جمعرات 14 مئی 2026 - 15:20
امارات میں ایرانی بچوں کے اپنے اسکول بند، تعلیم سے محرومی پر ایران کے قومی ادارہ برائے حقوقِ بشر کا شدید احتجاج

حوزہ/ امارات نے ایرانی بچوں کے لیے چلنے والے تمام اسکولوں کے لائسنس ختم کر دیے جس کے نتیجے میں ہزاروں بچے تعلیم سے مکمل طور پر محروم ہو گئے ہیں۔ ایران کے حقوقِ بشر کونسل نے اسے بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی قرار دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امارات نے ایرانی بچوں کے لیے چلنے والے تمام اسکولوں کے لائسنس ختم کر دیے جس کے نتیجے میں ہزاروں بچے تعلیم سے مکمل طور پر محروم ہو گئے ہیں۔ ایران کے حقوقِ بشر کونسل نے اسے بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی قرار دیا ہے۔

ایران کے قومی ادارہ برائے حقوقِ بشر نے امارات کے اس اقدام پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے جس میں امارات نے تمام ایرانی اسکولوں کو چلانے کی اجازت ختم کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد تقریباً ڈھائی ہزار (2300) ایرانی بچے اسکول جانے کے بنیادی حق سے محروم ہو گئے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ یہ کوئی معمولی انتظامی کارروائی نہیں ہے بلکہ سیاسی انتقام کی خاطر معصوم بچوں کو ڈھال بنایا گیا ہے۔ امارات نے یہ قدم اُس وقت اٹھایا ہے جب ایران اور امارات کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھی ہے، لیکن اس کشیدگی کی قیمت بےگناہ بچوں کو دینی پڑ رہی ہے۔

حقوقِ بشر کونسل کے مطابق امارات نے بچوں کے حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے تمام بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ خاص طور پر 'کنونشن برائے حقوقِ اطفال' کی دفعہ 28 کے مطابق ہر بچے کو تعلیم کا مساوی حق ہے اور دفعہ 2 کے مطابق قومیت کی بنیاد پر کسی بھی بچے کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا۔

ادارے نے کہا کہ امارات دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ رواداری کا مرکز ہے، لیکن عملاً وہ سب سے زیادہ کمزور طبقے یعنی بچوں کو گروہی سزا دے رہا ہے۔ ان بچوں کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ ایرانی قومیت رکھتے ہیں۔ جب کسی بچے کو اُس کے اپنے اسکول سے نکال دیا جائے اور اُسے متبادل تعلیم کا کوئی موقع نہ دیا جائے تو یہ تعلیم کے حق کی تباہی کے مترادف ہے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ تمام بین الاقوامی عدالتوں اور سفارتی راستوں سے اس زیادتی کے خلاف آواز اُٹھائے گا اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر امارات پر دباؤ ڈالے تاکہ ان بچوں کو واپس تعلیم کا موقع دیا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha