حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، املو،مباکپور(اعظم گڑھ)/ آج کے پرآشوب دور میں انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں علم و عمل اور صبر واستقامت کی نے حد ضرورت و اہمیت ہے کیونکہ یہی بلند ترین کامیابی کی کلید ہیں۔صفت ِصبر و ضبط کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے اور اور انسان کو شکست و ریخت سے بچاتی ہے۔ اور استقامت کی یہ فضیلت ہے کہ چاہے کتنے ہی نامساعد حالات کیوں نہ ہوں،خواہ کتنی ہی پرخار وادی کیوں نہ ہو انسان کو منزل مقصود سے پیچھے ہٹنے نہیں دیتی بلکہ پیشرفت کرنے کاحو صلہ و ہمت دیتی ہے۔انبیائے کرام اور اہل بیت کی زندگیوں میں علم و عمل اور صبر استقامت کے عظیم نمونے موجود ہیں۔جمہوری اسلامی ایران کی کامیابی اور سپرپاور امریکہ اور غاصب و خائن اسرائیل کے مقابلے میں تاریخ ساز جنگی فتح و کامرانی کی وجہ ایرانی حکومت اور عوام کے علم و عمل اور صبر و استقامت ہی کی بدلت ہے۔

ان خیالات کا اظہار مولانا شیخ کونین رضا مبارکپوری نے بتاریخ ۲۲؍مئی بروز جمعہ بوقت۱۰؍بجے دن امام باڑہ بارگاہ حسینی محلہ پورہ باغ مبارکپور میں مرحومہ جملیہ صغریٰ بنت مظاہرالحسنین مرحوم کی مجلس چہلم کو خطاب کے دوران کیا۔
مولانا نے مزید کہا کہ علم و عمل اور صبر واستقامت کا درس جیسا کربلائی و عاشورائی تہذیب و ثقافت میں پایا جاتا ہے اس کی مثال کسی اور سماج و معاشرہ میں نہیں ملتی۔ آج یہ ایک مومنہ کے چہلم کی مجلس ہے ہمارا دستور ہے کہ جب کوئی چھوٹی بچی مر جاتی ہے تو سکینہ بنت الحسین کے مصائب کو یاد کرتے ہیں۔جب کوئی سن رسیدہ عورت مرجاتی ہے تو جناب رباب اور امام حسین کی بہنیں زینب و ام کلثوم کو یاد کرتے ہیں۔جب کوئی جوان عورت مرجاتی ہے تو امام حسین کی ماں فاطمہ زہر ا کو یاد کرتے ہیں جنھوں نے اٹھارہ برس کی عمر میں اتنے مصائب برداشت کئے کہ اگر وہ دنوں پر پڑتے تو ایدھیری رات میں بدل جاتے۔
اسی طرح جب ہمارا کوئی چھوٹا بچہ مر جاتا ہے تو امام حسین کے کمسن بچہ علی اصغر کو یاد کرتے ہیں۔جب کوئی جوان مرجاتا ہے تو امام حسین کے بیٹے علی اکبر کو یاد کرتے ہیں ۔جب کوئی بھائی مرجاتا ہے تو امام حسین کے بھائی حضرت عباس کو یاد کرتے ہیں۔جب کسی گھر کا سردار مرجاتا ہے تو سید الشہداحضرت امام حسین کے مصائب کو یاد کرتے ہیں۔یہی یادیں ہر رنج و غم کا مرہم بنتی ہیں او رعلم و عمل اور صبر استقامت کی جانب رہنمائی کرتی ہیں۔

پروگرام کا آغاز فیضان عباس و ہمنوا ساتھیوں کی سوز خوانی سے ہوا اور اختتام انجمن انصار حسینی رجسٹرڈ قدیم کی نوحہ خوانی و سینہ زنی پر ہوا۔اس موقع پر مولانا ابن حسن املوی واعظ،شاعر اہل بیت جاوید مبارکپوری،اعجاز اصغر، عزیز اصغر،مختار مہدی ،بے نظیر حیدر،ضرغام حیدر ، حاجی ابرار حسین،عباس احمد غدیری سمیت کثیر تعداد میں مومنین نے شرکت کی ۔









آپ کا تبصرہ