حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ اسکردو بلتستان حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ محمد حسن جعفری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ علما کی ملاقات کے دوران اختیار کیا گیا لہجہ اور ادا کیے گئے کلمات نہ صرف غیر مناسب بلکہ انتہائی افسوسناک ہیں، جو کسی بھی ذمہ دار اور اعلیٰ منصب پر فائز شخصیت کے شایانِ شان نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑے عہدوں پر فائز افراد کے الفاظ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں، لہٰذا اس نوعیت کی گفتگو نہ صرف علما کی توہین کے مترادف ہے بلکہ اس سے ملتِ تشیع اور قومی اداروں کے درمیان غیر ضروری خلیج پیدا ہونے کا خطرہ بھی ہے۔
شیخ محمد حسن جعفری نے واضح کیا کہ کسی بھی طبقے، بالخصوص علما اور ملتِ تشیع کے ساتھ اس انداز میں گفتگو ناقابلِ قبول ہے اور یہ رویہ قومی اتحاد و یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے اس بیان پر بھی تنقید کی کہ "اگر کسی کو ایران سے ہمدردی ہے تو وہ وہاں چلا جائے"، اور اسے غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنے عقائد، مقدسات اور مظلومین کے ساتھ ہمدردی رکھنا کوئی جرم نہیں، اور نہ ہی اس بنیاد پر کسی کی حب الوطنی پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی ایک سوچ کی جاگیر نہیں بلکہ سب کا مشترکہ وطن ہے، اور اسی پیغام کو 23 مارچ یومِ پاکستان کے موقع پر مینارِ پاکستان پر بھی دہرایا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملتِ تشیع نے ہر میدان میں نمایاں قربانیاں دی ہیں، بالخصوص 1948 میں گلگت بلتستان کو ڈوگرا راج سے آزاد کروا کر پاکستان میں شامل کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔
امام جمعہ اسکردو نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر فوری وضاحت اور معذرت سامنے آنی چاہیے تاکہ پیدا ہونے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔
انہوں نے وفاقی سطح پر قائم کی گئی جے آئی ٹی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس معاملے پر پہلے ہی انجمن امامیہ کے مطالبات کی روشنی میں جوڈیشل کمیشن قائم کیا جا چکا ہے۔ ایک متوازی فورم قائم کرنا غیر ضروری ہونے کے ساتھ شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر واقعی امن و امان اور شفافیت مقصود ہے تو جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات مکمل کر کے اس کی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے اور انجمن امامیہ کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ احترام دو طرفہ ہوتا ہے، اور قومی یکجہتی کے لیے مہذب اور باوقار گفتگو ناگزیر ہے۔









آپ کا تبصرہ