جمعہ 5 جون 2026 - 12:31
امام زمانہ(عج) کی رضایت حاصل کرنے کا بہترین راستہ؛ خودسازی، اصلاح معاشرہ اور دعائے فرج

حوزہ/ آیت اللہ محمد علی جاودان نے امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی رضایت حاصل کرنے کے طریقوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ایک حقیقی منتظِر کی ذمہ داری صرف اپنی اصلاح تک محدود نہیں بلکہ اسے اپنے اہل خانہ، دوستوں اور معاشرے کی اصلاح کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے خودسازی اور معاشرے کی اصلاح کو مہدوی معاشرے کی تشکیل کی بنیادی شرط قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ محمد علی جاودان نے امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی رضایت حاصل کرنے کے طریقوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ایک حقیقی منتظِر کی ذمہ داری صرف اپنی اصلاح تک محدود نہیں بلکہ اسے اپنے اہل خانہ، دوستوں اور معاشرے کی اصلاح کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے خودسازی اور معاشرے کی اصلاح کو مہدوی معاشرے کی تشکیل کی بنیادی شرط قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم انسان کو اپنے ساتھ اپنے اہل و عیال کو بھی گمراہی اور عذاب سے بچانے کا حکم دیتا ہے۔ اسی لیے منتظرانِ امام زمان(عج) پر لازم ہے کہ وہ اپنے کردار، اخلاق اور اعمال کے ذریعے معاشرے میں نیکی، عدل، معرفت، اخوت اور معنویت کو فروغ دیں۔ ان کے بقول انسان کی نجات اور کامیابی کا راستہ امامت سے وابستہ ہے اور دینِ اسلام کی تکمیل بھی ولایت و امامت کے ذریعے ہی ممکن ہوئی ہے۔

آیت اللہ جاودان نے کہا کہ اگر انسان اپنی زندگی کو ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق ڈھال لے تو اس کی ذاتی زندگی، گھر اور خاندان بھی اسلامی اقدار کا نمونہ بن جاتے ہیں۔ یہی عمل بتدریج معاشرے میں مثبت تبدیلی کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ جو شخص خدا کی رضا کا طالب ہو، وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو جہالت، فقر، گناہ اور ظلم سے نجات دلانے کی فکر بھی کرتا ہے۔

انہوں نے امام زمان(عج) سے تعلق مضبوط کرنے کے حوالے سے کہا کہ مومنین کو روزانہ کچھ وقت امام عصر(عج) کی یاد میں گزارنا چاہیے۔ ان کے مطابق بزرگان دین کم از کم دس منٹ روزانہ امام زمان(عج) کی یاد اور توجہ کی سفارش کرتے تھے۔

آیت اللہ جاودان نے زیارت آل یٰسین کی مداومت اور دعائے فرج کو امام زمان(عج) سے قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نماز کے قنوت، رکوع اور سجدوں میں صلوات کے ساتھ "عجل فرجہم" پڑھنا نہایت بابرکت عمل ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی ایسا عمل تلاش کیا جائے جس سے یقینی طور پر امام زمان(عج)، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خداوند متعال راضی ہوں تو وہ حضرت کے ظہور اور فرج کے لیے دعا کرنا ہے، جو انسان کی روحانی شخصیت کی تعمیر اور قربِ الٰہی کا مؤثر ذریعہ بنتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha