۴ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 23, 2024
ڈاکٹر افعان اللہ

حوزہ/ ہندوستان کے معروف شہر لکھنؤ میں پروفیسر افغان اللہ خاں کی سولہویں برسی کے موقع پر" آغوش حمیدیہ" میں قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں ادباء اور شعراء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے معروف شہر لکھنؤ میں پروفیسر افغان اللہ خاں کی سولہویں برسی کے موقع پر" آغوش حمیدیہ" میں قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں ادباء اور شعراء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

پروفیسر افعان اللہ خاں کی بے تکلف گفتگو سے گلزار تھی شہر کی اردو دنیا، مقررین

پروفیسر افغان اللہ خاں کی وفات کے بعد شہر گورکھپور کی ادبی دنیا جو ان کی بے تکلف گفتگو سے گلزار رہتی تھی بے جان اور سونی ہوگئی۔ مرحوم اپنے قلندرانہ مزاج کے سبب سب کو عزیز تھے۔ اردو ادب کی ترقی و ترویج کی فکر میں تاحیات جدو جہد کرتے رہے۔ ان کو سیاحت کا بڑا شوق تھا، جس سے بھی ملتے اسکو اپنا بنا لیتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق، افعان اللہ خان میموریل کمیٹی کے تحت گورکھپور میں واقع ’’آغوش حمیدیہ‘‘ میں ان کی سولہویں برسی پر منعقدہ سیمینار کے صدارتی خطبے میں معروف معالج ڈاکٹر عزیر احمد نے یہ اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر افعان اللہ ہمیشہ ادب کی آبیاری میں سرگرداں رہے۔ ان کی شخصیت کے نقوش ہمارے دلوں میں ثبت ہیں۔

پروفیسر افعان اللہ خاں کی بے تکلف گفتگو سے گلزار تھی شہر کی اردو دنیا، مقررین

سابق ڈپٹی ڈائریکٹر و ماہنامہ نیا دور کے ایڈیٹر ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی نے کہا کہ معاشرے میں کچھ شخصیت ایسی ہوتی ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں میں سے ایک پروفیسر افغان الله خان ہیں. وہ میرے شفیق استاد تھے، جب بھی وہ کسی سے میرا تعارف کراتے تو کہتے کہ یہ میری پہلی اولاد ہے ۔ کیونکہ ان کی سر پرستی میں ہی پہلا ریسرچ اسکالر تھا۔

ڈاکٹر رضوی نے کہا کہ استاد محترم کی خدمات پر جتنا کام ہونا چاہیئے ابھی نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گورکھپور یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کو مستحکم بنانے اور ترقی دینے میں اپنی جی جاں لگا دینے سے والی شخصیت پر 16برس گزر جانے کے بعد بھی ان کی حیات و خدمات سے متعلق کسی طالب علم کا پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان پر کوئی بڑا سیمینار منعقد کیا گیا۔

پروفیسر افعان اللہ خاں کی بے تکلف گفتگو سے گلزار تھی شہر کی اردو دنیا، مقررین

ڈاکٹر رضوی نے ڈاکٹر افغان اللہ خاں کے غیر مطبوعہ دوسرے اہم مضامین کو یکجا کرا کر کتابی شکل میں شائع کرانے کی یقین دہائی کرائی۔

ڈاکٹر رضوی نے اردو زبان وادب سے متعلق ’’اردو پڑھاؤ تحریک ‘‘ جس کی شروعات پروفیسر افغان اللہ خاں نے کی تھیں اس کو دوبارہ چلانے اور فعال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر افغان اللہ خاں بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے ان کے جیسا مخلص اور پر کشش شخصیت کا مالک کسی اور کو نہیں دیکھا، وہ لوگوں سے بڑی خندہ پیشانی سے ملتے تھے، سب کو پیار کرتے تھے۔

سینئر صحافی قاضی عبد الرحمن نے کہا کہ افغان الله صاحب ادبی سنجیدگی خود پر طاری نہیں کی وہ عوام کے لیے تھے انھوں نے اردو کو مقبول بنانے کے لیے دور دراز علاقوں میں شعبہ اردو قائم کرکے اردو زبان کی خدمت کی۔ فراق گورکھپوری پر کوئی مقالہ افغان اللہ خاں کے تذکرہ کیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔

ڈاکٹر درخشاں تاجور نے افغان اللہ خاں کی شاعری کے پس منظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جس طرح میری رہنمائی کی اسکو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

پروفیسر افعان اللہ خاں کی بے تکلف گفتگو سے گلزار تھی شہر کی اردو دنیا، مقررین

ڈاکٹر ترنم حسن پروفیسر افغان الله خاں کی شاگردہ ہونے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے ان کی تخلیقات کا اجمالی جائزہ لیا۔
اس موقع پر جے آر ایف میں کامیاب ہوئی حبیبہ جمال اور ضیاء فاطمہ اور ایم - اے اردو کی ٹا پر رہی عنبرین نسا اور شائستہ خاتوں کو افغان اللہ خاں اعلی تعلیمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔اسی تقریب میں ساجد میموریل کمیٹی کی جانب سے صالح معاشرت کی تشکیل وتکمیل پر زور اور بیہودہ رسومات و فضول خرچوں سے گریز ، نظم گوئی کا انعامی مقالہ میں بہترین نظمیں لکھنے والے حضرات و خواتین کو انعام و تحفہ پیش کیا گیا۔

اس تقریب میں محمد افراہیم، ڈاکٹر رفیع اللہ، محمد انور ضیا، ڈاکٹر طاہر علی سبز پوش، ڈاکٹر اعظم بیگ، ڈاکٹر احتشام الحق، ڈاکٹر جاوید احتشام الحق، ڈاکٹر اشفاق عمر، ڈاکٹر بہار گورکھپوری، عبد الباقی، قاضی کلیم الحق خاں، عامر عباسی، عاصم روف اور عمیر صدیقی کے علاؤہ کثیر تعداد میں ادب دوست موجود تھے۔

پروفیسر افعان اللہ خاں کی بے تکلف گفتگو سے گلزار تھی شہر کی اردو دنیا، مقررین

پروگرام میں نظامت کے فرائض فرخ جمال نے کی۔آخر میں کمیٹی کے صدر جناب رضوان اللہ خاں نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .