جمعرات 11 جون 2026 - 01:22
اسلام عقلانیت، منطق اور گفتگو کا دین ہے / منطقی انداز کے ساتھ دوسروں کو حق کی طرف دعوت دیں

حوزہ/ حجت الاسلام والمسلمین قاضی عسکر نے اسلامی تعلیمات میں عقلانیت پر زور دیتے ہوئے کہا: اسلام منطق، استدلال اور گفتگو کا دین ہے اور ہمیشہ معاشرے کو عقلی ترقی دینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ لوگ استدلال اور عقلانیت کے ساتھ دین کو قبول کریں اور اس سے روبرو ہوں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم حضرت عبد العظیم حسنی (ع) کے متولی حجت الاسلام والمسلمین قاضی عسکر آستان مقدس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: اسلام منطق، استدلال اور گفتگو کا دین ہے اور ہمیشہ معاشرے کو عقلی ترقی دینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ لوگ استدلال اور عقلانیت کے ساتھ دین کو قبول کریں اور دین سے ہم آہنگ ہوں۔

انہوں نے مزید کہا: اسلام کا تبلیغی طریقہ کار بھی اسی اصول پر مبنی ہے: «ادعُ إلی سبیل ربک بالحکمة و الموعظة الحسنة و جادلهم بالتی هی أحسن»؛ «اے نبی! اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور ان سے بہترین طریقے سے مناظرہ کرو»؛ یعنی مجھے، آپ کو اور ان تمام لوگوں کو جو دین کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں، یہ کہا جاتا ہے کہ حکمت (یعنی استدلال اور منطقی انداز) کے ساتھ دوسروں کو اسلام اور حق کی طرف دعوت دیں، اچھی نصیحت کے ساتھ بلائیں اور اگر ان سے گفتگو کریں تو بہترین طریقے سے کریں تاکہ وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں۔

حجت الاسلام والمسلمین قاضی عسکر نے کہا: قرآن کریم میں بارہا انسانوں کو عقلانیت کی طرف دعوت دی گئی ہے؛ جیسے «أفلا تعقلون» کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ اور نیز خدا کی مخلوقات میں غور و فکر کرنے کی دعوت؛ آسمانوں اور زمین سے لے کر اونٹ کی تخلیق، آسمان، زمین، ان کے قائم ہونے کے طریقے اور خشکیوں اور دریاؤں میں موجود چیزوں پر غور کرنے تک۔ جانوروں، پودوں، پھولوں، رنگوں اور خدا کی تمام تخلیقات کا تنوع انسان کو خدا کی عظمت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا: مباهلہ 24 ذوالحجہ سنہ 9 ہجری کو پیش آیا اور اس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امام حسن، امام حسین، حضرت زہرا اور امیرالمؤمنین علیہم السلام ان کے ہمراہ تھے اور یہ واقعہ اسلام کی حقانیت کی علامت کے طور پر ثبت ہوا۔

حرم حضرت عبدالعظیم (ع) کے متولی نے اپنی گفتگو کے دوران اسلام میں عقل کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: کتاب الکافی کا آغاز «کتاب العقل و الجھل» سے ہونا اسلامی معارف میں عقل کے محوریت کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا: موجودہ مسائل میں بھی جذبات کو بھڑکانے سے گریز کرنا چاہیے اور گفتگو منطق اور استدلال پر مبنی ہونی چاہیے، کیونکہ اسلام ایک عقلی اور گفتگو پر مبنی دین ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha