اتوار 4 جنوری 2026 - 17:52
روزِ ولادتِ امام علیؑ کے موقع پر ٹرسپون لونگمہ میں عظیم الشان محفلِ نور کا انعقاد

حوزہ/ ٹرسپون لونگمہ میں یومِ ولادتِ امام علیؑ کے موقع پر محفلِ نور کا شاندار انعقاد کیا گیا، جس میں تلاوتِ قرآن، نعت و منقبت خوانی اور علمائے کرام کے خطابات کے ذریعے امام علیؑ کی ولایت، معرفت اور عصرِ حاضر میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روزِ ولادتِ باسعادت امیرالمؤمنین حضرت امام علی مرتضیٰ علیہ السلام کی مناسبت سے ٹرسپون لونگمہ میں منتظمینِ محفلِ نور کی جانب سے ایک شاندار جشن کا اہتمام کیا گیا۔ اس روحانی محفل میں نعت و منقبت خوانی کے لیے معروف و مشہور مہمانوں کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔

محفل کا باقاعدہ آغاز علی اکبر مزین کی پُراثر تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد مکتبِ صاحب الزمانؑ کے بچوں اور مہمان منقبت خوانوں نے عقیدت و محبت سے بھرپور کلام پیش کر کے محفل کو روحانی فضا سے معطر کر دیا۔

اس بابرکت محفل کی نظامت ماسٹر محمد ہادی میثم نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر منظور علی نے کہا کہ آج کے دور میں ہمیں امام علیؑ کے عمار یاسر اور ابوذرؓ جیسے باعمل پیروکاروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہماری ذمہ داریاں صرف شعر و شاعری تک محدود نہیں بلکہ معاشرے میں امام علیؑ کی معرفت کو عام کرنا ہمارا اولین فریضہ ہے۔

سید جمال موسوی نے اپنے خطاب میں موجودہ حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کے دور کے یزیدی کرداروں کو پہچاننا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک مسلم نوجوان لڑکی کے حجاب پر ہاتھ ڈالنے کے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے معاشرتی اقدار پر حملہ قرار دیا۔

محفل کے اختتامی خطاب میں حجت الاسلام والمسلمین آقا شیخ افتخار حسین انصاری نے اپنی تقریر کا آغاز اس حدیثِ قدسی کے بامعنی فقرے سے کیا: «لَوِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلٰی وِلَایَةِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ مَا خَلَقْتُ النَّار»

انہوں نے کہا کہ امام علیؑ کی ولایت کا اقرار، عبادات کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے، لہٰذا آج کے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ امام علیؑ کی سیرت و معرفت سے آگاہ کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آخر میں شیخ افتخار حسین انصاری کی دعا خیر کے ساتھ یہ روحانی و بابرکت محفل اختتام پذیر ہوئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha