حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی فوج نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ لبنان کے اعلیٰ کمانڈروں میں سے ایک کو ایک ٹارگٹ حملے میں شہید کر دیا ہے۔ عبرانی میڈیا نے آج صبح یہ دعویٰ کیا تھا جس کے بعد اسرائیلی فوج نے اپنے سرکاری بیان میں اس کی تصدیق کر دی۔
اسرائیلی فوج کے عرب ترجمان "آویخای ادرعی" نے بتایا کہ "احمد غالب بلوط" رضوان فورس میں اہم عہدوں پر فائز تھے اور وہ اس یونٹ میں آپریشنز کا کمانڈر تھے۔ ترجمان کے مطابق بلوط کی ذمہ داریوں میں اسرائیلی فوج کے خلاف جنگ کی تیاریاں کرانا اور یونٹ کو متحرک کرنا شامل تھا۔
ادرعی نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ جنگ خصوصاً حالیہ دنوں میں بلوط نے رضوان فورس کو قیادت فراہم کی اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے خلاف درجنوں حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ ان حملوں میں اینٹی ٹینک میزائل داغنا اور دستی بم نصب کرنا شامل ہے۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ بلوط رضوان فورس کی صلاحیتوں کی بحالی اور ’منصوبہ الجلیل‘ کو فعال کرنے میں مصروف تھے۔
واضح رہے کہ رضوان فورس حزب اللہ کے بڑے اور انتہائی تربیت یافتہ کمانڈو یونٹ ہے جسے زمینی کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ تاہم حزب اللہ کی طرف سے اب تک اس دعوے پر کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ اسرائیل اس سے قبل بھی حزب اللہ کے رہنماؤں کے بارے میں غلط دعوے کرتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ خبر اسرائیلی فوج کے دعوے پر مبنی ہے، حزب اللہ کی جانب سے کوئی سرکاری موقف جاری نہیں کیا گیا ہے۔









آپ کا تبصرہ