حوزہ نیوز ایجنسی کے مشہد میں نمائندے کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ علمیہ جعفریہ کے متولی اور حوزہ علمیہ خراسان کی اعلیٰ کونسل کے رکن آیت اللہ مہدی مروارید نے مشہد مقدس میں مدرسہ علمیہ جعفریہ و فقہی شمس الشموس (ع) میں اپنے خطاب کے دوران پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک روایت کی روشنی میں علم کے مختلف مراتب یعنی خاموشی سے سننے، غور سے سماعت کرنے، محفوظ کرنے، عمل کرنے اور بالآخر علم کو نشر کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اس ادارے کے اساتذہ کی کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے اس اجلاس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام صادق علیہ السلام کی روایات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علم کی اہمیت اور مقام پر زور دیا اور علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے صحیح استفادہ کرنے کو علمی سفر کے بنیادی امور میں شمار کیا۔
آیت اللہ مروارید نے کہا: حوزہ علمیہ میں علم کا سفر عمل اور نشرِ دانش پر منتج ہونا چاہیے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ علم کی حقیقت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم کے مراحل ’’انصات‘‘، ’’استماع‘‘، ’’حفظ‘‘، ’’عمل‘‘ اور آخر میں ’’نشر‘‘ بیان فرمائے ہیں۔
حوزہ علمیہ خراسان کی اعلیٰ کونسل کے رکن نے کہا: یہ روایت علم حاصل کرنے سے آگے بڑھ کر علم سیکھنے کے ایک مکمل راستے کی وضاحت کرتی ہے اور سننے، سیکھنے اور محفوظ کرنے سے لے کر اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک منتقل کرنے تک اس کے مختلف مراحل پر توجہ دینے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ امر حوزاتِ علمیہ میں علمی و تحقیقی سرگرمیوں کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔









آپ کا تبصرہ