جمعرات 8 جنوری 2026 - 05:29
شیعہ ہونے کے دعوے پر امام جوادؑ کا انتباہ

حوزہ/ بحارالانوار میں نقل ہوا ہے کہ ایک خوشحال شیعہ حضرت امام محمد تقیؑ (امام جوادؑ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اس نے فقراء پر انفاق کیا ہے۔ امامؑ نے فرمایا کہ خود کو “خالص شیعہ” کہنے کا دعویٰ تمہاری اس بخشش کو باطل کر بیٹھا۔ اس شخص نے استغفار کیا اور کہا: میں آپ کا دوست ہوں۔ اس پر امامؑ نے فرمایا: اب تمہارا اجر دوبارہ لوٹا دیا گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک شخص جو خود کو بہت خوش ظاہر کر رہا تھا، حضرت امام محمد تقیؑ (امام جوادؑ) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ امامؑ نے اس سے فرمایا: میں تمہیں اس قدر خوش کیوں دیکھ رہا ہوں؟

اس نے عرض کیا: اے فرزندِ رسولؐ! میں نے آپ کے والدِ گرامی سے سنا ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: سب سے زیادہ خوشی کا مستحق وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ کسی انسان کو نیکی کرنے اور اپنے دینی بھائیوں پر خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آج میرے پاس فلاں جگہ اور فلاں جگہ سے میرے دس دینی بھائی آئے جو غریب اور عیال دار تھے، میں نے ہر ایک کو کچھ رقم اور راشن دیا، اسی وجہ سے میں خوش ہوں۔

حضرت امام جوادؑ نے فرمایا: قسم ہے میری جان کی! تمہیں خوش ہونا چاہیے، بشرطیکہ تم نے اپنے اس نیک عمل کو ضائع اور باطل نہ کیا ہو، یا بعد میں اسے ضائع نہ کر دو۔

اس شخص نے عرض کیا: جبکہ میں آپ کے خالص شیعوں میں سے ہوں، پھر میں اپنا عمل کیسے ضائع کر سکتا ہوں؟

امامؑ نے فرمایا: تم نے ابھی جو بات کہی، اسی سے اپنے نیک اعمال اور انفاق کو باطل کر دیا۔ (یعنی خالص شیعہ ہونے کا دعویٰ کوئی معمولی بات نہیں۔)

اس نے عرض کیا: یہ کیسے؟ ذرا وضاحت فرمائیں۔

امام جوادؑ نے فرمایا: کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی؟

“اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور اذیت دے کر باطل نہ کرو۔”

اس نے عرض کیا: میں نے تو ان لوگوں پر کوئی احسان نہیں جتایا اور نہ ہی انہیں اذیت دی۔

امامؑ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف صدقہ لینے والوں کو اذیت نہ دو، بلکہ فرمایا ہے: اپنی خیرات کو احسان اور اذیت کے ذریعے ضائع نہ کرو، خواہ یہ اذیت انہیں ہو یا کسی اور کو۔

اب بتاؤ، تمہارے نزدیک کس کو اذیت دینا زیادہ سنگین ہے؟

صدقہ لینے والوں کو؟

یا تمہارے اعمال لکھنے والے فرشتوں کو؟

یا ہمیں، یعنی اہلِ بیتؑ کو؟

یہ سن کر وہ شخص سخت پریشان ہو گیا اور عرض کیا: یقیناً فرشتوں اور آپ کو اذیت دینا زیادہ بڑا جرم ہے۔

امامؑ نے فرمایا:bتو نے فرشتوں کو بھی اذیت دی اور ہمیں بھی، اور اپنے صدقات کو ضائع کر دیا۔

اس نے عرض کیا: میں نے کیسے اور کیوں ایسا کیا؟

امام جوادؑ نے فرمایا: تمہارا یہ کہنا کہ “میں آپ کا خالص شیعہ ہوں” — یہی بڑا دعویٰ ہمیں اذیت دینے کا سبب بنا۔

پھر فرمایا: افسوس ہے تجھ پر! کیا تم جانتے ہو کہ ہمارے خالص شیعہ کون ہیں؟

ہمارے خالص شیعہ حزبیل (مؤمنِ آلِ فرعون)، حبیب نجار (صاحبِ یٰسین)، سلمانؓ، ابوذرؓ، مقدادؓ اور عمارؓ جیسے لوگ ہیں۔

تم نے خود کو ان عظیم شخصیات کے برابر لا کھڑا کیا، اور اسی دعوے سے فرشتوں اور ہمیں اذیت پہنچائی۔

اس شخص نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا، توبہ و استغفار کی اور عرض کیا:

اگر میں خود کو آپ کا خالص شیعہ نہ کہوں تو پھر کیا کہوں؟

امامؑ نے فرمایا: یہ کہو: میں آپ کا دوست ہوں، آپ کے دوستوں سے محبت رکھتا ہوں اور آپ کے دشمنوں سے دشمنی رکھتا ہوں۔

اس نے ایسا ہی کہا اور اپنے پہلے قول سے توبہ کی۔ اس موقع پر حضرت امام محمد تقیؑ نے شفقت کے ساتھ فرمایا: اب تمہارے صدقات کا اجر تمہیں واپس مل گیا ہے اور ان کا بطلان ختم ہو گیا ہے۔

حوالہ: بحارالانوار، جلد 68، صفحہ 159

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha