حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ فلسطین میں مسیحی برادری کے خلاف نفرت اور تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں ایک راہبہ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئیں۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حالیہ دنوں میں مسیحیوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے انادولو اور اسرائیلی اخبار "ٹائمز آف اسرائیل" کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 36 سالہ شخص نے مشرقی بیت المقدس میں ایک راہبہ کو نشانہ بنایا۔ متاثرہ راہبہ فرانسیسی بائبلی و آثارِ قدیمہ کے ادارے سے وابستہ تھیں اور اس حملے میں ان کے سر پر چوٹ آئی۔
ادارے کے ڈائریکٹر اولیویے پوکیون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنے بیان میں اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا۔
دوسری جانب، خطے میں مسیحی برادری کو مسلسل عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ غزہ، مغربی کنارہ، مشرقی بیت المقدس اور جنوبی لبنان میں رہنے والے مسیحی افراد نہ صرف جسمانی حملوں بلکہ املاک کی تباہی، توہین آمیز رویوں اور مقدس مقامات کو نذرِ آتش کرنے کی کوششوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔
خصوصاً جنوبی لبنان کے علاقے دیر سریان میں 19 اپریل 2026 کو پیش آنے والا واقعہ بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا، جب ایک اسرائیلی فوجی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو ہتھوڑی سے توڑتے ہوئے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کی تصدیق خود اسرائیلی فوج نے بھی کی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعات نہ صرف مذہبی منافرت کو ہوا دے رہے ہیں بلکہ خطے میں موجود اقلیتوں کے تحفظ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔









آپ کا تبصرہ