حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی/ ایران کو اپنی بصیرت افروز قیادت، باہمت ملت اور وفادار و بہادر افواج کو برکت سے یقیناً دفاعی محاذ پر چالیسویں روز عظیم الشان اور تاریخی کامیابی نصیب ہوگی، اِن خیالات کا اظہار دنیائے اسلام کے معروف و معتبر اسکالر حجتہ الاسلام و المسلمین الحاج سید ابو القاسم رضوی، صدر شیعہ علماء کاؤنسل، آسٹریلیا نے دہلی کے مشہور دینی علمی مرکز باب العلم، جامعہ نگر، اوکھلا میں مولانا سید محمد عون نقوی کے والدین اور ہمشیرہ کے ایصالِ ثواب کے لیے منعقد مجلس سید الشہداء میں تین روز قبل کیا ۔
خُدا جانے مولانا رضوی نے دل کے کون سے گوشے اور کس یقین و اعتماد کے ساتھ یہ اظہار کیا کہ ربِ کریم نے بھی اپنے دین کے اس مبلغ کی لاج اس انداز میں رکھی کہ اُس نے ایران کی فتح و کامیابی اُسی دن کے لیے مقرر فرما دی ۔

خطیبِ مجلس نے سورۂ آلِ عمران کی آیت "كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ" کے ذیل میں حقیقتِ موت، مقامِ والدین، ضرورتِ وصیت، اہمیتِ علم و حکمت، اور مقامِ شہداء و علماء خصوصاً شہیدِ رہبرِ معظم پر مفصل روشنی ڈالی۔ نیز مودّتِ اہلِ بیتؑ اور حضرت شہزادیٔ کونینؑ کی عظمت و منزلت کو بھی بیان کیا۔ خطیبِ مجلس نے
کہا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، جس کا انکار کسی مذہب یا نظریے کا پیروکار نہیں کر سکتا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ دنیا فانی اور ایک امتحان گاہ ہے، جہاں ہر ذی روح کو مقررہ مدت کے بعد موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ موت کے بعد ذرّہ برابر اعمالِ خیر و شر کا حساب ہوگا اور انسان کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دی جائے گی۔ لہٰذا عقلمند اور باشعور وہی ہیں جو اس عارضی زندگی میں اپنی دائمی کامیابی کی فکر اور تیاری کریں۔
مولانا نے واقعۂ کربلا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کربلا منشائے پروردگار کا ایک عظیم شاہکار ہے کہ وہاں جس خاندان کو مٹانے کی کوشش کی گئی، آج وہی نسل باقی اور سربلند ہے۔ یہ بات کی واضح دلیل ہے کہ حیات و ممات کا مالک صرف اللہ ہے۔ مولانا موصوف نے حضرت قاسم بن حسنؑ کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی نے موت کے ذائقہ کو آشکار کر دیا، ورنہ لوگ موت کو صرف خوف سمجھ کر سعادتِ شہادت سے محروم رہتے۔

آخر میں مصائبِ کربلا بیان کیے گئے اور ایک پراثر و رقت انگیز انداز میں دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔
مجلس کا آغاز مولانا طالب حسین نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا، جبکہ سوز و مرثیہ خوانی صابر حسین چرتھاولی و ہمنوا، پیش خوانی بزرگ شاعر امیر حیدر نانانوتی اور نظامت کے فرائض معروف شاعر ارمان عارفی چرتھاولی نے انجام دیے۔
مجلس میں مولانا سید محمد علی عون نقوی، مولانا سید انتخاب زیدی، مولانا سید تمیز الحسن رضوی، مولانا طالب حسین، اسلامی اسکالر و خطیب سید قمر عباس قنبر نقوی سرسوی، مولانا سید حیدر زیدی، مولانا سید مہدی، مولانا شیخ عارف مبارک پوری، مولانا سید اصغر عباس، مولانا گوہر، مولانا حسینی، مولانا مرزا عمران علی سانکھنوی سمیت جملہ شعبہائے زندگی کے ممتاز افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔









آپ کا تبصرہ