۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
اردو

حوزہ/قومی اردوکونسل کے مالی تعاون سے منعقدہ قومی سمینار میں مقررین کا اظہارِ خیال۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اردو کے فروغ کے لیے اردو سے محبت رکھنے والوں کو سنجیدہ ہونا ہونا ہوگا اور مینی سطح پر کام کرنے ہونگے۔بچوں کی تعلیم سے لے کر دوکانوں پر لگے بورڈوں میں اردو کو شامل کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار میرٹھ یونیورسٹی کے صدرِ شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشیدپوری نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون سے مدرسہ ضیاء الاسلام ٹانڈہ رامپور کے زیر اہتمام منعقدہ سیمنار بعنوان ' مغربی اترپردیش میں اردوزبان وادب کا حالیہ منظرنامہ' میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ مغربی اترپردیش میں اردو کی جڑیں بہت گہری ہیں اور یہاں بڑے بڑے ادیب وشعرا پیدا ہوئے جن پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے ، لیکن محض فخر اورتذکرہ سے نہ اردو کو زندہ رکھا جاسکتا ہے اور نہ اردو کو فروغ دیاجاسکتاہے۔اس لیے عوام الناس کو اردو سے جوڑنے اور نئی نسل کو اردو کی طرف لانے کے لیے زمینی سطح کے ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے۔پروفیسر اسلم جمشید پوری نے صدارتی تقریر کے دوران مقالہ نگاروں کے مقالوں پر بھی تبصراتی گفتگو کی اور سلیم ٹانڈوی کے شعری مجموعہ'یہ کہانی ہے مختصر میری' پربھی تنقیدی نظرڈالی۔

اردو کے معروف ادیب و ناقد حقانی القاسمی نے اپنے خطاب میں مغربی اترپردیش میں اردو کے ماضی وحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مغربی اترپردیش میں اردو کا ماضی بہت تابناک رہاہے لیکن موجودہ منظرنامہ اتنا خوشگوار نظرنہیں آتا، البتہ کچھ کرنیں ضرورایسی دکھائی دیتی ہیں جن سے بہتر مستقبل کی امید کی جاسکتی ہے۔ڈاکٹر سید اختیار جعفری نے اپنے مقالے میں مغربی اترپردیش کی حالیہ اردو صحافت کا جائزہ لیتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیاکہ فی زمانہ مغربی یوپی میں اردو صحافت کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے ۔اب پوری مغربی یوپی میں معدودے چندہی اخبارات نکلتے ہیں۔نایاب حسن قاسمی نے اظہر عنایتی کی شاعری پر پُرمغز مقالہ پیش کیا۔ ہندوکالج مرادآباد کے لیکچرر جناب ڈاکٹر سمیع الدین شاداب خان نے بھی رامپور کی شاعری پر گفتگو کی۔دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر غلام نبی کمار نے مغربی اترپردیش کی غزلیہ شاعری پر اپنامقالہ پیش کیا۔وہیں پنجابی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر سالک جمیل براڑ نے مغربی یوپی کے ادب اطفال پر اپنا مضمون پیش کیا اور تازہ صورت حال سے بحث کی۔دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر محمد یونس انصاری نے اترپردیش کے مدارس اورعصری اداروں میں اردو کی تعلیمی و تدریسی صورت حال کا جائزہ لیا۔مرکزی جمعیۃ علماء نئی دہلی کے سکریٹری مولانا فیروز اختر قاسمی نے مغربی یوپی میں اردو کے فروغ کے تعلق سے قیمتی سفارشات پیش کیں ۔

سمینار میں رامپور کے نمائندہ شاعر سلیمؔ ٹانڈوی کے شعری مجموعہ' یہ کہانی ہے مختصرمیری' کا اجرا بھی عمل میں آیا۔اس موقع پرسلیم ٹانڈوی نے اپنے شعری مجموعے کے حوالے سے اجمالی گفتگو کرنے کے بعد اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ ان کے شاگردوں شہاب ٹانڈوی اور کمسن ٹانڈوی نے ان کی کچھ غزلیں اپنی آواز میں سنائیں جنھیں سامعین نے بہت پسند کیا اور بھرپور لطف اٹھایا۔آخر میں مدرسہ ضیاء الاسلام کے صدر مدرس مفتی جعفر قاسمی نے مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر یوسف رامپوری نے انجام دیے ۔سمینار میں سامعین کی اچھی خاصی تعداد موجود رہی۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .