اتوار 23 مارچ 2025 - 12:00
سماجی رویے حیا اور عفت پر مبنی ہونے چاہئیں

حوزہ / محترمہ متقی‌فر نے کہا: سماجی رویے، خاص طور پر جنسِ مخالف کے ساتھ تعامل حیا اور عفت کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، مدرسہ علمیہ نرجسیہ سیرجان میں خواتین اور طالبات کی موجودگی میں قرآن کریم کے جزء خوانی اور تفسیر کی بیسواں نشست منعقد ہوئی۔ اس نشست میں حوزہ علمیہ کی استاد محترمہ فہیمہ متقی‌فر نے سورہ قصص میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کو بیان کرتے ہوئے اس کے تربیتی اور اخلاقی نکات بیان کیے اور قرآن کے قصوں کی دیگر کہانیوں سے منفرد خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ان قصوں کا راوی خود خداوند متعال ہے اور یہ سب تاریخی حقائق پر مبنی ہیں۔

انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدین میں دو خواتین کی مدد کرنے کے منظر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ واقعہ مرد و زن کے تعلقات میں حدود اور حیا کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ دو خواتین، باوجود اس کے کہ انہیں مدد کی ضرورت تھی، اس انتظار میں تھیں کہ مرد اپانی وغیرہ بھر لیں، اس کے بعد وہ خود اپنی بکریوں کو پانی پلائیں۔ یہ طرز عمل ہمارے لیے ایک بڑا سبق ہے کہ سماجی تعلقات، خاص طور پر مرد و زن کے درمیان، حیا اور حدود کے دائرے میں ہونے چاہئیں۔

محترمہ متقی‌فر نے شادی اور شریک حیات کے انتخاب کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا: اسلام تاکید کرتا ہے کہ نکاح صحیح معیاروں کے مطابق اور حیا و عفت کی رعایت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کو شریک حیات کے انتخاب میں نہ صرف ظاہری خوبصورتی بلکہ اخلاقی اور دینی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر آج کے معاشرے میں بہت اہمیت رکھتا ہے، جہاں بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بناوٹی ظاہری سجاوٹ اور بے قید رویے کے ذریعے بہتر شریک حیات حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے سماجی رویوں میں حیا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہمارے تمام سماجی رویے، خاص طور پر مخالف جنس کے ساتھ تعلقات، حیا اور عفت کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ یہ نہ صرف فردی کرامت کے تحفظ میں مددگار ہے بلکہ معاشرے اور خاندان کی مضبوطی کا بھی سبب بنتا ہے۔

حوزہ علمیہ کی اس استاد نے مزید کہا: قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ مرد اور عورت کو اپنی ہر حرکت، گفتگو اور طرز زندگی میں حیا کی پابندی کرنی چاہیے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ انہی اصولوں پر ان کے مستقبل کی زندگی کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha