منگل 17 فروری 2026 - 16:37
دینی اجتماعات اور مجالس کے انعقاد میں علماء کے کردار کو پس پشت نہیں ڈالنا چاہیے

حوزہ / آیت اللہ محمد مہدی شب زندہ دار نے کہا: اسلامی معارف کی نشر و اشاعت، اخلاق کی ترویج اور دینی تعلیمات کی گہرائی علماء کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ہیں۔ اگر دینی محافل اور مجالس کے انعقاد میں علماء، طلاب اور حوزہ علمیہ کے فضلاء کے کردار کو بتدریج پس پشت ڈال دیا جائے اور انہیں خطابت اور معارف کی توضیح کے لیے مدعو نہ کیا جائے تو یہ رویہ طویل مدت میں منفی نتائج کا باعث بنے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کی اعلیٰ کونسل کے سیکرٹری آیت اللہ محمد مہدی شب زندہ دار نے ایرانی دارالحکومت تہران کے میئر علی رضا زاکانی اور ان کے معاونین سے شہر قم میں ہوئی ملاقات کے دوران نظام اسلامی میں ہدفمند منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہر قسم کی منصوبہ بندی فطری طور پر واضح اور متعین اہداف پر مبنی ہونی چاہیے یعنی پہلے کلیدی اہداف متعین کیے جائیں اور پھر ان اہداف کے تحقق کے لیے منصوبہ بندی اور عملی اقدامات انجام دیے جائیں۔

انہوں نے کہا: حکومت اسلامی اور کریمہ اسلامی ریاست بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ ضروری ہے کہ واضح طور پر یہ طے کیا جائے کہ اسلامی نظام کن اہداف کا تعاقب کر رہا ہے اور انہی اہداف کی بنیاد پر پالیسی سازی اور عملی اقدام کیا جائے۔

دینی اجتماعات اور مجالس کے انعقاد میں علماء کے کردار کو پس پشت نہیں ڈالنا چاہیے

آیت اللہ شب زندہ دار نے اسلام اور اہل بیت علیہم السلام کے معارف و اہداف بیان کرنے کے طریقے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلام کے تربیتی اسالیب میں سے ایک یہ ہے کہ کبھی بلند معارف، احکام اور عظیم اہداف کو دعا کے قالب میں بیان کیا جاتا ہے، اس انداز سے کہ قلبی توجہ، خداوند متعال سے انس اور حق تعالیٰ سے محبت کی کیفیت کو تقویت ملتی ہے اور ساتھ ہی الٰہی اہداف اور معارف کی طرف رہنمائی بھی ہوتی ہے۔

انہوں نے ماہِ مبارک رمضان کے قریب پڑھی جانے والی دعائے افتتاح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس دعا میں نہایت عمیق اور وسیع معارف نیایش کے قالب میں بیان ہوئے ہیں۔ اس دعا کا ایک اہم فقرہ یہ ہے: «اللهم انا نرغب الیک فی دولة کریمة…» جس میں مؤمنین خداوند متعال سے “دولتِ کریمہ” کے قیام کی دعا کرتے ہیں۔

جامعہ مدرسینِ حوزہ علمیہ قم کے رکن نے کہا: دولتِ کریمہ کا مفہوم صرف فردی عبادات جیسے نماز اور روزہ تک محدود نہیں۔ دعائے افتتاح ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دین محض ظاہری عبادات تک محدود نہیں بلکہ اسلامی معاشرہ ایک ایسی حکومت کا محتاج ہے جو الٰہی اہداف کے تحقق کے لیے مناسب بستر فراہم کر سکے۔

دینی اجتماعات اور مجالس کے انعقاد میں علماء کے کردار کو پس پشت نہیں ڈالنا چاہیے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha