حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گناوہ-ایران/ امام جمعہ گناوہ حجت الاسلام سید عبد الہادی رکنی حسینی نے کہا ہے کہ قرآن کو ہماری روزمرہ زندگی میں شامل کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے معاشرتی مسائل کی بڑی وجہ قرآن سے دوری ہے، اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ لوگ قرآن سے زیادہ سے زیادہ جُڑیں۔
وہ گھریلو قرآنی نشستوں کے اساتذہ کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی ہمیشہ قرآن کی ترویج پر زور دیتے ہیں اور نوجوانوں کو حفظ و تلاوت کی ترغیب دینا ان کی اہم ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں گھریلو قرآنی نشستوں کی پرانی روایت ہے۔ پہلے بھی لوگ گھروں میں قرآن سیکھتے اور سکھاتے تھے۔ اس روایت کو دوبارہ زندہ کرنے سے معاشرے میں قرآن سے محبت بڑھے گی۔
انہوں نے ان نیک دل لوگوں کی تعریف کی جنہوں نے اپنے گھروں کو قرآنی سرگرمیوں کے لیے وقف کیا ہے اور کہا کہ حکومت اور انتظامیہ کو بھی ان نشستوں کی حمایت کرنی چاہیے۔
رمضان میں ان نشستوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، جو اچھی بات ہے، لیکن یہ سلسلہ پورے سال جاری رہنا چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ ان نشستوں کی وجہ سے لوگ مساجد اور امام بارگاہوں سے دور نہ ہوں۔
انہوں نے زور دیا کہ ہر قرآنی محفل میں قرآن کی عزت و احترام کا خاص خیال رکھا جائے، خصوصاً تعزیتی مجالس میں قرآن کی تلاوت کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
آخر میں، امام جمعہ گناوہ نے قرآنی اساتذہ اور منتظمین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر ہر محلے اور ہر مسجد میں قرآن کی تلاوت اور مختصر تفسیر کا سلسلہ شروع ہو جائے تو معاشرے پر اس کے بہت اچھے اثرات پڑیں گے۔
آپ کا تبصرہ