حوزہ نیوز ایجنسی | انڈونیشیا میں جمہوریہ اسلامی ایران کے ثقافتی کونسل کے دفتر کے تعلقات عامہ کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق شہید آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی بین الاقوامی یادگاری نشست جکارتا میں منعقد ہوئی۔
اس نشست میں انڈونیشیا میں مقام معظم رہبری کے نمائندہ ڈاکٹر شریفانی، جمہوریہ اسلامی ایران کے سفیر ڈاکٹر بروجردی، ایران کے ثقافتی کونسلر ڈاکٹر یحییٰ جہانگیری اور انڈونیشیا کے مذہبی اور ثقافتی حکام اور علماء نے شرکت کی۔

حجت الاسلام ڈاکٹر شریفانی نے نشست کے آغاز میں شہید رئیسی کی شخصیت کے پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے 2023ء میں بعض یورپی ممالک میں قرآن کی بے حرمتی کی لہر کے خلاف ان کے بہادرانہ اقدامات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: جب دشمنان اسلام بعض مغربی میڈیا کی حمایت سے اسلام دشمنی پھیلا رہے تھے، شہید رئیسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی پلیٹ فارم پر قرآن کریم کو اٹھا کر ثابت کر دیا کہ کلام الٰہی عداوت اور نفرت کی آگ سے ختم نہیں ہو سکتا۔

جمہوریہ اسلامی ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد بروجردی نے اس تقریب میں خطاب کے دوران کہا: شہید رئیسی کا اقوام متحدہ میں موقف کوئی لمحاتی سیاسی اقدام نہیں تھا بلکہ وہ منظر شہید رئیسی کی قرآنی تعلیمات کے ساتھ ہم آہنگی، انس اور عمل کی عکاسی کرتا تھا۔
نشست کے ایک اور حصے میں انڈونیشیا کے وزیر مذہبی امور کے معاونِ اعلیٰ نے "اسلامی احیاء" کے تصور پر زور دیتے ہوئے کہا: عالم اسلام کو اپنی اصل اقدار کی طرف لوٹنے اور وحدت کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔











آپ کا تبصرہ