام تھا اسی طرح آج بھی مقبول خاص و عام ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ خواص یعنی جو امام حسین علیہ السلام کو اللہ کا ولی، حجت خدا، معصوم امام، زمین پر خلیفہ خدا اور واجب الاطاعت مانتے ہیں ان کے نزدیک آپ دنیا و آخرت میں انکے ولی، امام، خلیفہ اور مولا ہیں۔
اسی کے برخلاف عوام جنکا دین و آئین جدا ہے وہ عظیم عاشورائی انقلاب کے سبب آپ کو امام الاحرار، رہبر آزادی اور انسانی اقدار کا محافظ مانتے ہوئے مدح و ثنا کرتے ہیں۔
یہاں اس نکتہ پر توجہ لازم ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے سلسلہ میں ہمارا وہی عقیدہ ہے جو اللہ نے قرآن کریم میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی سنت میں اور ائمہ معصومین علیہم السلام نے اپنی سیرت و احادیث میں بیان کیا ہے۔ اغیار کے افکار و خیالات ہمارے لئے بطور احتجاج ہیں نہ کہ ہمارا عقیدہ ۔

بقول شہید جنرل قاسم سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ "جو چاہتا ہے شہید ہو اسے شہیدوں والی زندگی بسر کرنی چاہئیے۔" اسی طرح جو چاہتا ہے حسینی بنے، دنیا و آخرت میں امام حسین علیہ السلام کی معیت اور ہمراہی اس کا نصیب ہو اسے امام حسین علیہ السلام کی سیرت پر گامزن ہونا پڑے گا۔ سیرت حسینی پر اسی وقت عمل ممکن ہے جب اس سے کم از کم اس قدر آشنائی ہو جو قرآن و سنت میں بیان ہوئی ہیں اور کتب تاریخ و روایات میں مرقوم ہیں۔
لیکن اس مقام پر بھی غور و فکر لازمی ہے کہ ہم کس سے درس حسینی حاصل کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم اپنی روزانہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ میڈیا ہر واقعہ اور حادثہ کو کوریج کرتا ہے لیکن اسے اپنے مقصد کے مطابق ہی بیان کرتا ہے ، وہ کسی بھی واقعہ کو اس طرح بیان نہیں کرتا کہ جس سے خود وہ زد میں آ جائے یا اس کے مقاصد پامال ہو جائیں۔ اسی طرح واقعہ کربلا کو بھی ہر انسان نے اپنے ذوق کے مطابق نقل کیا ہے.
ظاہر ہے سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ جیسے بزرگان دین جو امام حسین علیہ السلام کو ویسے ہی مانتے تھے جیسا قرآن و سنت میں بیان ہوا ہے یعنی امام عالی مقام کو نص من اللہ معصوم اور من جانب اللہ واجب الاطاعت امام مانتے تھے لہذا ان کا بیان حقیقت کے عین مطابق ہے، لیکن جو کسی اور مشرب سے سیراب ہوا ہو یا ہو رہا ہو وہ بہرحال وہی بیان کرے گا اور ویسے ہی بیان کرے گا جس سے اس کا عقیدہ زد میں نہ آئے۔ لہذا جب بھی ایسے افراد کے بیان کو پڑھا جائے تو پہلے یہ پتہ کر لیا جائے کہ بیان کرنے والا کس مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے تا کہ سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔ ورنہ بے توجہی کے نتیجہ میں ممکن ہے کبھی اہلبیت علیہم السلام کے چاہنے والوں اور ان کے وفاداروں سے بدگمان ہو جائے گا تو کبھی ان کے دشمنوں کی تعریف جیسے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو جائے گا۔
ہم یہ تو جانتے ہیں کہ موت شہادت سے مات کھا جاتی اور شہید مرتا نہیں بلکہ حیات طیب و طاہر اس کا نصیب ہوتا ہے لہذا اس کا بیان، اس کا مشن، اسکی تحریک رکتی نہیں بلکہ جاری رہتی ہے یہ الگ بات ہے کام بدل جاتا ہے۔ جیسے شہدائے کربلا علیہم السلام کا کام قربانی پیش کرنا اور شہید ہونا تھا۔ اسیران کربلا کا کام اس شہادت اور مقصد شہادت کو زندہ رکھنا تھا۔ دونوں نے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر دیا اب ہم چاہنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ دونوں کی قربانیاں، ان کے مقاصد اور پیغام کو زندہ رکھیں۔ لیکن اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے ہمیں انہیں کے راستہ پر چلنا ہو گا تا کہ سید الشہداء علیہ السلام کی معیت ہمارا مقدر بنے۔ اس کے لئے مندرجہ ذیل نکات پر توجہ رکھنا ضروری ہے۔
1۔ اخلاص یعنی پیش نظر صرف معبود کی رضا اور خوشنودی ہو، ہر طرح کے دکھاوے اور ریاکاری سے خود کو محفوظ رکھیں۔
2۔ تعصب و حسد جیسی برائیوں سے کنارہ کش ہو جائیں تا کہ اعلیٰ حسینی معیار پر جو بھی کھرا اترے اسے قبول کر سکیں۔
3۔ یاد رکھیں کہ احیاء امر اہلبیت علیہم السلام اسی طرح عبادت ہے جس طرح دوسری عبادتیں ہیں بلکہ سب سے افضل عبادت ہے۔
4۔ شہدائے کربلا اور اسیران کربلا کا ہدف ہمیشہ پیش نظر رہے تا کہ اسی کے مطابق عمل کر سکیں۔
5۔ پیش نظر رہے کہ جس طرح انبیاء و مرسلین علیہم السلام نے بغیر کسی کمی و زیادتی کے پیغام خدا کو لوگوں تک پہنچا کر ان پر حجت تمام کر دی تھی۔ اسی طرح وارث انبیاء سرکار سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے بھی لوگوں پر حجت تمام کر دی۔ لہذا ہمیں بھی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہئیے تا کہ بارگاہ خدا میں سرخرو ہو سکیں او تقرب پروردگار ہمارا نصیب ہو۔
مذکورہ نکات کے علاوہ دیگر بہت سے اہم نکات ہیں جو قرآنی آیات، معصومین علیہم السلام کی روایات اور زیارات کے فقروں میں نقل ہوئے ہیں۔ جیسے امام حسین علیہ السلام کی یوم اربعین کی زیارت میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "خدایا! (میرے جد بزرگوار امام حسین علیہ السلام نے) تیری راہ میں اپنا خون بہایا تا کہ تیرے بندوں کو جہالت اور حیرت انگیز گمراہی سے نجات دلائیں" لہذا ہمیں ان جیسے نکات کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئیے۔
ظاہر ہے جب ہم حسینی زندگی جینا چاہتے ہیں اور ہماری آرزو ہے کہ دنیا و آخرت میں ہمیں امام حسین علیہ السلام کی معیت حاصل ہو اور ہمارا شمار ان کے غلاموں میں ہو تو ہمیں بھی حصول معرفت کے ساتھ پیروی کرنی ہو گی جیسے اصحاب حسینی نے کی کہ خود کو امام حسین علیہ السلام پر قربان کر دیا تا کہ ہم بھی اپنے کو آمادہ کریں اور بعد ظہور اپنے ولی، وارث مظلوم کربلا امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی رکاب میں شامل ہو سکیں۔
کیا کیا رفیق کار شہ مشرقین تھے
شبیر تھے جو دل تو ہر دل کا چین تھے
ہم رنگی خیال و عمل کے لحاظ سے
میدان کربلا میں بہتّر حسین تھے۔
(سید مہدی حسن زیدی عزم جونپوری مرحوم)

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 6 =