۱۵ مهر ۱۴۰۱ |۱۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 7, 2022
مولوی سید ارشد مدنی دوباره رئیس جمعیت علمای هند منتخب شد

حوزہ/جمعیۃ علماء ہند کا کہنا ہے کہ "جس جگہ قربانی ہوتی آئی ہے اور فی الحال دقت ہے تو وہاں کم از کم بکرے کی قربانی ضرور کی جائے اور انتظامیہ کے دفتر میں اس کا اندراج بھی کرایا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی مسئلہ پیش نہ آئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ہندوستان میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے اثرات کو دیکھتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند نے عیدالاضحیٰ کی نماز اور قربانی سے متعلق کچھ اہم گزارشات مسلمانوں کے سامنے رکھی ہیں۔ ایک پریس ریلیز میں جمعیۃ کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ "دن بہ دن کورونا وائرس انفیکشن کے بڑھنے کے سبب مسجدوں یا گھروں میں وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائن کو سامنے رکھتے ہوئے عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کریں۔ زیادہ مناسب ہے کہ سورج نکلنے کے 20 منٹ کے بعد مختصر نماز اور خطبہ ادا کر کے قربانی کر لی جائے اور گندگی کو اس طرح دفن کیا جائے کہ اس سے بدبو نہ پھیلے۔"

اس پریس ریلیز میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ "ملک، خصوصاً اتر پردیش و دیگر ریاستوں کے حالات کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اس وقت ممنوعہ جانوروں کی قربانی سے بچیں۔ چونکہ مذہب میں اس کے بدلے سیاہ جانوروں کی قربانی جائز ہے، اس لیے کسی بھی مسئلہ سے بچنے کے لیے اس پر صبر کرنا مناسب ہے۔" پریس ریلیز میں آگے لکھا گیا ہے کہ "اگر کسی جگہ شرپسند کالے جانوروں کی قربانی سے بھی روکتے ہیں تو کچھ سمجھدار اور بااثر لوگوں کے ذریعہ انتظامیہ کو اعتماد میں لے کر قربانی کی جائے۔ اگر پھر بھی خدا نہ کرے مذہبی واجب کو ادا کرنے کا راستہ نہ نکلے تو جس قریبی جگہ کوئی دقت نہ ہو وہاں قربانی کرا دی جائے۔"

موجودہ وقت کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کا کہنا ہے کہ "جس جگہ قربانی ہوتی آئی ہے اور فی الحال دقت ہے تو وہاں کم از کم بکرے کی قربانی ضرور کی جائے اور انتظامیہ کے دفتر میں اس کا اندراج بھی کرایا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی مسئلہ پیش نہ آئے۔" کورونا کے تعلق سے جمعیۃ کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے حفاظت کے لیے مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ اللہ سے دعا کرنی چاہیے اور توبہ و استغفار کا اہتمام بھی ضرور کرنا چاہیے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 0 =