حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولوی محمود اسعد مدنی نے کہا ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں اجنبی اور دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں۔ مسلمان اس ملک میں کسی کے رحم و کرم پر نہیں رہ رہے، بلکہ ملک کی آزادی میں ان کے اسلاف کی عظیم قربانیاں شامل ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستان میں مسلمان ہونا جرم بنا دیا گیا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے 30 اور 31 اکتوبر کو میوات، ضلع نوح (ہریانہ) میں منعقد ہونے والے جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس سے خطاب کیا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت حال، مسلمانوں کو درپیش مسائل، وقف املاک، یکساں سول کوڈ، عالم اسلام اور فلسطین سمیت مختلف موضوعات پر غور کے بعد متعدد اہم تجاویز اور ایک جامع اعلامیہ منظور کیا گیا۔

ملک آئینی اور نظریاتی بحران سے گزر رہا ہے
مولوی محمود اسعد مدنی نے کہا کہ ملک اس وقت ایسے نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں جمہوری روح اور آئینی اقدار کو کمزور کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ مذہبی نفرت اور تفریق کی فضا صرف مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق ہی نہیں بلکہ دلتوں، محروم طبقات اور قانون کی حکمرانی کے نظام کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران نفرت انگیز تقریروں کے 1600 سے زائد مصدقہ واقعات اور ان میں سے 87 فیصد معاملات میں ایف آئی آر درج نہ ہونے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورت حال انصاف کی فراہمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔
بلڈوزر کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ خود ہی جج اور خود ہی سزا دینے والا بننے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ کسی شہری کے گھر یا جائیداد کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر منہدم کرنا آئین، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کے وقار پر حملہ ہے۔

انہوں نے اکثریت کو خطرے میں بتانے والے بیانیے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اکثریت کا خطرہ نہیں بلکہ کرسی اور اقتدار کی ہوس ہے۔ جب حکومت روزگار، کسانوں اور معیشت جیسے حقیقی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے دراندازی اور آبادی سے متعلق خوف پھیلانے والے بیانیے سامنے لائے جاتے ہیں۔ انہوں نے وزارت داخلہ کے پارلیمنٹ میں دیے گئے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس غیر قانونی دراندازی سے متعلق کوئی مستند اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔
جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران اور کارکنان کو عملی جدوجہد کا پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’رونا دھونا اور شکوے شکایتیں بند کریں! مردِ میدان بن کر کھڑے ہو جائیں!‘‘ انہوں نے کہا کہ اسلام کی حفاظت محض نعروں اور دعووں سے نہیں بلکہ اپنی زندگی کو دین کے مطابق ڈھالنے سے ممکن ہے۔ اختلافِ رائے کو مخالفت سمجھنے کے بجائے دوسروں کی بات سننے اور درست رائے قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔

مجلسِ منتظمہ کی اہم تجاویز اور فیصلے
مجلسِ منتظمہ نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، اسلاموفوبیا، ماب لنچنگ اور سماجی و اقتصادی بائیکاٹ کی مہمات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے تحسین پونا والا مقدمے میں دی گئی ہدایات پر عمل کیا جائے، ہر ضلع میں ایس پی سطح کے نوڈل افسر مقرر کیے جائیں اور نفرت پر مبنی جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں۔
آبادی کے مطالعے کے لیے وزارت داخلہ کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل اور اس کے مفروضوں پر بھی اعتراض کیا گیا۔ جمعیۃ نے مطالبہ کیا کہ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی معیار کے ماہرین پر مشتمل غیر جانب دار کمیشن قائم کیا جائے۔
وقف املاک کے تحفظ سے متعلق تجویز میں وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو اپنی موجودہ شکل میں مسلم اقلیت کے مذہبی اور دستوری حقوق اور وقف کی بنیادی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس نے وقف املاک کے تحفظ اور بہتر انتظام کے لیے شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی (SGPC) کی طرز پر ایک خود مختار اور بااختیار ادارہ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔

مساجد، عیدگاہوں اور دیگر اسلامی مقامات کے تحفظ سے متعلق اجلاس نے مطالبہ کیا کہ 1991 کے پلیسز آف ورشپ ایکٹ پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ سپریم کورٹ کے 12 دسمبر 2024 کے عبوری حکم کی پابندی اور قانونی کارروائی کے بغیر مساجد کے انہدام کو روکنے پر بھی زور دیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ جمعیۃ کی تمام صوبائی، ضلعی اور تحصیلی اکائیاں مرکزی جمعیۃ علماء ہند کی مقرر کردہ ایک ہی تاریخ اور وقت پر متعلقہ حکام کو میمورنڈم پیش کریں گی۔ مساجد کی اراضی اور دیگر قانونی دستاویزات کی جانچ و تکمیل کے لیے بھی چھ ماہ کی مدت مقرر کی گئی۔
مدارس سے متعلق تجویز میں منظوری اور جانچ کے نام پر ہراساں کرنے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مدارس کے ذمہ داران کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اراضی کے کاغذات، منظور شدہ نقشے، طلبہ کے شناختی کوائف اور مالیاتی حسابات مکمل طور پر محفوظ رکھیں۔
یکساں سول کوڈ کو مسترد کرتے ہوئے اسے تفریق پر مبنی قرار دیا گیا۔
فلسطین اور قومی یکجہتی پر زور
اجلاس نے عالم اسلام کے مختلف ممالک میں جاری جنگی صورت حال اور فلسطین کے مسئلے پر گہری تشویش ظاہر کی۔ ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام، اسرائیلی آبادکاری روکنے، جنگی جرائم کے ذمہ داروں کو سزا دینے، مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کے تحفظ اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔
جامع اعلامیے میں جمعیۃ علماء ہند نے قومی اتحاد اور باہمی احترام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کے نام پر ملک کو تقسیم کرنا نہ پہلے قابلِ قبول تھا، نہ آج ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔ اعلامیے میں کسانوں، طلبہ، دلتوں اور دیگر اقلیتوں سمیت تمام مظلوم اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا عہد بھی کیا گیا۔ نئی نسل کو مایوسی اور خوف کے بجائے شجاعت، حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ حق و انصاف کے لیے کھڑے ہونے کی تلقین کی گئی۔

نوجوانوں کی تربیت اور تنظیمی استحکام پر زور
اجلاس میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولوی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے کاموں کا دائرہ وسیع ہوا ہے، اس لیے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولوی محمد سلمان بجنوری نے علمی صلاحیت کے ساتھ روحانی تربیت، اخلاص اور استقامت کو دینی جدوجہد کے لیے ضروری قرار دیا۔ نائب امیر الہند مولوی محمد سلمان منصورپوری نے ادارے کے استحکام کے لیے نوجوانوں اور باصلاحیت افراد کو آگے بڑھانے اور انہیں ذمہ داریاں سونپنے پر زور دیا۔
اجلاس میں نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت، ایمان و عقیدے کے تحفظ اور اسلامی شناخت کے استحکام کو اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کی مرکزی، صوبائی، ضلعی، شہری اور مقامی اکائیوں کو سالانہ منصوبۂ عمل مرتب کرکے اس پر باقاعدگی سے عمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
اجلاس میں سوال و جواب کی نشستیں بھی منعقد ہوئیں، جن میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر اور دیگر عہدے داروں نے ارکان کے سوالات کے جوابات دیے۔ اس موقع پر سابق اہم رہنما مولوی محمد ابراہیم الوریؒ کی سوانح حیات، طلبہ کے لیے ’’سیرت النبی (ص): 150 سوالات و جوابات‘‘ اور مفتی اشفاق قاضی کی متعدد کتابوں کی رسمِ اجرا بھی عمل میں آئی۔
اجلاس میں دارالعلوم دیوبند اور مظاہر علوم سہارنپور کے علماء، جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی و صوبائی عہدے داروں اور ملک بھر سے آئے ہوئے ارکانِ مجلسِ منتظمہ نے شرکت کی۔










آپ کا تبصرہ