۲ مهر ۱۳۹۹ | Sep 23, 2020
مولانا سید صبیح الحسین

حوزہ/امانتداری میں مومن کی شرط نہیں بلکہ کافر اور خون کے پیاسے دشمن کی بھی امانت کو واپس کرنا اسلام کا حکم ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،خادمان و کارکنان ادارہ تنظیم المکاتب کی جانب سے استاد جامعہ امامیہ اور شعبۂ مکاتب کے انچارج عالم با عمل مولانا قمر سبطین صاحب مرحوم کی ترویح روح کے لئےآج  ۲۱ جوالائی ۲۰۲۰؁ بروز منگل ایک بجے دن میں آن لائن مجلس عز امنعقد ہوئی۔ جسکا آغاز مبلغ و استاد جامعہ امامیہ مولانا محمد عباس معروفی نے تلاوت قرآن مجید سے کیا۔ مولانا کیفی سجاد انسپکٹر تنظیم المکاتب اور مولانا اعجاز حسین انسپکٹر تنظیم المکاتب نے بارگارہ اہلبیت میں منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔  

مجلس کو رکن مجلس انتظام تنظیم المکاتب حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید صبیح الحسین قبلہ نے خطاب کیا، موصوف نے قرآن کریم کے سورہ نساء کی آیت نمبر ۵۸ کے ابتدائی حصہ( بے شک اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ امامنتوں کو انکے مالکوں تک پہنچا دو) کو سرنامہ کلام قرار دیتے ہوئے فرمایا؛امانتداری وہ با فضیلت صفت ہے جو اسلام سے پہلے دور جاہلیت میں بھی محترم تھی نیز دوسرے ادیان و مذاہب میں بھی قابل احترام ہے اسی طرح امانتدار بھی بلا تفریق مذہب و ملت محترم ہوتا ہے۔ امانتداری میں مومن کی شرط نہیں بلکہ کافر اور خون کے پیاسے دشمن کی بھی امانت کو واپس کرنا اسلام کا حکم ہے۔ 

مولانا سید صبیح الحسین نے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی حدیث بیان کی کہ آپ نے فرمایا اگر میرے والد حضرت امام حسین علیہ السلام کا قاتل، وہ تلوار کہ جس سے اس نے میرے بابا کو شہید کیا ہے اسے میرے پا س بطور امانت رکھتا تو میں اسے بھی واپس کر دیتا۔ رسول خدا ﷺ نے شب ہجرت اپنے محبوب امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کو تلواروں کے سایہ میں اپنے بستر پر سونے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا صبح امانتوں کو انکے مالکوں کو واپس دے کر مدینہ میرے پاس آنا جب کہ وہ امانتیں آپ کے خون کے پیاسے دشمنوں کی تھیں۔ 

مولانا موصوف نے مولانا قمر سبطین مرحوم کا ذکر کرتے ہوئے  فرمایا کہ مولانا مرحوم ادارہ کے ایک اہم شعبۂ کے ذمہ دار تھے جہاں مختلف حالات میں بروقت فیصلہ کرنا کہ کس کو مدرس رکھا جائے، کون اس علاقہ میں پیش نمازی کے لئے مناسب ہے، کس کو کہاں بھیجا جائے تا کہ دین کا کام انجام پائے اور اطفال ملت دینی تعلیم سے محروم نہ رہیں۔  الحمدللہ مولانا قمر سبطین مرحوم نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بحسن و خوبی یہ اہم ذمہ داری زندگی کے آخری لمحہ تک انجام دی۔ 

آخر میں مولانا صبیح الحسین صاحب نے کربلا کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا کہ کربلا میں دو امین تھے ایک امام حسین علیہ السلام جن کے پاس انبیاء و اولیاء کی امانتیں تھیں دوسری امانتدار آپ کی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا تھیں جو دو معصوم اماموں اور خود مقصد حسینی کی امانتدار تھیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 13 =