ہفتہ 7 فروری 2026 - 11:00
خدا سے قرب کا مطلب واقعی طور پر مراتب اور مراحلِ ہستی کا طے کرنا ہے

حوزہ / انسان خدا کی طرف اختیاری رجوع کے ذریعے مراتبِ وجود طے کرتا ہے۔ یہ عروج کوئی تشریفاتی امر نہیں بلکہ علم اور قدرت میں کمال حاصل کرنا اور ہستی کے لامحدود سرچشمے کے حقیقی طور پر قریب ہونا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد شہید مطہری نے اپنی ایک تصنیف میں «خداوند سے تقرب» کے موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے جو اہلِ فکر کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

تمام موجودات خصوصاً انسان «اِنّا لِلّٰهِ وَ اِنّا اِلَيهِ راجِعونَ» کے حکم کے مطابق خداوند کی طرف لوٹتے ہیں۔

انسان اپنے وجودی مرتبے کے تقاضے کے مطابق اس بازگشت کو اطاعت اور اختیاری عمل اور فریضے کی ادائیگی اور انتخاب و اختیار کی صورت میں انجام دیتا ہے۔

انسان پروردگار کی اطاعت کے راستے پر چل کر واقعی طور پر قربِ الٰہی کے مراتب اور درجات طے کرتا ہے یعنی حیوانی مرحلے سے اوپر مُلک سے بھی بلند مرحلے تک پہنچ جاتا ہے۔

یہ صعود اور تعالی کوئی پروٹوکول اور اداری امر نہیں، نہ ہی کوئی معاہدہ اور اعتباری ہے۔

یہ کسی ادارے کی سادہ رکنیت سے وزارت تک پہنچنے یا کسی جماعت کی عام رکنیت سے اس کی قیادت تک جانے کے مانند نہیں۔

بلکہ یہ وجود کی سیڑھی پر سے اوپر جانا ہے۔

یہ انسان کو وجود کی شدت اور قوت اور کمال کا حاصل ہونا ہے جو علم اور قدرت اور حیات اور ارادہ اور مشیت میں اضافہ اور دائرۂ نفوذ اور تصرف کے پھیلاؤ کے مترادف ہے۔

خداوند متعال سے تقرب کا مطلب یہ ہے کہ واقعی طور پر مراتب اور مراحلِ ہستی کو طے کیا جائے اوراس ہستی کے لامحدود مرکز کے قریب ہوا جائے۔

ماخذ: استاد مطہری، ولاءها و ولایت‌ها، ص 91

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha