منگل 19 مئی 2026 - 17:17
اقتصادی دباؤ اور بیرونی پابندیوں کے باوجود ایران کی مزاحمت جاری: آیت اللہ علم الہدیٰ

حوزہ/ مشہد مقدس میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے آیت اللہ سید احمد علم الہدی نے کہا ہے کہ ایران اس وقت شدید اقتصادی دباؤ، بیرونی پابندیوں اور جنگی نوعیت کے حالات کا سامنا کر رہا ہے، تاہم اس کے باوجود ملک نے اپنی دفاعی اور مزاحمتی طاقت کو برقرار رکھا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مشہد مقدس میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے آیت اللہ سید احمد علم الہدی نے کہا ہے کہ ایران اس وقت شدید اقتصادی دباؤ، بیرونی پابندیوں اور جنگی نوعیت کے حالات کا سامنا کر رہا ہے، تاہم اس کے باوجود ملک نے اپنی دفاعی اور مزاحمتی طاقت کو برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے ہلال احمر خراسان رضوی کے رضاکاروں اور کارکنوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ موجودہ معاشی مشکلات صرف بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ بعض داخلی کمزوریاں، انتظامی خامیاں اور بازار کی نگرانی میں کمی بھی عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بنی ہیں۔

آیت اللہ علم الہدی نے کہا کہ بعض سمندری راستے بند ہونے کے بعد ایران کو اشیائے ضروریہ کی ترسیل زمینی راستوں اور مشرقی ممالک کے ذریعے انجام دینا پڑ رہی ہے، جس کے باعث درآمدی صلاحیت متاثر ہوئی ہے اور بازار میں بعض اشیاء کی قلت پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فولاد اور پیٹروکیمیکل جیسے شعبوں میں مناسب ذخائر موجود ہونے کے باوجود قیمتوں میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ انتظامی سطح پر مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام اپنی روزمرہ زندگی میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے اثرات محسوس کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود دنیا کے مختلف ممالک ایران کی استقامت کو طاقت اور مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق، وہ ملک جس کے بارے میں مخالفین یہ تصور کرتے تھے کہ وہ جلد کمزور ہو جائے گا، آج نہ صرف پابندیوں کا مقابلہ کر رہا ہے بلکہ اپنی دفاعی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کر چکا ہے۔

آیت اللہ علم الہدی نے دعویٰ کیا کہ ایران کی دفاعی اور میزائل طاقت پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوئی ہے اور دشمن ایران کی بازدارانہ صلاحیت کے باعث مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ملک کی بقا اور استحکام میں عوام، جہادی کارکنوں اور اعلیٰ سطحی قیادت کی حکمت عملی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے امریکہ کی داخلی سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خود امریکی میڈیا میں بھی بڑھتی مہنگائی، معاشی تضادات اور حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر امریکی قیادت کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی خدمت، امدادی سرگرمیاں اور جہادی کام معاشرے میں امید اور استقامت کو فروغ دیتے ہیں اور یہی سرگرمیاں سماجی اثرگذاری کے فقدان کو دور کرتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha