حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا: 15 بچے کسی کے لختِ جگر، 15 ماؤں کی امیدیں اور 15 خاندانوں کے خواب تھے۔ ان معصوم جانوں کا ضیاع پوری قوم کے لیے انتہائی کربناک اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ متاثرہ ماؤں اور لواحقین کا درد ناقابلِ بیان ہے، مگر افسوس کہ اس سانحے کے بعد بھی کوئی ذمہ دار اس درد کا حقیقی جواب دینے کو تیار نہیں۔
انہوں نے کہا: دنیا کے مختلف ممالک میں جنگ، زلزلوں اور دیگر ہنگامی حالات کے دوران طبی عملہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر معصوم بچوں اور مریضوں کی جانیں بچانے کے لیے آخری حد تک کوشش کرتا ہے جبکہ ہمارے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے، عملے کی اخلاقی و پیشہ ورانہ تربیت اور بنیادی حفاظتی انتظامات پر سنجیدہ توجہ نہیں دی جا رہی۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا: اسلام آباد، راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں کے لاکھوں شہریوں کا انحصار پمز ہسپتال پر ہے، مگر عملے کی کمی، ضروری طبی آلات کا فقدان، ناقص انتظامات اور بدانتظامی نے مریضوں کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ عوام کی زندگیوں کے ساتھ یہ طرزِ عمل کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا: اس سنگین ناکامی پر متعلقہ حکومتی ذمہ داران استعفیٰ دیں، پمز سانہے کی شفاف، غیر جانب دار اور جامع تحقیقات کرائی جائیں اور غفلت، کوتاہی یا بدانتظامی کے مرتکب تمام ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا: مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے ملک بھر کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی پروٹوکول، فائر سیفٹی، طبی آلات، تربیت یافتہ عملے اور ہنگامی انخلا کے نظام کا فوری اور جامع آڈٹ کیا جائے تاکہ انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔









آپ کا تبصرہ