اتوار 10 مئی 2026 - 18:08
ایک مسلمان ہنرمند کو اپنے ہنر اور فن کا اللہ کے حضور جوابدہ ہونا چاہیے

حوزہ/ یونس رجبی نے کہا: فن اور ہنر ایک الہی امانت ہے، اگر مسلمان ہنرمند اپنے فن کو حق کے راستے میں استعمال نہ کرے تو اسے ایک دن جوابدہ ہونا پڑے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو میں ایرانی ہنرمند اور گرافک ڈیزائنر یونس رجبی نے کہا: آج کے معاشرے میں ایک ہنرمند اپنے ارد گرد کے مسائل سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے کہا: جب ایک قوم اپنے وطن اور اقدار کے دفاع کے لیے متحد ہو کر کھڑی ہوتی ہے تو ہنرمند بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اور خود کو الگ نہیں کر سکتا۔ اگر واضح کہا جائے تو ایسی صورتحال میں غیر جانبداری کا کوئی مطلب نہیں ہے، انسان یا تو حق کی صف میں ہوتا ہے یا باطل کی صف میں۔ ہو سکتا ہے لوگوں کو ملکی صورتحال پر تنقید ہو لیکن جب گہرائی سے دیکھا جائے تو ان میں سے اکثر تنقیدیں بیرونی ماحول کی پیدا کردہ فضا سازی اور اثر اندازی کا نتیجہ ہوتی ہیں جو معاشرے میں داخل کی جاتی ہیں۔ اس نظام کی اصل اور اساس صحیح اور عوامی ہے اور اسے اس کے حقیقی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

اس ایرانی گرافک ڈیزائنر نے موجودہ حالات میں مسلمان ہنرمند کی ذمہ داری کے بارے میں کہا: مسلمان ہنرمند بنیادی طور پر فن اور ہنر کو صرف فن کے لیے نہیں چاہتا، فن اس کے لیے اظہار کی زبان ہے۔ بطور گرافک ڈیزائنر اگر میں محسوس کروں کہ میں گرافکس کے ذریعے کوئی بات کہہ سکتا ہوں تو میں اس آلے کو استعمال کروں گا، اگر مجھے لگے کہ کسی موضوع کا اظہار فلم کے ذریعے زیادہ موثر ہے تو شاید میں فلم کی طرف رجوع کروں، اور اگر ضرورت ہو تو تحریر کے ذریعے اپنی بات پہنچاؤں، قلم اٹھا لوں۔ اصل چیز خود پیغام اور وہ ذمہ داری ہے جو ہنرمند اپنے کندھوں پر محسوس کرتا ہے۔

ایک مسلمان ہنرمند کو اپنے ہنر اور فن کا اللہ کے حضور جوابدہ ہونا چاہیے

اس گرافک ڈیزائنر نے اس بارے میں کہ آیا مسلمان ہنرمند اکیلے موثر کام تخلیق کر سکتا ہے یا اسے ثقافتی اداروں کی حمایت کی ضرورت ہے، کہا: حقیقت یہ ہے کہ حمایت ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہنرمند حمایت کے بغیر کام نہیں کر سکتا بلکہ مسئلہ ہنر اور فن کے مرتبے اور مقام کا ہے۔ حکام کو دیکھنا چاہیے کہ ہنرمند جو اس راستے پر سرگرم ہونے کا فیصلہ کرتا ہے، درحقیقت بہت سے ظاہری اور دنیاوی مواقع کو چھوڑ دیتا ہے، اس لیے یہ فطری ہے کہ وہ توقع رکھتا ہے کہ اس کی سرگرمی دیکھی جائے اور اسے توجہ دی جائے۔

انہوں نے کہا: ایک ذمہ دار ہنرمند خاص حالات یا خاص مرتبے کا انتظار نہیں کرتا، ہو سکتا ہے کوئی شخص ایک چھوٹے سے دفتر میں، کسی دور دراز شہر میں یا آسان ترین سہولیات میں کام کرے لیکن وہیں پر بھی موثر ہو سکتا ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ جگہ پر اپنی ذمہ داری کو پہچانے اور جو کچھ اس کے بس میں ہو، اسے انجام دے۔

ایک مسلمان ہنرمند کو اپنے ہنر اور فن کا اللہ کے حضور جوابدہ ہونا چاہیے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha