جمعرات 14 مئی 2026 - 12:14
اصلی لبرل کون اور کیوں؟

حوزہ/ لبرل دراصل لاطینی زبان کا ایک لفظ ہے۔ اس لفظ کا اصل معنی آزاد ہے۔ لبرل ازم کا معنی آزادی ہے۔ لبرل ازم کا معنی عام طور پر آزاد خیالی کیا جاتا جو کہ درست نہیں۔

تحریر:محمد بشیر دولتی

حوزہ نیوز ایجنسی| لبرل دراصل لاطینی زبان کا ایک لفظ ہے۔ اس لفظ کا اصل معنی آزاد ہے۔ لبرل ازم کا معنی آزادی ہے۔ لبرل ازم کا معنی عام طور پر آزاد خیالی کیا جاتا جو کہ درست نہیں۔

لبرل ازم میں دو بنیادی شرائط ہونی چاہئیں: پہلی شرط آزادی اور دوسری اصول مساوات ہے۔

بعض نے دو بنیادی خصوصیات یوں بیان کی ہیں کہ ایک لبرل انسان سب سے پہلے حسن فکر کا حامل ہوتا ہے یعنی وہ اپنی ذات کے دائرے سے نکل کر سب کے لئے اچھا سوچتا ہے گویا اس کو سوچ سب کے بارے میں بنیادی طور پر مثبت اور خوش گوار ہوتا ہے۔ دوسری صفت مساوات ہے۔ یعنی ایک لیبرل بطور انسان تمام انسانوں کو عالمی و آفاقی نعمات سے لے کر زندگی کے تمام ضروریات میں مساوات کا قائل ہے یعنی سب انسان ،بطور انسان دنیا کی نعمتوں، رونقوں اور وسائل استعمال کرنے میں ایک جیسا حقوق رکھتے ہیں ، کسی کو بھی کسی پر کوئی فوقیت یا برتری حاصل نہیں ہے۔

لیبرل ازم چونکہ بادشاہت اور پاپائیت یا کلیسائی پادریوں کے ظالمانہ، متشددانہ اور سخت گیرانہ ماحول اور کے خلاف وجود میں آیا ،اس وجہ سے بعد میں اسے دین مخالف نظریہ سمجھایا گیا اور اسی جانب اس کی شہرت ہوئی۔

کلیسا کی حد سے زیادہ مداخلت، پادریوں کی طرف سے خود کو اعلیٰ اور دوسروں کو ادنی و کم تر سمجھنے کی وجہ سے لوگ دین مسیحیت سے متنفر ہونے لگے ۔

بعد میں اس نظریے کو اسلام جیسا مساوات پسند اور ڈکٹیٹر مخالف ،مردم سالاری دینی کے حامل دین کے خلاف بھی استعمال کرنے لگا۔

اب یہ لیبرل کا نعرہ لطیف اور آزاد پسند نظریات کے خلاف خود ایک پرتشدد رویہ بن چکا ہے۔

معروف امریکی مصنف رابرٹ فراسٹ کے مطابق دراصل لیبرل اس کشادہ ذہن آدمی کو کہا جاتا ہے جو اپنے مخالف کی گالیاں بھی آرام و سکون سے سن اور سہہ لیتا ہے۔ اس کا دماغ مطمئن ہوتا ہے وہ جمود کا شکار نہیں ہوتا"

اس تعریف سے واضح ہوتا ہے کہ مخالفین کی بات نہ سننے والا،مخالفین کو انفرینٹ کرنے والا،اپنی پوسٹ کو آنلی فرنٹ کر کے عمومی نہ کرنے والا ذہنی مریض تو ہوسکتا ہے مگر لیبرل نہیں ہوسکتا۔

جن کی پوسٹوں ،باتوں،گفتگو اور رویوں میں کشادگی نہ ہو اسے آپ روشن خیال نہیں کہسکتے بلکہ ایسے لوگ راشن خیال ہوتے ہیں۔

پس بحث و مباحثہ میں حوصلہ ہار جانے والا ، گالیوں پہ اترانے والا، اسلام یا کسی بھی دین کو ڈی گریٹ کرنے والا، اپنی طرف سے جہالت کی ڈگریاں بانٹنے والا کوئی لیبرل نہیں ہوتا ، نہ ہی وہ روشن خیال ہوتا ہے۔ ایسے لوگ فقط راشن خیال ہوتا ہے ۔

ایسے لوگ کبھی بھی روشن خیالی کی کرنیں کبھی ظلمت ،نادانی اور ظلم و بربریت کے گھپ اندھیروں میں موجود لوگوں کو ازادی،استقلال،خود اعتمادی اور مقاومت جیسے فکری و عملی غذا کی روشنی سے منور نہیں کرتے بلکہ دین اور مقاومتی شخصیات کے خلاف یکطرفہ گفتگو اور پوسٹ کر کے عالمی استکباری و استعمار کی نگاہوں میں آنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کے راشن کا بروقت درست انتظام کرے اور آخر میں کسی بیرونی ملک کا ویزہ حاصل کرسکے اور بس!

جو کوئی اس فکر اور ہدف کے لئے کوشاں ہو اسے دیسی لبرل کہا جاتا ہے۔

دیسی لبرل ایک ایسی اصطلاح ہے جس پر بہت کچھ لکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ عام لوگ دیسی لبرل اور حقیقی دانشور کو درست پہچان سکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha