تہران میوزیم میں بکھرے امریکی غرور کے پرخچے

حوزہ/ ایران میں مقیم ماہر تجزیہ کار محمد بشیر دولتی اپنے اس خصوصی مشاہداتی سفرنامے میں بارہ روزہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کے حالات، جنگی اثرات اور دفاعی تیاریوں کا چشم دید احوال پیش کر رہے ہیں۔ اس تحریر میں تہران کے حساس مقامات، عسکری میوزیم، جدید ایرانی دفاعی ٹیکنالوجی اور امریکی جاسوس ڈرون کی تباہی سے جڑے اہم اور حیرت انگیز حقائق بیان کیے جائیں گے، جو خطے کی بدلتی عسکری حقیقتوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی|

تحریر: محمد بشیر دولتی

سلسلہ جہاد تبیین حصہ الف

بارہ روزہ امریکہ اور اسرائیلی حملے کے بعد یہ ہمارا تہران کا پہلا سفر تھا۔

یہ دراصل دو روزہ جھاد تبیین پر مشتمل مشاہداتی دورہ تھا۔ ایک فرہنگی گروہ کے مسئول کی جانب سے ہمیں بھی اس وفد میں شامل ہونے کی دعوت دی جسے ہم نے غنیمت سمجھ کر قبول کیا۔ یہ بارہ روزہ جنگ کے بعد قم سے کسی بھی گروپ کا تہران کا پہلا دورہ تھا ۔ یہ دورہ دراصل امریکہ اور اسرائیل کی جنایت کاروں ، ان کے بڑے اور نامور سائنسدانوں اور عوامی مقامات پر ہونے والے اندھادھند حملوں اور اس کے اثرات کو نزدیک سے دیکھنے کا بہترین موقع تھا ، چونکہ یہ ایک مشاہداتی دورہ تھا اس لئے ہمیں تھران کے ایک انتہائی اہم

میوزیم میں بھی لےجایا گیا جہاں مختلف جنگی طیارے، میزائلز،راڈارز اور ڈرونز اصلی شکل میں موجود تھے۔

میوزیم کا اصل مسئول سپاہ کا کوئی سردار تھا جو بقول ان کے اپنے "بابائے میزائل تھرانی مقدم شھید" کے قریبی ساتھیوں اور پہلی مرتبہ میزائل لینے کے لئے لیبیا اور سیکھنے کے لئے شام جانے والے وفد کا حصہ تھا۔انہوں نے آخر میں ایک کلی بریفننگ دی جس میں انہوں نے امریکہ سے زمینی جنگ کی بجائے اب خلاء میں لڑنے کی تیاریوں کے بارے میں بات کر کے ہم سب کو حیرت میں ڈال دیا ،باقی ہر پورشن جیسے میزائلز، ڈرونز اور راڈارز کے بارے میں الگ الگ مسئول تفصیل سے بریفننگ دے رہا تھا۔

میرے لئے اس پورے میوزیم میں چار چیزیں انتہائی دلچسپ تھیں۔

سب سے زیادہ دلچسپ اور حیرت مجھے وہاں پر موجود ایک دیوہیکل مگر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ڈرونز سے ہوا ۔ اپنی جسامت کے سبب یہ ڈرون کم البتہ ہیلی کاپٹر زیادہ لگ رہا تھا۔

پینتیس ارب کی مالیت سے بنا گلوبل ڈیوک ہاٹ ڈرون طیارہ دنیا کا وزنی ترین ،جدید ترین اور مہنگا ترین ڈرون جو ایک لمحے میں چالیس ہزار سکوئیر میل کی بلندی سے نیچے زمین پر ہونے والی حرکتوں کو ریکارڈ کر کے سیکنڈوں میں اپنے مرکز کی طرف منتقل کرسکتا تھا۔ اس کی اسپیڈ امریکن لڑاکا طیارہ F16 سے چار گنا زیادہ تیز اور اس کی بناوٹ ایسی تھی کہ امریکیوں کے مطابق ریڈار سے اسے دیکھنا بھی ممکن نہیں تھا کسی میزائل سے اسے ہٹ کرنا بہت دور کی بات تھی۔

20 جون 2019 کو بدھ اور جمعرات کے درمیانی رات جنوبی خلیج میں موجود امریکہ کے کسی اڈے سے اڑا تھا۔وہ اپنی تمام تر شناخت چھپا کر اونچی اڑان اڑتا ہوا آبنائے ہرمز کے راستے سے چابہار ایران کی طرف بڑھ رہا تھا۔ نہ اس سے اوپر کوئی چیز تھی نہ اس سے نیچے کوئی چیز، وہ نیلے سمندر کے بلکل اوپر،

نیلے آسمان کے بلکل نیچے، اپنی جدید پیشرفتہ ٹیکنالوجی اور ہیبت کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔۔۔

صبح سویرے مشرق سے سورج کی پو پھوٹنے سے پہلے وہ ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوا۔ چار بج کر پانچ منٹ پر ایرانی حدود میں داخل ہوتے ہی امریکہ کے اس دیوہیکل،پیشرفتہ،ریڈار میں دکھائی نہ دینے والے ڈرون کو ایرانی ڈیفینس کے مقامی ساختہ سسثم نے نہ فقط دیکھ لیا بلکہ خود ایران کے مقامی تیار کردہ ٹیکنالوجی ئیرکرافٹ سے باآسانی اسے ٹارگٹ کیا یوں اگلے ہی لمحے میں وہ ایک زخمی عقاب کی مانند لڑکھڑاتا ہوا خلیج فارس میں آگرا۔

ایران نے جب اس خبر کو نشر کیا تو لوگوں نے یقین ہی نہیں کیا کہ کیسے ایران ایک امریکی پیشرفتہ ڈرون کو گرا سکتا ہے؟

امریکہ نے بھی شروع میں اس خبر سے لاعلمی کا اظہار کیا، کچھ لوگ سوشل میڈیا پر ایران کے اس دعوای کا مزاق اڑا ہی رہے تھے کہ ایران نے اس ڈرون کے باقیات کی نمائش کی۔

اس کے بعد صدر ٹرمپ آگ بگولہ ہوگیا۔۔۔وہ اس کے جواب میں ایران پر حملے کا اعلان اور اس کی تیاری کرنے لگا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ امریکی جاسوس ڈرون کو گرانے پر جلد بازی سے کام لیتے ہوئے ایران پر حملہ نہ کرے چونکہ اس وقت نتن یاہو کسی جوابی حملے کے لئے تیار نہیں تھا، چونکہ اس وقت غزہ سے شام تک ،عراق سے پاکستان تک اسرائیل مخالف لوگ حکومت میں تھے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ ایک ڈرون گرانے پر آخر ایران پر حملے کی تیاری کیوں کی ؟ اس راز کو سمجھنا ہے تو ہمیں امریکی عسکری ماہر اولریک فرینک کے اس بیان کو سمجھنا ہوگا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جدید اور مہنگے ڈرون گرانے کے بعد ایران نے امریکہ کی فوجی حیثیت کی دھجیاں بکھیر دی ہے اب امریکی حکومت کا رد عمل کیا ہوگا؟

صدر ٹرمپ نے رد عمل دکھاتے ہوئے ایران میں مذہبی مقامات سمیت بعض دیگر عسکری مقامات

پر حملے کی دھمکی دی تھی لیکن اس وقت امریکہ حملہ نہیں کرسکا۔

بعد میں ٹرمپ نے حملہ نہ کرنے کی توجیہ یہ بتائی کہ ان حملوں میں دوسو کے قریب بے گناہ ایرانی قتل ہو سکتے تھے اس لیے حملہ نہیں کیا۔

تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے نتن یاہو نے غزہ پر فضائی حملہ کیا تھا جس کے بعد اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی میڈیا پہ دھمکی دی تھی کہ اگر حماس اور غزہ پر حملہ بند نہیں ہوا تو اسرائیل کو اس کی سزا بھگتنی ہوگی پھر دوسرے دن ہی حملہ رک گیا تھا۔

ٹرمپ کے ایران پر حملے کے اعلان کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان عمران خان امریکہ کے دورے پر امریکہ ہی میں تھے۔

عمران خان نے امریکہ ہی میں عالمی میڈیا پہ آکر صدر ٹرمپ سے کہا تھا کہ ایران پر حملہ بہت خطرناک ہوگا چونکہ شیعوں میں جھاد کا جو تصور ہے وہ دوسرے مسلمانوں سے بلکل مختلف ہیں۔ایران پر حملہ کرنے کی صورت میں پوری دنیا میں امریکی مفادات کو سخت نقصان ہوگا۔۔۔۔میرے خیال میں حالیہ جنگ میں دنیا نے اس حقیقت کو نہ فقط دیکھا ہے بلکہ محسوس بھی کیا ہے۔

بحر حال اس گرائے گئے ڈرون کے علاؤہ تین چیزیں اور حیرت انگیز تھیں جن پر پھر کبھی بات ہوگiی انشااللہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha