۹ مهر ۱۴۰۱ |۵ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 1, 2022
اربعین

حوزہ/ ایران کے صوبہ خوزستان میں خرمشہر کے گورنر نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایران عراق سرحد وں میں سے شلمچہ بارڈر غیر ملکی شہریوں کے لیے اربعین حسینی میں شرکت کا واحد راستہ ہوگا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ۲۰ صفر المظفر اس سال 17 ستمبر ہو سکتی ہے، یہ دن نواسہ رسولؐ حضرت امام حسین (ع) اور ان کے با وفا اصحاب کے چہلم کا دن ہے، دنیا بھر سے لوگ خصوصاً شیعیان حیدر کرارؑ ، اس دن عراق کے مقدس شہر کربلا میں چہلم منانے جاتے ہیں۔ صدام کے زوال کے بعد اربعین کے دن کربلا میں عزاداروں کی تعداد ہر سال ایک نیا ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ کیونکہ یہ سال کورونا وبا میں لگائی گئی پابندیوں کے بعد کا سال ہے، اربعین میں کربلا پہنچنے والے عزاداروں کی تعداد کے پیش نظر کہا جا رہا ہے کہ اس بار سب سے زیادہ تعداد اربعین کے لیے عراق کے مقدس شہر کربلا پہنچے گی۔

ادھر جہاں عراقی حکومت نے اربعین حسینی کی تیاریاں شروع کر دی ہیں وہیں ایران نے بھی ملکی اور غیر ملکی زائرین کے لیے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اربعین کے دن کربلا پہنچنے والے غیر ملکی زائرین میں ایرانی زائرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کی سرحد سے عراق جانے والے غیر ملکی زائرین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ تقریباً 70 ممالک کے زائرین ایران کی سرحد کے ذریعے عراق جاتے ہیں۔

اس بار صوبہ خوزستان کے خرمشہر کے گورنر نادر امید زادہ نے کہا ہے کہ عراق میں داخل ہونے کے لیے بیرون ملک سے آنے والے زائرین کے لیے صرف شلمچہ کی سرحد ہی کھلی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ 20 محرم سے ہم امام حسین علیہ السلام کے غیر ملکی عزاداروں کی خدمت کے لیے تیار رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زائرین کی خدمت اور سہولت کے لیے جہاں ایرانی عوام کی جانب سے درجنوں کیمپ لگائے جا چکے ہیں، اس بار 10 کیمپ افغانستان کی عوام کی جانب سے اور10 کیمپ (موکب) پاکستان، ہندوستان اور نائیجیریا سمیت کئی دیگر ممالک میں نصب کیے گئے ہیں عوام کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 3 =