حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ممبئی/ البقیع آرگنائزیشن شکاگو امریکہ کی جانب سے اردو زبان کے مشہور و معروف شعرائے کرام کے ساتھ ایک عظیم الشان انٹرنیشنل کانفرنس و مسالمہ آن لائن حجت الاسلام و المسلمین سید محبوب مہدی عابدی نجفی کی صدارت میں برگزار ہوا ۔
مولانا محبوب عابدی نے اپنی صدارتی تقریر میں شعرائے کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ قرآن کریم میں جن شعرا کی مذمت کی گئی ہے یہ وہ شعرا ہیں جن کے اشعار حق کی حمایت میں نہیں ہوتے اس سے یہ خوبصورت نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ شعرا قابل تعریف ہیں جن کے اشعار حق کی تائید و حمایت میں ہوتے ہیں ۔
مولانا موصوف نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے بیان کیا کہ ہم جب کربلا ، نجف ، کاظمین ، سامرہ ، مشہد اور قم کے خوبصورت روضوں کو دیکھتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے لیکن جب جنت البقیع میں معصومین کی ٹوٹی ہوئی قبروں پر نگاہ پڑتی ہے تو دل کو ایسی چوٹ لگتی ہے جسے الفاظ کے ذریعے بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ البقیع آرگنائزیشن کی کوشش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہاں خوبصورت روضہ تعمیر نہیں ہو جاتا ۔
شہر پونا سے مولانا اسلم رضوی نے کہا کہ بقیع کی تعمیر کے لیے اس تحریک میں شامل ہو کر جب شعرائے مودت اشعار کہیں گے تو اس کا اثر کچھ زیادہ ہی ہوگا ۔ مولانا اسلم رضوی نے کہا کہ ہمیں جنت البقیع کی تعمیر کے لیے پوری طاقت و قوت سے اس تحریک میں شامل ہونا چاہیے ہمارا کام کوشش کرنا ہے نتیجے پر نگاہ نہیں ہونا چاہیے ۔" السعی منی والاتمام من الله " روز قیامت جزا ، عمل کی بنیاد پر دی جائے گی نتیجے کی بنیاد پر نہیں ۔
اس منعقدہ کانفرنس اور مسالمے میں ملک ہندوستان ، امریکہ ، کینیڈا اور جرمنی کے معتبر شعرائے ذو الاحترام نے اپنے پر مغز و مدلل منقبت سے اس کانفرنس کو یادگار بنا دیا ۔ قارئین کے لیے ہر شاعر کے دو منتخب اشعار پیش کیے جا رہے ہیں ۔
شہر لکھنؤ سے بہترین خطیب ، شاعر ، ادیب اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ناظم جناب نیر جلالپوری کے دو اشعار ملاحظہ ہوں ۔
جس کو تاریخ وفا کرب و بلا کہتی ہے
ہے میرا خون پسینہ میں ابو طالب ہوں
میں تمہارے لیے کافر ہوں مگر احمد نے
عقد مجھ سے ہی پڑھایا میں ابوطالب ہوں
کینیڈا سے ظفر عباس ظفر نے ممدوح کی بارگاہ میں زبردست اشعار پیش کیے موصوف کے صرف دو اشعار حاضر ہیں ۔
کل ایماں کی سند لے کر رسول اللہ سے
کتنا اونچا کر گئے حیدر ابوطالب کا نام
مصطفیٰ نے خود منایا ان کا غم اک سال تک
غم کی صورت لکھ دیا دل پر ابوطالب کا نام
سانکھنی کی سر زمین سے جناب چاند فیضی کے دو اشعار پیش کیے جارہے ہیں ۔
کوئی آواز بھی زینب کی نہ سننے پائے
اس طرح دشت میں عباس نے خیمے بانٹے
جس کے قرآن میں خالق نے قصیدے لکھے
وہ محمد بھی ثنا خوان ابوطالب ہے۔
جرمنی سے جناب سید اقبال حیدر نے اپنے اشعار کے ذریعے بارگاہ عصمت و طہارت میں بہترین نذرانہ عقیدت پیش کیا ، آپ کے دو اشعار یہ ہیں ۔
مٹ جائے نام دین کا آل نبی کے ساتھ
یہ چاہتے تھے اہل جفا جنت البقیع
برساتا ہے فلک جو اماموں کی قبر پر
شبنم نہیں، ہیں اشک عزا جنت البقیع
شکاگو امریکہ سے جناب نور علی نور کے دو اشعار قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
زمیں پر نور وحدت کے حسیں احساس دو ہوتے
خدا کے چہرہ انور کے بھی عکاس دو ہوتے
جناب حضرت محسن جو آجاتے جوانی تک
سپاہ حضرت شبیر میں عباس دو ہوتے
ایس این این چینل کے ایڈیٹر ان چیف مولانا علی عباس وفا نے اس آن لائن کانفرنس میں نظامت کے فرائض انجام دیے۔ آخر میں مولانا محبوب مہدی عابدی نے اس کانفرنس کے شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔









آپ کا تبصرہ