حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہای نے «مذاق کے طور پر افراد کا مذاق اُڑانے» کے موضوع پر کیے گئے ایک استفتاء کا جواب دیا ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
سوال: اگر ہمیں یقین ہو کہ سامنے والا شخص ناراض نہیں ہوگا، تو کیا مذاق میں اس کا مذاق اُڑانا جائز ہے؟
جواب: کسی بھی شخص کی تحقیر یا تمسخر کرنا جائز نہیں ہے، اور اگر وہ خود راضی بھی ہو تو اس کی رضامندی شرعی حکم پر اثر انداز نہیں ہوتی۔
البتہ اگر مذاق اُڑانے کی نیت نہ ہو اور عرف میں بھی اسے توہین یا تمسخر شمار نہ کیا جاتا ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔









آپ کا تبصرہ