حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم آیت اللہ حائری شیرازی نے اپنے ایک بیان میں "دوسروں کی سوچ کو اپنی ذات سے وابستہ نہ کرو" کے موضوع پر روشنی ڈالی ہے۔ جسے یہاں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:
اگر آپ مشورہ دیتے وقت ایسا کام کریں کہ دوسرا شخص ہر بار کوئی بھی کام کرنے سے پہلے سوچنے کے بجائے آپ سے پوچھنے آئے تو یہ مقصد کے خلاف ہے۔ یہ خدمت نہیں ہے۔
اگر آپ اسے اس طرح راہنمائی کریں کہ وہ کبھی آپ کے مشورے کے بغیر فیصلہ نہ کر سکے تو شاید آپ سمجھتے ہوں کہ آپ نے اس کی خدمت کی ہے لیکن درحقیقت آپ نے اس کے ساتھ خیانت کی ہے۔
کبھی کبھی انسان کو یہ لطف آتا ہے کہ اس سے مشورہ لیا جائے، اس سے ذمہ داری پوچھی جائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو وہ دوسرے شخص کو اس طرح تربیت کرتا ہے کہ وہ اس کا محتاج ہو جائے اور بار بار آ کر کہے: "جناب! اب میری کیا ذمہ داری ہے؟ یہ کام کروں یا نہ کروں؟"
مثلاً جو شخص یہ چاہتا ہو کہ چند لوگ اس کی انگلیوں پر ناچیں، جب وہ لوگ ایک بار اس کے مشورے کے بغیر عمل کریں اور غلطی کر بیٹھیں، تو وہ کہتا ہے: "کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ میرے مشورے کے بغیر فیصلہ نہ کرنا؟! میں تمہارا بھلا چاہتا ہوں۔ کیا تمہیں نقصان ہوتا کہ مجھے ایک فون کر کے ذمہ داری پوچھ لیتے اور بتا دیتے؟!"
یہ اسلامی تربیت نہیں ہے۔ یہ نفسیاتی تربیت کا نظام ہے۔
یہ انسانوں کو اپنا غلام بنانے اور انہیں اپنا محتاج کرنے کا اقدام ہے۔
انسانی نفس، برتری کی پیاسا ہوتا ہے، بڑائی کی پیاس، تسلط کی پیاس۔ وہ چاہتا ہے کہ ایک، دو، تین، چار افراد سوچیں بھی تو اس کے محتاج ہوں۔









آپ کا تبصرہ