حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین علی عباسی نے اس نشست کے آغاز میں قم یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور اس یونیورسٹی کے معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جامعۃ المصطفی العالمیہ کا تعارف کرایا۔
انہوں نے انقلاب اسلامی کی مغربی جدیدیت کے ساتھ 50 سالہ تاریخِ مقابلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اب ایران اس سلطنت کے مرکز کے ساتھ براہِ راست مقابلے میں ہے۔ یہ دور ایک اہم تہذیبی عبور کا دور ہے جسے آئندہ نسلوں کے لیے ایک تاریخی نمونے کے طور پر پیش کرنے کے لیے باریک بینی سے دستاویزی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین عباسی نے امریکی صدر کے مشیروں کے اس بیان کو یاد دلاتے ہوئے کہ سکندر کا کام ایران میں ادھورا رہ گیا، زور دیا کہ مغربی استعمار اسلامی تہذیب کو دنیا میں اپنا واحد سنجیدہ حریف سمجھتا ہے اور اپنی اجارہ داری کی روح کی وجہ سے کسی بھی آزادانہ نمونے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم لوگوں کی ہوشیاری اور شناخت کے باشعور دفاع کے نمونے کی بدولت اس دور کا انجام منگولوں اور سکندر کے حملے کے دور سے مختلف ہو گا۔
جامعۃ المصطفی کے سربراہ نے اپنی گفتگو کے دوران جامعۃ المصطفی کی بین الاقوامی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: یہ علمی ادارہ فی الحال 130 مختلف قومیتوں کے دسیوں ہزار طلباء کے ساتھ، جن میں سے 97 فیصد غیر ایرانی ہیں، قومیت کے لحاظ سے دنیا کے متنوع ترین علمی مراکز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جو وزارت علوم کی تعلیمی نظاموں اور حوزوی سطحوں کے تحت اپنی علمی موجودگی اور آنلائن کلاسز کی شکل میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے آخر میں قم یونیورسٹی کی ترقی و پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ مرکز اپنی اخلاقی اور علمی فضا کی وجہ سے بین الاقوامی طلباء کے لیے نسبتاً کشش اور برتری رکھتا ہے۔ انہوں نے جامعۃ المصطفی اور قم یونیورسٹی کے درمیان تعلیمی، تحقیقی اور ثقافتی شعبوں میں مفاہمت نامے کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
قابل ذکر ہے کہ اس مفاہمت نامے کے مطابق جامعۃ المصطفی العالمیہ اور قم یونیورسٹی مختلف تعلیمی، تربیتی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کریں گی۔









آپ کا تبصرہ