حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے عید بعثت نبوی کے موقع پر ملک کے مختلف عوامی طبقات کے ہزاروں لوگوں سے سنیچر 17 جنوری 2026 کی صبح ملاقات کی۔
انھوں نے اپنے خطاب میں عید بعثت کی مبارکباد پیش کی اور آج کے انسانی معاشرے میں ابتدائے اسلام کے زمانے کی طرح ایک تبدیلی لانے اور جاہلیت، ظلم، منہ زوری، خوف اور سامراجیت میں مبتلا معاشروں کو خیر، نجات اور عزت سے آراستہ معاشروں میں تبدیل کرنے کی اسلام کی بے نظیر صلاحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حالیہ فتنے کے مختلف پہلوؤں اور اس امریکی فتنے کو تیار کرنے والوں اور ترغیب دلانے والوں کے خلاف اسلامی جمہوریہ کے موقف کی تشریح کی۔ انہو نے بارہ جنوری کو عظیم الشان ملک گیر ریلیوں کو ایرانی قوم کا عظیم کارنامہ قرار دیتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ایرانی قوم نے فتنے کی کمر توڑ دی تاہم اس فتنے اور اس کے تربیت یافتہ اور جھانسے میں آ جانے والے ایجنٹوں کی ماہیت اور اہداف کو اچھی طرح سے سمجھنا اور پہچان لینا چاہیے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے پیغمبر عظیم الشان اسلام کی بعثت کو قرآن کی ولادت، انسان کامل کی تربیت کے لیے الہی پروگرام سے انسان کی آگہی، اسلامی تمدن کے آغاز اور عدل، اخوت اور مساوات کا پرچم لہرانے کا دن بتایا۔ انھوں نے کہا کہ آج کا انسانی معاشرہ خاص طور پر مغربی معاشرے اُن ہی گہری اخلاقی برائیوں، ظلم، ناانصافی، منہ زوری اور استحصال جیسی برائیوں میں مبتلا ہیں اور اسلام اور مومن اور اسلام کے پابند مسلمان آج کی تباہی اور برائی کی کھائی کی طرف بڑھ رہی دنیا کو، خیر، نجات اور عزت کی چوٹیوں کی سمت اور جہنم کی سمت سے جنت کی سمت لے جا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ گہرے اور عمومی ایمان کے ساتھ کام کریں۔
انھوں نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں حالیہ فتنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو عوام کو تکلیف اور ملک کو نقصان پہنچنے کا سبب بنا کہا کہ اس فتنے کی ماہیت امریکی تھی جسے اپنے کام سے واقف عہدیداروں اور سیکورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، انھوں نے مختلف سازشوں میں امریکیوں کے اصل ہدف کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا مسلسل ہدف اور پالیسی، جو صرف موجودہ امریکی صدر سے مختص نہیں ہے، ایران کو نگلنا اور ہمارے ملک پر اپنے عسکری، سیاسی اور معاشی تسلط کو دوبارہ بحال کرنا ہے کیونکہ ایک انتہائي حساس جغرافیائی علاقے میں اتنا وسیع و عریض، اتنی آبادی، اتنے وسائل و ذخائر کا حامل اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں اتنی پیشرفت کرنے والا ملک، امریکیوں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
آيت اللہ خامنہ ای نے پچھلے فتنوں میں مغربی حکام کی مداخلت کی سطح کو، زیادہ تر اخبار و جرائد اور دوسرے درجے کے سیاستدانوں تک محدود بتایا اور کہا کہ اس فتنے کی خصوصیت یہ تھے کہ اس میں امریکی صدر بذات خود شامل ہوا، بات کی، دھمکی دی اور بلوائیوں کو ترغیب دلاتے ہوئے انھیں پیغام دیا کہ آگے بڑھو، ڈرو نہیں اور ہم تمھاری فوجی مدد کریں گے۔ انھوں نے بلوائیوں اور قاتلوں کو ایرانی قوم کے طور پر متعارف کرانے کے امریکی صدر کے بیان کو ایرانی قوم پر ایک بڑی تہمت بتایا اور کہا کہ امریکی صدر نے کھلم کھلا بلوائیوں کی پیٹھ تھپتھپائی اور پردے کے پیچھے سے امریکا اور صیہونی حکومت نے ان کی مدد کی، بنابریں ہم امریکی صدر کو مجرم سمجھتے ہیں، جانی نقصان کے لیے بھی، مالی نقصان کے لیے بھی اور اس تہمت کے لیے بھی جو اس نے ایرانی قوم پر لگائی۔
انھوں نے فتنے کے زمینی عناصر کے بارے میں کہا کہ اس فتنے میں جو عناصر کام کر رہے تھے وہ دو طرح کے تھے؛ ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جنھیں امریکا اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں نے بہت ہوشیاری سے منتخب کیا تھا اور بے تحاشا پیسے کے علاوہ انھیں ٹریننگ بھی دی تھی اور ان خبیث اور مجرم ایجنٹوں میں سے ایک بڑی تعداد کو پولیس اور سیکورٹی فورسز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پکڑ لیا ہے۔ انھوں نے فتنے کا دوسرا زمینی عنصر ان نوجوانوں کو بتایا جو پہلے گروہ سے متاثر تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ دوسرا گروہ صیہونی حکومت یا خفیہ ایجنسیوں سے رابطے میں نہیں تھا بلکہ یہ کچھ ناپختہ لوگ تھے جنھیں گروپ لیڈر اپنے زیر اثر رکھتا تھا اور یہ لوگ جوش میں آ کر شیطانی کام کرتے تھے۔ رہبر انقلاب نے کہا کہ یہ پیادے تھے اور ان کا کام عمارتوں، گھروں، دفتروں اور صنعتی مراکز پر حملہ تھا اور افسوس کی بات ہے کہ ان نادان اور ناآگاہ افراد نے اپنے خبیث اور ٹرینڈ گروپ لیڈرز کے ساتھ مل کر ڈھائی سو مساجد اور ڈھائی سو تعلیمی و سائنسی مراکز کو تباہ کرنے، بجلی کے مراکز، بینکوں، اسپتالوں اور راشن کی دکانوں کو نقصان پہنچانے جیسے برے کام اور بڑے جرائم انجام دیے۔
رہبر انقلاب نے ایک مسجد میں کچھ جوانوں کو محصور کرنے اور پھر انھیں زندہ جلانے یا تین سالہ بچی اور بے قصور اور نہتے مردوں اور عورتوں کو قتل کرنے جیسی غیر انسانی اور وحشیانہ کارروائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سارے کام، فتنے کی پہلے سے تیار سازش کا حصہ تھے اور بلوائیوں کے پاس چاقو، تلوار اور کلہاڑی جیسے ہتھیاروں کے علاوہ آتشیں ہتھیار بھی تھے جو ملک کے باہر سے لائے گئے تھے اور اس طرح کے غیر انسانی جرائم کے لیے بلوائیوں کے درمیان تقسیم کیے گئے تھے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایرانی قوم نے فتنے کی کمر توڑ دی ہے، کہا کہ ایرانی قوم نے بارہ جنوری کو دسیوں لاکھ کی تعداد میں ریلیوں میں شریک ہو کر اس دن کو اپنے بے شمار افتخارات کی کتاب کے ایک تاریخی دن میں تبدیل کر دیا اور دشمن کے منہ پر ایک زوردار مکّا رسید کر کے فتنے کا خاتمہ کر دیا۔
انھوں نے حالیہ فتنے میں ایرانی قوم کے ہاتھوں امریکا کی شکست کو، بارہ روزہ جنگ میں امریکا اور صیہونی حکومت کی شکست کا تسلسل بتایا اور کہا کہ انھوں نے یہ فتنہ بہت ساری تمہیدوں کے ساتھ، زیادہ بڑے کاموں کے لیے شروع کرایا تھا تاہم قوم نے اس فتنے کو دبا دیا لیکن یہ کافی نہں ہے اور امریکا کو اپنی کارروائیوں کے لیے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ وزارت خارجہ سمیت تمام ذمہ دار اداروں پر امریکا کے حالیہ جرائم کے خلاف کام کرنے کا ذمہ ہے اور ہم ملک کو جنگ کی طرف نہیں لے جائيں گے لیکن داخلی مجرم اور ان سے بھی بڑھ کر بین الاقوامی مجرموں کو نہیں چھوڑیں گے، یہ کام اپنے طریقوں سے اور صحیح روش سے انجام دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ خداوند عالم کی توفیق سے ایرانی قوم نے جس طرح فتنے کی کمر توڑی ہے، اسی طرح وہ فتنہ کی منصوبہ بندی کرنے اور پھیلانے والے کی بھی کمر توڑ دے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں امریکی و صیہونی فتنے کے خلاف فاتحانہ مقابلے میں عہدیداروں، پولیس، سیکورٹی فورسز، آئی آر جی سی اور بسیج (رضاکار فورس) کی دن رات کی محنت اور قربانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سبھی ملکی حکام نے تعاون کیا اور آخری وار قوم نے کیا اور اپنے اتحاد سے کام کو ٹھوس طریقے سے انجام تک پہنچایا۔
انھوں نے لوگوں کے معاشی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں عہدیداران اور ذمہ داران کی جانب سے مزید کام کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ معاشی صورتحال، اچھی نہیں ہے اور لوگوں کی معیشت واقعی مشکل میں ہے، سرکاری حکام کو بنیادی ضرورت کی اشیاء کی فراہمی جیسے بعض شعبوں میں زیادہ سنجیدگي سے اور دوہری محنت کرنی چاہیے اور اگر عوام اور حکام اپنی ذمہ داریوں پر صحیح طریقے سے عمل کریں تو پروردگار عالم یقینی طور پر برکت دے گا۔ انھوں نے عوام کے اتحاد کی حفاظت پر مبنی اپنی ہمیشہ کی نصیحت کو دوہراتے ہوئے کہا کہ جماعتی، سیاسی اور نظریاتی جھگڑے لوگوں کے درمیان نہیں آنے چاہیے اور ہم سبھی کو اسلامی نظام اور وطن عزیز ایران کے دفاع کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ اور متحد رہنا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ