تحریر: حافظہ عالیہ بتول
حوزہ نیوز ایجنسی|
28 فروری کو رہبرِ معظم نے اپنے جانثار ساتھیوں، اعلیٰ عسکری کمانڈروں، اپنے خانوادۂ گرانقدر، اولاد، بیٹی، بہو اور انقلابی رفقا کے ساتھ جامِ شہادت نوش فرمایا؛ یہ واقعہ تاریخِ اسلام کے اہم ترین ابواب اور ناقابلِ فراموش تذکروں میں شمار ہوتا ہے۔
تاریخ میں بعض ایسے حوادث رونما ہوئے ہیں جو چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج بھی تازہ ہیں اور جن کے اثرات انسانیت، عالمِ اسلام اور بالخصوص مکتبِ تشیع پر نمایاں طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ان میں سب سے اہم واقعہ رحلتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اس کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی المناک شہادت ہے، جس نے تاریخِ اسلام پر گہرے اثرات چھوڑے۔
پھر امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی شہادت ہے، جس کی خبر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں دی تھی۔ یہ عظیم شہادت بھی ماہِ رمضان میں واقع ہوئی۔
آج فرزندِ امیرالمؤمنین، امام خامنہ ای بھی اسی ماہِ مبارک رمضان میں اپنے جدِ امجد کے حضور پہنچ گئے۔
اس کے بعد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت اور پھر تاریخ کا عظیم ترین سانحہ، واقعۂ کربلا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہے، جس نے تاریخ پر سب سے گہرے اور دیرپا نقوش ثبت کیے۔
اسی طرح اہلِ بیت علیہم السلام اور امت کی رہنمائی کرنے والے عظیم علماء پر بھی تاریخ میں نہایت کٹھن اور آزمائش بھرے ادوار گزرے ہیں۔
گزشتہ تین برسوں میں تاریخ نے ایک مرتبہ پھر کروٹ لی ہے۔ ایک طویل جمود، سکوت اور خاموشی کے بعد تاریخ میں ایک نئی لہر اٹھی ہے اور انسانیت کے اندر ایسی بیداری پیدا ہوئی ہے جس نے سوئی ہوئی دنیا کو جھنجھوڑ کر دوبارہ میدانِ عمل میں لا کھڑا کیا ہے۔ فلسطین کے شہداء، حماس کے مجاہدین، حزب اللہ کی قیادت، ایران کے عظیم کمانڈرز اور سب سے بڑھ کر پیشوائے مقاومت حضرت امام خامنہ ای کی دردناک شہادتیں اسی بیداری کا حصہ ہیں۔ تاہم ان شہادتوں کے حقیقی مقام اور ان کے اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔
شہادتِ امام خامنہ ای پر تین طبقات کا ردِّعمل
امام خامنہ ای کی شہادت کی خبر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ جمہوری اسلامی ایران کی جانب سے اس اعلان کے بعد یہ گزشتہ صدی کی سب سے بڑی عالمی خبر بن گئی۔ اس خبر نے دنیا میں زلزلے کی کیفیت پیدا کر دی اور مختلف طبقات نے اپنے اپنے انداز میں ردِّعمل کا اظہار کیا، جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔
پہلا طبقہ قاتلوں، ظالموں اور ان کے ہم خیال افراد کا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھ فلسطین، لبنان، یمن، حزب اللہ اور حماس کے بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ یہ بے رحم اور سنگ دل عناصر دنیا کے مختلف خطوں، خواہ مشرقِ وسطیٰ ہو یا مغربی ممالک، ہر جگہ موجود ہیں۔
دوسرا طبقہ وہ ہے جو اس عظیم سانحے سے شدید غم زدہ ہوا۔ ان کے دل رنج و الم سے بھر گئے اور انہوں نے محسوس کیا کہ آج وہ یتیم ہو گئے ہیں، کیونکہ ان کے بے مثال رہبر اور پیشوا کا سایہ ان کے سروں سے اٹھ گیا ہے۔ پاکستانی قوم نے بھی ثابت کیا کہ ایران سے باہر رہتے ہوئے بھی اس عظیم ہستی سے ان کی محبت کس قدر گہری تھی۔ بغداد، لبنان اور یمن سمیت مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے، لیکن پاکستانی عوام نے جس انداز سے اپنے جذبات کا اظہار کیا، وہ اپنی مثال آپ تھا اور ان سے اسی کی توقع بھی کی جاتی تھی۔
تیسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو بے حس اور لاتعلق ہیں۔ انہیں نہ فلسطین کی قتل و غارت پر افسوس ہوتا ہے اور نہ ہی انسانیت کے المیوں پر کوئی دکھ محسوس ہوتا ہے۔ مسلمانوں اور دیگر اقوام میں ایسے افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر جاپان کے ایک چڑیا گھر کی تصویر بہت وائرل ہوئی، جس میں بندر کا ایک چھوٹا بچہ اپنی ماں کی موت کے بعد ایک گڑیا کو اپنی ماں سمجھ کر اس پر سر رکھ کر سو رہا تھا۔ اس تصویر نے دنیا بھر کے لوگوں کے جذبات کو متاثر کیا اور بے شمار افراد نے اس پر افسوس کا اظہار کیا۔
بعد ازاں فرانس میں کیوبا کے سفیر نے اس تصویر کے ساتھ ایک فلسطینی بچی کی تصویر شائع کی، جو اپنی گڑیا پر سر رکھے اکیلی رو رہی تھی، کیونکہ اس کی ماں اور پورا خاندان شہید ہو چکا تھا۔ بندر کے بچے کی تصویر نے تو دنیا کو رُلا دیا، لیکن اس معصوم فلسطینی بچی کے درد نے دنیا کے ضمیر کو نہ جگایا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں نہ فلسطین کے بچوں کی شہادت پر افسوس ہوتا ہے، نہ ان کے قاتلوں سے کوئی شکایت، اور نہ ہی رہبرِ معظم جیسی عظیم شخصیت کی شہادت پر کوئی ملال ہوتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ اس کا ایک اٹل قانون یہ ہے کہ وہ انسانوں کو مختلف آزمائشوں اور امتحانات میں مبتلا کرتا ہے تاکہ واضح ہو جائے کہ حقیقی انسان کون ہے، انسانیت سے گرنے والے کون ہیں، بے حس کون ہیں اور وہ کون ہیں جو حق کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ ایسے مواقع پر لوگوں کی حقیقت آشکار ہو جاتی ہے۔ ہر نسل اسی امتحان سے گزرتی ہے اور ہر دور میں یہ آزمائش دہرائی جاتی ہے۔
رہبرِ معظم کی یہ شہادت غیر متوقع نہیں تھی؛ نہ خود رہبر کے لیے، نہ ایرانی قوم کے لیے، نہ دنیا کے لیے اور نہ ہی ہمارے لیے۔ بلکہ یہ تو ان کی دیرینہ آرزو تھی۔ آج ان کے وہ تمام بیانات اور ویڈیوز دنیا کے سامنے موجود ہیں جن میں انہوں نے بارہا شہادت کی تمنا کا اظہار کیا تھا۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ وہ شہادت کے قریب پہنچے ہوں۔ انہیں "زندہ شہید" کہا جاتا تھا۔ امام راحل، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی انہیں "زندہ شہید" کے لقب سے یاد کیا تھا۔ وہ کئی مواقع پر شہادت کی سرحد تک پہنچے، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا۔ ان کا زخمی بازو اسی جدوجہد کی یادگار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم ذخیرۂ الٰہی کو ایک بڑے مقصد اور ایک عظیم تاریخی مرحلے کے لیے محفوظ رکھا تھا۔
بالآخر تدبیرِ الٰہی پوری ہوئی اور اس عظیم شخصیت نے اپنی زندگی میں وہ تاریخی خدمات انجام دیں جن کی مثال ملنا مشکل ہے۔ انقلابِ اسلامی کی حفاظت، اس کا فروغ، حکومتِ الٰہی کا استحکام، نظامِ امامت و ولایت کی پائیداری، اور دنیا کے ظالموں اور جنایت پیشہ قوتوں کے سامنے استقامت کے ساتھ ڈٹ جانا، یہ سب اس عظیم ذخیرۂ الٰہی کے ناقابلِ فراموش کارنامے ہیں۔









آپ کا تبصرہ