۴ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 23, 2024
ماہ صیام کے ساتویں دن کی دعا

حوزہ/رمضان میں عموما لوگوں کے پاس وقت ہوتا ہے تو گھر کی چہار دیواری سے لیکر دوستوں کی محفلوں تک ایسے گناہ سرزد ہوتے ہیں جو رات کے محاسبہ کی زد میں آئے بغیر محسوس نہیں ہوتے۔

حوزہ نیوز ایجنسیl 
ساتویں دن کی دعا:اَللّهُمَّ اَعِنّي فيہ عَلى صِيامِہ وَقِيامِہ وَجَنِّبني فيہ مِن هَفَواتِہ وَاثامِہ وَارْزُقني فيہ ذِكْرَكَ بِدَوامِہ بِتَوْفيقِكَ يا هادِيَ المُضِّلينَ؛اے معبود! اس مہینے میں اس کے روزے اور شب زندہ داری میں میری مدد فرما، اور اس مہینے ہونے والے گناہوں اور لغزشوں سے مجھے دور رکھ، اور ہمیشہ تیرا ذکر کرنے کی مجھے توفیق عطا کر، تیری توفیق کا واسطہ اے گمراہوں کو ہدایت کرنے والے۔
حل لغات:-جیسے خطوہ کی جمع خطوات ہے ویسے ھفوہ کی جمع ھفوات ہے یعنی لغزشیں اصل میں ھف یا ھفا عربی میں باریکی کو کہتے ہیں جیسے جاریہ مھففہ یعنی پتلی کمر والی لڑکی، ظاہر ہے باریک چیزوں پہ گرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اسی لئے ھفوات کے معنی ہوگئے لغزشیں۔
اَللّهُمَّ اَعِنّي فيہ عَلى صِيامِہ وَقِيامِہ:اے اللہ مجھے اس مہینے کے روزے اور شب ژندہ داری میں میری مدد فرما۔
دعا کے اس فقرے میں ذوق طلب بھی ہے اور شوق تماشا بھی۔
اقبال کا ایک شعر ہے:پھر وادی فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے؛پھر شوق تماشا دے پھر ذوق تقاضا دے

اقبال اگر زندہ ہوتے تو میں ان سے کہتا علامہ صاحب اب وادی فاراں کا کوئی ذرہ چمکنے والا نہیں ہے ایک ذرہ چمکا تھا شیخ باقر نمر کی صورت میں اسے بھی وہاں کی آندھیوں نے بجھا دیا ہے اب آپ اس مصرع کو یوں کردیں:پھر موسم رمضاں کے ہر غنچے کو تازہ کر؛پھر شوق تماشا دے پھر ذوق تقاضا دے
 
جناب موسیٰ(ع) نے کہا تھا اے اللہ میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں " شوق تماشا " تو اللہ نے کہا تھا تم مجھے اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھ نہیں پاؤگے اسی طرح اگر کوئی دل کی آنکھوں سے اللہ کا جلوہ دیکھنا چاہے یعنی " شوق تماشا " ہے تو ذوق تقاضا یعنی  رمضان کی شب زندہ داری کی آرزو کرے۔
رمضان آتا ہے عبادتوں کی مقدار کو بڑھانے کے لئے سال بھر جو شب زندہ داری نہیں ہوئی تھی وہ اس مہینے میں ہو یعنی طائر قفس کی حسرت پرواز پوری ہو گزشتہ گیارہ مہینوں میں جو گناہ سرزد ہوچکے ہیں استغفار سے اس کی تلافی ہو نفس کی تخریب سے روح کی تعمیر ہو یہ دعا عاشقین کی دعا ہے ماہ مبارک رمضان کے داخل ہونے کی دو صورتیں ہیں کبھی یہ اسلامی کلینڈر میں داخل ہوتا ہے کبھی یہ مسلمان کی زندگی کے اندر داخل ہوتا ہے اسلامی کلینڈر میں داخل ہو تو مسلمان تیس دن کے روزے کسی طرح کھینچ کے پورے کرتا ہے لیکن جب یہ مسلمان کی زندگی کے اندر داخل ہوتا ہے تو صرف روزے نہیں قیام اللیل کا اہتمام بھی کرتا ہے وہ فرصت کے موقع سے بھر پور فایدہ اٹھاتا ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ قرآن مجید نے تیس دنوں کو" ایاما معدودات " کہا ہے یعنی گنتی کے چند دن ماہ مبارک رمضان میں اس سے اچھی کوئی دعا نہیں ہوسکتی کہ بندہ شب ژندہ داری کی توفیق مانگے اور سیر و سلوک کے مدارج طئے کرے۔
وَجَنِّبني فيہ مِن هَفَواتِہ وَاثامِہ:اور اے اللہ اس مہینے کی لغزشوں اور گناہوں سے مجھے دور رکھ۔
ماہ مبارک رمضان میں نیکیوں کا ثواب جتنا بڑھ جاتا ہے گناہوں کا عذاب بھی اتنا ہی بڑھ جاتا ہے کیونکہ روزہ زمان شرف ہے روزہ دار کی ایک ایک سانس عبادت ہے اور رمضان مکان فضیلت ہے اس کا ایک ایک قیام جنت کا پیام ہے اسی شرف اور فضیلت کے پیش نظر قرآن میں ارشاد ہوا:
يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا ﴿الأحزاب 30﴾؛اے نبی(ص)کی بیویو تم میں سے جو بھی کھلے نامناسب رویہ کا ارتکاب کرے گی تو اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا؛
ایک برے رویہ کا عذاب اور ایک خانہ نبوت کی توہین کا عذاب 
 اسی طرح اگر وہ نیک عمل کرے گی تو اسے دوہرا ثواب دیا جائے گا یعنی تمہارا ہر عمل دو کا قائم مقام ہوگا اسی طرح ماہ رمضان میں روزہ دار کی نیکی کم سے کم دوہرا ثواب رکھتی ہے اور گناہ دوہرا عذاب رکھتا ہے۔
ایک روزہ کی بے حرمتی؛دوسرے رمضان کی بے ادبی 
اسی لئے  "ھفوات " کی لفظ آئی ہے یعنی وہ باریک باریک گناہ جو احساس کئے بغیر محسوس بھی نہیں ہوتے ان سے دور رکھ کیا بلاغت ہے اس فقرے میں ھفوات کے معانی  سمجھنے کے بعد ہی کوئی اس فقرے کی لذت کو محسوس کر سکتا ہے رمضان میں عموما لوگوں کے پاس وقت ہوتا ہے تو گھر کی چہار دیواری سے لیکر دوستوں کی محفلوں تک ایسے گناہ سرزد ہوتے ہیں جو رات کے محاسبہ کی زد میں آئے بغیر محسوس نہیں ہوتے جیسے گپ شپ کرنا خود ایک گناہ ہے جسے ہم گناہ نہیں سمجھتے وقت کا ضیاع کوئی معمولی جرم ہے ؟

وَارْزُقني فيہ ذِكْرَكَ بِدَوامِہ بِتَوْفيقِكَ يا هادِيَ المُضِّلينَ:اور اس مہینے میں ہمیشہ تیرا ذکر کرتے رہنے کی توفیق دے تیری توفیق کے واسطے اے گمراہوں کو ہدایت کرنے والے۔ 
پھر اس جملے کی لطافت کو یہاں محسوس کیجئیے کہ لفظ "توفیق" کے ساتھ " لفظ " مضل " کا گٹھ جوڑ کتنا معنی خیز ہے کہ اگر وہ اپنے ذکر کی توفیق نہ دے تو گمراہی طئے ہے۔

تحریر: سلمان عابدی

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .