حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ شہید نے امام جعفر صادقؑ سے منقول ایک نورانی حدیث بیان کرتے ہوئے ان اوقات کی نشاندہی کی ہے جن میں دعا کو خصوصی فضیلت اور قبولیت حاصل ہوتی ہے۔
امام جعفر صادقؑ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں: «اِغْتَنِمُوا الدُّعَاءَ عِندَ خَمسٍ: عِندَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَعِندَ الْأَذَانِ، وَعِندَ نُزُولِ الْغَیْثِ، وَعِندَ الْتِقَاءِ الصَّفَّیْنِ لِلشَّهَادَةِ، وَعِندَ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ.»(الامالی شیخ صدوق، ص 329)
"پانچ مواقع پر دعا کو غنیمت جانو: قرآن کی تلاوت کے وقت، اذان کے وقت، بارش کے نزول کے وقت، جب دو صفیں میدانِ جہاد میں آمنے سامنے ہوں، اور جب کوئی مظلوم دعا کرے۔"
رہبرِ شہید نے اس حدیث کی تشریح میں فرمایا کہ دعا ایک عظیم الٰہی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے دعا کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا ہے، تاکہ وہ کسی واسطے اور رکاوٹ کے بغیر اپنے پروردگار سے گفتگو کریں، اپنی حاجات پیش کریں اور اس کا قرب حاصل کریں۔
انہوں نے فرمایا کہ اگرچہ ہر وقت دعا کی جا سکتی ہے، لیکن بعض اوقات، جیسے ماہِ رجب، شعبان، رمضان اور یومِ عرفہ میں دعا کی قبولیت کی امید زیادہ ہوتی ہے۔
اس حدیث میں جن پانچ مواقع کا ذکر کیا گیا ہے، وہ یہ ہیں:
1. قرآنِ کریم کی تلاوت کے وقت۔
2. اذان کے وقت، کیونکہ یہ نماز کی اجازت اور خوشخبری کا اعلان ہے۔
3. بارش کے نزول کے وقت، کیونکہ بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔
4. جب میدانِ جنگ میں دو صفیں آمنے سامنے ہوں اور شہادت کا وقت قریب ہو۔
5. جب کوئی مظلوم اللہ تعالیٰ سے فریاد کرے، کیونکہ مظلوم کی دعا اور اس کی آہ کے درمیان اللہ تعالیٰ کے عرش تک کوئی حجاب نہیں ہوتا۔
رہبرِ شہید نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نہ صرف مظلوم کی اپنی دعا قبولیت کے قریب ہوتی ہے، بلکہ جو شخص اس منظر کا گواہ ہو اور اس وقت دعا کرے، اس کی دعا بھی قبول ہونے کی امید ہوتی ہے۔









آپ کا تبصرہ