منگل 19 مئی 2026 - 13:42
امریکا نہیں چاہتا کہ دوسرے ممالک آزاد اور خودمختار رہیں

حوزہ / ایرانی سابق نائب صدر، سید امیرحسین قاضی زادہ ہاشمی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ بات چیت بے معنی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی سابق نائب صدر، سید امیرحسین قاضی زادہ ہاشمی نے کہا: انھیں بنیادی طور پر امریکا کے ساتھ مذاکرات کی منطق پر ہی اعتراض ہے اور سوال اٹھایا کہ ایران آخر امریکا سے مذاکرات کیوں کرے؟

انہوں نے کہا: اگر آبنائے ہرمز کے قانونی نظام اور حاکمیت کی بات ہو تو یہ معاملہ ایران، عمان اور زیادہ سے زیادہ خطے کے چند دیگر ممالک سے متعلق ہے

قاضی زادہ ہاشمی نے مزید کہا: اسی طرح بحیرہ کیسپین کے قانونی معاملات پر گفتگو بھی صرف اس کے ساحلی ممالک کے درمیان ہونی چاہیے اور اس میں امریکا کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا: امریکا کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منطقی بنیاد موجود نہیں۔ اگر امریکا کو موجودہ عالمی سامراجی طاقت سمجھا جائے تو پھر اس کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں، کیونکہ سامراج کی فطرت ہی ممالک کی آزادی اور خودمختاری کو تسلیم نہ کرنا ہے۔

ایرانی سابق نائب صدرنے کہا: امریکا نہیں چاہتا کہ دوسرے ممالک آزاد اور خودمختار رہیں، اسی لیے اگر مذاکرات کے لیے ایک شرط بھی رکھی جائے تو وہ اسے قبول نہیں کرتا اور ماضی کی طرح مختلف بہانے اور رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha