۲۸ مهر ۱۴۰۰ |۱۳ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 20, 2021
امام محمد باقر علیہ السلام

حوزه/امام محمد باقر ؑدوسرے ائمہ ؑ کی طرح تمام انسانی کمالات کا مجموعہ، ان کا مکمل نمونہ اور ہر قسم کے عیب و نقص سے پاک تھے۔

تحریر: مولانا سید حمید الحسن زیدی،الاسوہ فاؤنڈیشن سیتاپور

حوزہ نیوز ایجنسی | پانچویں امام محمد ابن علی  پہلی رجب ۵۷ھ؁ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد علی ابن الحسین ؑاور والدہ ماجدہ فاطمہ ام عبد اللہ بنت امام حسن ؑتھیں آپ کی کنیت ابوجعفر اور القاب باقر العلوم، شاکر، ہادی تھے۔ (۱) آپ کی عمر مبارک ۵۷ سال تھی ۷ ذی الحجہ ۱۱۴ھ؁ کو مدینہ منورہ میں آپ کی شہادت ہوئی اور آپ کا جسم اطہر قبرستان بقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔ (۲) 

امامت کی دلیلیں

بارہ اماموں کی امامت پر بیان کی گئی گذشتہ عام دلیلوں کے علاوہ خود امام محمد باقر ؑکی امامت کی کچھ خاص دلیلیں بھی ہیں جن میں آپ کے والد علی ابن الحسین ؑنے آپ کی امامت کے بارے میں وضاحت کی ہے۔ اسماعیل ابن محمد ابن عبد اللہ ابن علی ابن الحسین ؑنے امام ابو جعفر ؑ سے روایت کی ہے کہ، آپ نے فرمایا: امام علی ابن الحسین ؑنے اپنی شہادت کے وقت ایک صندوق نکالا اور فرمایا: محمد اس صندوق کو لے جا کر اپنے پاس محفوظ کر لو۔ جس وقت امام زین العابدین ؑکی شہادت ہوئی امام محمد باقر ؑکے بھائی آپ کے پاس آئے اور اس صندوق میں سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا ۔ آپ نے فرمایا: اس صندوق میں آپ لوگوں کا کوئی حصہ نہیں ہے اگر اس میں آپ لوگوں کا کچھ حصہ ہوتا تو وہ الگ سے میرے حوالہ نہ کرتے اس صندوق میں پیغمبر اسلامؐ کا اسلحہ اور ان کی کتابیں ہیں۔ (٣) عیسی ابن عبد اللہ نے اپنے والد اور انھوں نے اپنے جد سے نقل کیا ہے کہ حضرت علی ابن الحسین ؑاپنی شہادت کے وقت اپنی اولاد کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کے درمیان اپنے فرزند محمد ابن علی ؑکی طرف رخ کر کے فرمایا: محمد اس صندوق کو اپنے گھر لے جاؤ اس صندوق میںدرہم و دینار نہیں تھے بلکہ وہ صندوق علمی کتابوں سے بھرا تھا۔ (۴) محمد ابن عبد الجبار سے بھی اسی طرح کی حدیث نقل ہوئی ہے۔ (٥) ابان ابن عثمان نے امام جعفر صادقؑ سے روایت کی ہے کہ ایک دن جابر امام زین العابدین ؑکی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کے فرزند محمد باقر ؑبھی وہاں موجود تھے۔ جابر نے عرض کیا: یہ کون ہے امام زین العابدین ؑنے فرمایا: میرا بیٹا اور میرے بعد صاحب الامر محمد باقر ہے۔ (٦) عثمان ابن عثمان ابن خالد نے اپنے والد سے نقل کیاہےکہ انھوں نےبیان کیاجس وقت علی ابن الحسین ع بیمار ہوئے اپنے بیٹوں محمد ، حسن، عبد اللہ، عمر، زید اور حسین کو بلایا اور ان میںاپنے بیٹے محمد ابن علی کو اپنا وصی معین فرمایا ان کو باقر لقب عطا کیا اور اپنی تمام اولاد کے امور آپ کے سپرد کئے۔ (۷) مالک ابن اعین جہنی کا بیان ہے: علی ابن الحسین ؑنے اپنے فرزند محمد ابن علی کو اپنا وصی بنایا اور فرمایا : بیٹا میں نے تمہیں اپنا خلیفہ اور جانشین قرار دیاہے ۔ (۸) زہری کا بیان ہے کہ میں نے علی ابن الحسین ؑسے عرض کیا: اے فرزند رسولؐ اگر آپ نہ رہیں تو ہم کس کی طرف رجوع کریں ؟ آپ نے امام محمد باقر ؑکی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ان کی طرف! یہ میرا وصی میرا وارث اور میرے علم کا خزانہ باقر العلوم ہے یہ پیغمبر اسلامؐ سے ہمارا عہد و پیمان ہے۔ (۹) 

ابوبصیر نے امام محمد باقر ؑسے نقل کیاکہ آپ نے فرمایا: مجھ سے میرے والد کی وصیتوں میں سے ایک وصیت یہ تھی کہ جب میں دنیا سے چلا جاؤں تو تمہارے علاوہ مجھے کوئی اور غسل و کفن نہ دے اس لئے کہ امام کو امام کے علاوہ کوئی اور غسل و کفن نہیں دے سکتا۔ (١۰) سید مرتضیٰ فرماتے ہیں: کہ جب امام زین العابدین ؑکی شہادت کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپنے فرزند امام محمد باقر ؑکو بلایا اور کچھ شیعوں اور خاص افراد کے سامنے آپ کو اپنا وصی قرار دیا آپ کی امامت کے بارے میں واضح طور پر بیان کیا اسم اعظم اور انبیاء کی میراث آپ کے حوالہ فرمائی ۔ (١١)

  مسعودی نے اپنی کتاب اثبات الوصیہ میں بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ (۱۲) 

فضائل و کمالات

امام محمد باقر ؑدوسرے ائمہ ؑ کی طرح تمام انسانی کمالات کا مجموعہ، ان کا مکمل نمونہ اور ہر قسم کے عیب و نقص سے پاک تھے ۔ شیخ مفید علیہ الرحمہ نے تحریر کیا ہے : ابو جعفر امام محمد باقر ؑابن علی ابن الحسین ؑاپنے تمام بھائیوں کے درمیان اپنے والد علی ابن الحسین ؑکے جانشین، آپ کے وصی اور آپ کے بعد امام تھے علم و فضل اور زہد و سیادت کے اعتبار سے ان سب سے افضل تھے ۔ شیعہ اور اہل سنت دونوں میں سب سے زیادہ مشہور اور سب سے زیادہ جلیل القدر تھے دینی علوم، سنت پیغمبر، تفسیر قرآن اور آداب زندگی کے بارے میں جو کچھ آپ کے وجود مبارک سے ظاہر ہوا امام حسن ؑاور امام حسین ؑکی اولاد میں سے کسی اور سے ایسا ظاہر نہیں ہوا۔ آپ کے زمانے میں موجود صحابہ اور تابعین اور بزرگ فقہا اپنے دینی مسائل آپ سے نقل فرماتے تھے آپ علم و فضل میں مشہور تھے اور آپ کی مدح سرائی میں اشعار کہے جاتے تھے۔ (١٣) ابو الفدا نے آپ کے بارے میں تحریر کیا ہے: محمد ابن علی ابن الحسین ؑابوجعفر باقر ؑایک جلیل القدر تابعی تھے علم و عمل ،سیادت و شرافت میں امت اسلامی کے اہم ترین شخصیات میں سے تھے اثنا عشری شیعہ انھیں بارہ اماموں میں سے ایک امام مانتے ہیں۔ 

آپ نے پیغمبر اسلامؐ کے اصحاب سے بہت سے احادیث نقل کی ہیں اور بہت سے تابعین نے خود آپ سے روایات نقل کی ہیں آپ کے روایوں میں آپ کے فرزند امام جعفر صادقؑ ، حکم ابن عتبہ، ربیعہ، اعمش ، ابو اسحق سبیعی، اوز اعی ، اعرج ابن جریح، عطا، عمر و ابن دینار اور زہری وغیرہ ہیں۔ سفیان ابن عینہ نے نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: میرے والد مجھ سے اس حال میں حدیث بیان کرتے تھے کہ روی زمین پر پیغمبر اسلامؐ کی امت میں سب سے بہتر تھے۔ عجلی نے آپ کے بارے میں لکھا ہے : وہ مدینہ کے موثق تابعین میں سے تھے۔ محمد ابن سعد کا بیان ہے: وہ موثق اور کثیر الحدیث تھے۔ (١۴) اسی طرح ابو الفداء نے آپ کے بارے میں تحریر کیا ہے۔ ابو جعفر محمد ابن علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ؑکے والد زین العابدین ؑتھے اور آپ کے جد امام حسین ؑتھے جو کربلا میں شہید ہوئے۔ آپ کو باقر اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ علم کا سینہ چاک کر کے احکام الٰہی کا استنباط کرتے تھے ذکر الٰہی کرنے والے اور صابر و شاکر انسان تھے آپ پیغمبر اسلامؐ کی پاکیزہ نسل میں سے تھے اور عظیم حسب و نسب کے مالک تھے خطرات سے آگاہ تھے گریہ زیادہ فرماتے تھے جدال اور دشمنی سے پرہیز کرتے تھے۔ (١٥) احمد ابن جعفر ہیثمی نے آپ کے بارے میں تحریر کیا ہے: ابوجعفر محمد باقر ؑعلم ، عبادت اور زہد و تقوی میں اپنے والد علی ابن الحسین ؑکے وارث تھے آپ کو باقر اس لئے کہا گیا ہے کہ آپ حقائق کو کشف کرنے والے تھے آپ نے علم و حکمت کے ایسے خزانہ ظاہر کئے کہ عقل کے اندھے اور فاسد العقیدہ افراد کے علاوہ کوئی بھی ان کا انکارنہیں کرسکتا اسی وجہ 

سے آپ کو علم کا سینہ چاک کرنے والا اور ان کی نشر واشاعت کرنے والا قرار دیا گیا ہے آپ کا قلب مبارک نوارانی، علم و عمل، پاکیزہ نفس اورطیب و طاہر تھا ۔ آپ بہترین اخلاق کے مالک تھے، آپ نے اپنی عمر مبارک خداوند عالم کی اطاعت میں بسر کی آپ کا سیر و سلوک عرفانی منزل میں بیان کی حدوں سے کہیں بلند ہے سیر و سلوک اور عرفان کے سلسلہ میں آپ سے بہت سی احادیث مروی ہیں جن کو یہاں پر بیان کرنے کا محل نہیں ہے۔ (١٦) 

علم و حکمت 

امام محمد باقر علیہ السلام اپنے زمانے میں  عظیم فقیہ اور بزرگ علماء میں شمار کئے جاتے تھے پیغمبر اسلامؐ نے پہلے ہی سے آپ کے علمی مرتبہ کی خبر دے دی تھی۔ جابر ابن عبد اللہ انصاری نے پیغمبر اسلامؐ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ان سے فرمایا: اے جابر تم میری نسل میں میرے ایک فرزند سے ملاقات کرو گے جو میرا ہمنام ہوگا وہ علم کا سینہ چاک کر کے حقائق کو آشکار کرے گا جب تم اس سے ملاقات کرنا میرا سلام کہہ دینا۔ جابر نے امام محمد باقر ؑسے ملاقات کی اوران کو پیغمبر اسلامؐ کا سلام پہونچایا۔ (١۷) بہت سی بزرگ شخصیات نے آپ کے علمی مرتبہ کی تعریف کی ہے جس میں سے مندرجہ ذیل افراد کا نام لیا جاسکتا ہے۔ ابن برقی نےآپ کوصاحب فضل فقیہ اور نسائی نے مدینہ کے فقہاء میں سے، ایک اہم تابعی قرار دیا ہے۔ (١۸) 

عبد اللہ ابن عطاء مکی کا بیان ہے: علماء محمد ابن علی ؑکے سامنے جس طرح انکساری کرتے تھے کسی اور کے سامنے نہیں کرتے تھے میں نے حکم ابن عتبہ کو دیکھا اپنے اس عظیم مرتبہ اور جلالت کے باوجود جب محمد ابن علی ؑکے سامنے جاتے تھے تواس بچہ کی طرح ہو جاتے تھے جواپنے استاد کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔ (١۹) جابر ابن جعفی جس وقت امام محمد باقر ؑسے حدیث نقل کرتے تھے ، فرماتے تھے: وصی اولیاء اور وارث انبیاء محمد ابن علی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ (۲۰) ابن ابی الحدید نے آپ کے بارے میں لکھا ہے محمد ابن علی حجاز کے عظیم فقہاء میں سے تھے لوگوں نے آپ اور آپ کے فرزند جعفر ؑسے علم فقہ کو حاصل کیا ہے آپ کا لقب باقر العلوم تھا آپ کی ولادت سے پہلے ہی پیغمبر اسلامؐ نے یہ لقب آپ کوعطاکیا تھا جابر ابن عبد اللہ کوان سے ملاقات کی بشارت دی تھی اور جابر سے فرمایا تھا ان کو میرا سلام کہہ دینا۔ (۲١) شیخ مفید تحریر فرماتے ہیں: امام ابو جعفر محمد باقر ؑسے آغاز خلقت کائنات ،تاریخ انبیاء ، جنگوں، پیغمبر اسلامؐ کی سیرت اور سنتوں ، مناسک حج اور تفسیر قرآن کے سلسلہ میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں جنھیں شیعہ سنی دونوں علماء نے نقل کیا ہے آپ نے بدعت پھیلانے والوں اور باطل نظریات والوں سے مناظرہ کئے اور لوگوں نے بہت سے علوم آپ سے نقل فرمائے ہیں۔ امام محمد باقر ؑکی علمی منزلت ثابت کرنے کے لئے آپ کی احادیث موجود ہیں جو مختلف علو م وفنون جیسے عقائد، کلام، فلسفہ، فقہ، اخلاق، تاریخ، سماجی مسائل، تفسیر، وغیرہ کے سلسلہ آپ کے ذریعہ بیان ہوئی ہیںاور آج بھی حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ (۲۲) آپ سے مروی احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے آپ کے فرزند امام جعفر صادقؑ کے بعد دوسرے تمام ائمہ میں سب سے زیادہ روایات آپ ہی سے مروی ہیں۔ امام محمد باقر ؑنے اپنی زندگی میں بہت سے صاحب علم اور ممتاز شاگردوں کی تربیت فرمائی جو آپ کے اصحاب اور آپ کی روایت نقل کرنے والے شمار ہوتے ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے۔ ابو حمزہ ثمالی، ثابت ابن دینار، قاسم ابن محمد ابن ابی بکر، علی ابن رافع ،ضحاک ابن مزاحم خراسانی، حمید ابن موسیٰ کوفی، ابوالفصل سدیر ابن حکیم ابن صہیب صیرفی، عبد اللہ برقی ،یحییٰ ابن ام طویل مطعمی، حکیم ابن جبیر فرزدق فرات ابن احنف ،ایوب ابن حسن ابو محمد قریش سدی کوفی، طاؤوس ابن کیسان ہمدانی، ابان ابن تغلب ابن ریاح، قیس ابن رمانہ، ابو خالد کابلی، سعید ابن مسیب مخزومی، عمر ابن علی ابن الحسین، اور ان کے بھائی عبد اللہ جابر ابن محمد ابن ابی بکر۔ (۲٣) اسد حیدر نے آپ کے شاگردوں اور آپ سے روایت نقل کرنے والوں کے بارے میں اس طرح بیان کیا ہے: عمر و ابن دینار مجمی، عبد الرحمن ابن عمر اور دعی، عبد المل کابن عبد العزیز، قرہ ابن خالد سدرسی محمد ابن متکدر، یحییٰ ابن کثیر، ابوبکر محمد بیان سلم ابن عبید زہری، ابو عثمان ربیعہ ابن عبد الرحمن ابو محمد سلیمان ابن مہران اسدی، ابو محمد عبد اللہ ابن ابی بکر انصاری، زید ابن علی ابن الحسینؑ موسیٰ ابن سلہ ابو حہنم موسیٰ ابن ابی عبیسی حناط، ابو المغیرہ قاسم ابن فصل قاسم اببن محمد ابن ابی بکر تیمی، محمد ابن شوقہ حجاج ابن ارطاۃ معروف ابن مربوز کوفی، ابان ابن تغلب، برید ابن معاویہ علجی، ابو حمزہ ثمالی ثابت ابن دینار جابر ابن یزید جہنمی محمد بیان مسلم ابن ریاح، حمران بیان عین شیبانی، زرارہ ابن اعین شیبانی، عبد الملک ابن اعین شیبانی۔ (۲۴) 

امام محمد باقر ؑکے علوم کے ذرائع

 ۱۔ امام محمد باقر ؑنے تقریباً ۳۵ سال اپنے والد امام زین العابدین ؑکے ساتھ گزارے اور آپ سے بہت سے علوم سیکھے۔ ۲۔ احادیث کی کتابیں جو آپ کو میراث میں ملی تھیں مذکورہ کتابیں پیغمبر اسلامؐ کے املا اورحضرت علی ؑ کے دست مبارک سے لکھی ہوئی تھیں۔ ۳۔اپنی ذاتی صلاحیتوں اورخداوندعالم کی تائید کے مطابق قرآنی آیات سےاستنباط و استدلال۔۴۔کشف باطنی اورالہام غیبی۔ 

عبادت اور بندگی

امام محمد باقر علیہ السلام اپنے والد امام زین العابدین ؑکی طرح امام محمد باقر ؑعبادت، ذکر خدا، دعا، مناجات، بارگاہ الٰہی میں تضرع و زاری اور خشوع و خضوع کے اعلیٰ ترین مرتبہ پر فائز تھے اوراس اعتبار سے اپنے زمانے کے تمام لوگوں میں نمایاں تھے جس کے بعض نمونہ یہاں ذکر کئے جار ہے ہیں: 

امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: میرے والد کثیر الذکر تھے راستہ چلتے وقت، کھانا کھاتے وقت یہاں تک کہ لوگوں سے بات چیت کرنے میں بھی ذکر الٰہی سے غافل نہیں رہتے تھے کلمۂ لا الہ الا اللہ ہر وقت آپ کی زبان مبارک پر رہتا تھا کبھی کبھی ہم سب کو جمع کر کے حکم دیتے تھے کہ طلوع آفتاب تک ذکر الٰہی میں مصروف رہیںاور جو لوگ قرآن پڑھنا جانتے تھے ان سے فرماتے تھے قرآن مجید کی تلاوت کریں۔ (۲٥) امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: میرے والد آدھی رات میں خداوند عالم کی بارگاہ میں گریہ زاری فرماتے ہوئے کہتے تھے ’’امرتنی فلم ائتمر و نہیتنی فلم انزجر فہا انا عبد ک بین یدیک و لا اعتذر‘‘ (۲٦) معبود تو نے مجھے حکم دیا میں نے اس پر عمل نہیں کیا ، تو نے مجھے منع کیا لیکن میں اس سے نہیں رکا اب تیرا یہ بندہ تیری بارگاہ میں عذر چاہتا ہے ۔ امام محمد باقر ؑکے غلام افلح کا بیان ہے: میں آپ کے ساتھ حج کرنے گیا جب آپ مسجد الحرام پہونچے کعبہ پر نظر ڈالی تو اتنا گریہ کیا کہ آپ کی آواز بلند ہوگئی میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہو جائیں لوگ آپ کودیکھ رہے ہیں کاش آپ آہستہ گریہ فرماتے ۔ امام ؑ نے فرمایا: وائے ہو تجھ پر اے افلح میں کیوں گریہ نہ کروں اس طرح، شاید خداوند عالم مجھ پر اپنی رحمت نازل کردے اور اس کا لطف و کرم میرے شامل حال ہو جائے اور کل قیامت میں کامیاب ہو جاؤں۔ افلح کا بیان ہے: اس کے بعد آپ نے طواف کیا اور مقام ابراہیم پر نماز پڑھی جس وقت آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا گریہ کی وجہ سے سجدہ کی جگہ آپ کے آنسوؤں سے تر ہوچکی تھی۔ (۲۷) جابر جعفی کا بیان ہے محمد ابن علی ؑنے مجھ سے فرمایا: اے جابر میں پریشان اور فکر مند ہوں میں نے عرض کیا آپ کے مغموم اور فکر مند ہونے کی کیا وجہ ہے۔ آپ نے فرمایا: جس کے دل میں خالص دین الٰہی نے اپنی جگہ بنا لی ہو وہ خدا کی عبادت میں مصروف رہتا ہے اورغیر خدا کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ اے جابر! دنیا کی اوقات اس سواری کے برابر جس پر تم سوار ہوتے ہو یا اس لباس کے برابر جس کو پہنتے ہو یا اس زوجہ کے برابر جس کے ساتھ خلوت کرتے ہو، بھی نہیں ہے۔ اے جابر مومنین دنیا کی بقا پر بھروسہ نہیں کرتے اور خود کو موت اور آخرت میں حاضری سے محفوظ نہیں سمجھتے وہ جو کچھ اپنے کان سے سنتے ہیں وہ ان کوذکر خدا سے غافل نہیں کرتا دنیا کی چمک دمک ان کے لئے جلوۂ الہٰی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی ان لوگوں کو نیک اعمال انجام دینے والوں کی جزا ملے گی۔ متقی افراد دنیا میں سب سے کم خرچ کرنے والے ا ور تمہارے لئے بہترین مددگار ہیں اگر تم بھول جاؤ تو خدا کی یاد دلاتے ہیں اور اگر ذکر خدا کرو تو تمہاری مدد کرتے ہیں ان کی زبان خدا کے لئے حق بولتی ہے اور وہ خدا وند عالم کے اوامر کو قائم کرتے ہیں۔اپنی محبتوں کو خداوند عالم کی محبت پر قربان کرتے ہیں اپنے پاکیزہ قلوب کے ذریعہ خدا اور اس کی محبت پر نظر رکھتے ہیں اپنے مالک حقیقی کی اطاعت میں دنیا سے خوف زدہ رہتے ہیں اور اسی طرح کاکرداراپنے شایان شان سمجھتے ہیں دنیا کو ایک ایسی منزل کی طرح دیکھو جہاں کچھ دیر وقتی طور پر قیام کرنا ہے اور بہت جلدی ہی وہاں سے چلا جانا ہے یا اس مال کی طرح دیکھو جو خواب میں ملتا ہے اور جاگنے کے بعد موجود نہیں رہتا خدا کے دین اور اس کی حکمت کی حفاظت میں کوشاں رہو۔ (۲۸) امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ میں ہر رات اپنے والد بزرگوار کا بستر بچھاتا تھا اور انتظار کرتا تھا کہ آپ آرام فرمانے کے لئے تشریف لائیں اس کے بعد میں اپنے بستر پر چلا جاتا تھا ایک رات میں نے آپ کا بستر بچھایا اور انتظار میں رہا کہ آپ تشریف لائیں لیکن آپ نہیں آئے اور جب تمام لوگ سو گئے تو میں اپنے والد کی تلاش میں باہر نکلا آپ کو دیکھا آپ سجدہ کی حالت میں تھے میں نے آپ کے آہ و نالہ کی آواز سنی آپ سجدہ میں فرما رہے تھے ’’سبحانک اللہم انت ربی حقا حقاً سجدت لک یارب تعبداً و رقاً اللہم ان عملی ضعیف فضاعفہ لی اللہم قی عذابک یوم تبعث عبادک و تب علی انک انت التواب الرحیم‘‘ پاک و منزہ ہے تو اے معبود تو برحق ہے تو برحق ہے اے پروردگار میں تیرا سجدہ کرتا ہوں تیری بندگی اور غلامی کی وجہ سے معبود میرا عمل ضعیف ہے تو اسے دو گنا کر دے معبود مجھے اس دن کے عذاب سے محفوظ رکھ جس دن تیرے بندے اٹھائے جائیں گے معبود میری توبہ قبول کرلے تو توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (۲۹) امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: جس وقت میرے والد کسی چیز سے غمزدہ ہوتے تھے اپنے بچوں اور گھر کی عورتوں کو جمع کر کے دعا کرتے تھے اور وہ لوگ آمین کہتے تھے۔(٣۰) ابان ابن میمون قداح کا بیان ہے۔ حضرت ابو جعفر ؑامام محمد باقر ؑنے مجھ سے فرمایا: قرآن پڑھو میں نے عرض کیا کہاں سے فرمایا: نویں سورہ سے میں نے وہ سورہ ڈھونڈھنا چاہا تو آپ نے فرمایا: سورہ یونس سے پڑھو جب میں اس آیت پر پہونچا {الذین أحسنوالحسنیٰ و زیادۃ  تو آپ نے فرمایا:کافی ہے پیغمبر اسلام ؐ فرماتے تھے کہ مجھے اس بات سے تعجب ہے کہ میں قرآن پڑھوں اور میرے بال سفید نہ ہوجائیں۔ (٣۱)

حسن و سلوک اور راہ خدا میں انفاق

امام محمد باقر ؑکوئی دولتمند انسان نہیں تھے اور آپ کا خرچ بھی زیادہ تھا لیکن اس کے باوجود حتی الامکان صدقہ دیتے تھے اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے۔ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: میرے والد مالی اعتبار سے اپنے دوسرے اقرباء سے کمزور تھے اور آپ کی زندگی کا خرچ ان سے زیادہ تھا اس کے باوجود ہر جمعہ کو ایک دینار صدقہ دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جمعہ کے دن صدقہ دینا دوسرے دنوں میں صدقہ دینے سے بہتر ہے۔ (٣۲) حسن ابن کثیر کا بیان ہے کہ میںنے اپنی احتیاج اور اپنی طرف سے دوستوں کی لاپرواہی کے بارے میں امام محمد باقر ؑسے عرض کیا تو آپ نے فرمایا: کتنے برے ہیں ایسے دوست جو دولت کے وقت انسان کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور ضرورت کے وقت اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے بعد اپنے غلام کو حکم دیا کہ ایک تھیلی جس میں سات سو درہم ہیں انہیں دیدے اس کے بعد مجھ سے فرمایا: ان کو خرچ کراور جب پھر ضرورت پڑے مجھے باخبر کر دینا۔ (٣٣) عمر ابن دنیا راور عبیداللہ ابن عبید کا بیان ہے ہم جب بھی امام محمد باقر ؑکی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو آپ ہمیں پیسے اور لباس عطا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں نے یہ لباس پہلے سے ہی تم لوگوں کے لئے مہیا کر رکھا تھا۔ (٣۴) سلیمان ابن قرم کا کہنا ہے: حضرت امام محمد باقر ؑپانچ سو چھ سو یا بعض اوقات ہزار درہم تک مجھے عطا کرتے تھے اور کسی وقت بھی اپنے بھائیوں، سوال کرنے والوں اور اپنے سے امید لگانے والوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے تھکتے نہیں تھے۔ (٣٥) امام محمد باقرعلیہ السلام کی کنیز سلمیٰ کا بیان ہے جو لوگ آپ کے پاس آتے تھے ان کو بغیر کھانا کھلائے واپس نہیں جانے دیتے تھے ان کو پیسے اور لباس عطا کرتے تھے میں نے آپ سے درخواست کی کہ کچھ کم دیا کریں تو آپ نے فرمایا: دین میں سب سے بہترین نیکی اپنے بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ (٣٦) امام جعفر صادقؑ کا بیان ہے کہ میں اپنے والد کی خدمت میں حاضر تھا انھوں نے اسی (۸۰) ہزار دینار مدینہ کے ضرورت مند افراد میں تقسیم کئے۔ (٣۷) جب کہ آپ اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگی کا خرچ چلانے کے لئے کام کرتے تھے اور مدینہ کی شدید گرمی میں پسینہ پسینہ ہو جاتے تھے۔ محمد ابن منکدر کا بیان ہے میں نہیں سوچتا تھا کہ علی ابن الحسین ؑاپنے بعد اپنے جیسا جانشین چھوڑ کر جائیں گے میں نے آپ کے فرزند محمد ابن علی کو دیکھا میں ان کو نصیحت کرنا چاہتا تھا لیکن انھوںنے خود مجھے نصیحت کردی اصحاب نے پوچھا تمہیں کس طرح نصیحت کی تواس نے بیان کیا میں شدید گرمی کے وقت مدینہ کے باہر گیا تھا دیکھا کہ محمد ابن علی جو ایک فربہ اندام کے مالک ہیں اپنے دوغلاموں کا سہارا لئے ہوئے ہیں مجھے تعجب ہوا کہ قریش کے ایک بزرگ اتنی شدید گرمی میں دنیا طلب کرنے باہر نکلے ہیںمیں نے سوچاکہ جاکر ان کو نصیحت کروں ان کے نزدیک گیا اور سلام کیا آپ نے پھولی ہوئی سانس اور بہتے ہوئے پسینہ کے ساتھ میرے سلام کا جواب دیا میں نے عرض کیا کہ قریش کے بزرگوں میںسے ایک بزرگ اس شدید گرمی کے وقت طلب دنیا میں باہر نکلے ہوئے ہیں ؟ اگر اس حالت میں آپ کو موت ہو جائے تو خدا کو کیا جواب دیں گے آپ نے غلاموں کے کاندھوں سے ہاتھ اٹھا کر کہا خدا کی قسم اگر اس حال میں مجھے موت آ جائے تو میں خدا کی اطاعت کرتا ہوا دنیا سے جاؤں گا میں اس لئے کام کرنے کے لئے نکلا تھا کہ تیرا یا تیرے جیسوں کا محتاج نہ ہوں مجھے اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ خداکی نافرمانی کی حالت میں موت نہ آ جائے۔ محمد ابن منکدر کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا خدا آپ پر رحمت نازل کرے میں سوچ رہا تھا آپ کو نصیحت کروں گا آپ نے مجھے نصیحت کردی۔ (٣۸) 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)بحار الانوار، ج۴۶، ص۲۱۶و ۲۱۷و ۲۲۲ 

(۲)بحار الانوار، ج۴۶، ص۲۱۷ 

(٣)اثبات الہداۃ، ج۵، ص۲۶۱

 (۴)اثبات الہداۃ، ج۵، ص۲۶۲

 (٥)اثبات الہداۃ، ج۵، ص۲۶۲

 (٦)اثبات الہداۃ، ج۵، ص۲۶۳ 

 (۷)اثبات الہداۃ، ج۵، ص۲۶۴ 

(۸)اثبات الہداۃ، ج۵، ص۲۶۴ 

(۹)اثبات الہداۃ، ج۵، ص۲۶۴

 (١۰)اثبات الہداۃ، ج۵، ص۲۶۴ 

(١١)اثبات الہداۃ، ج۵، ص۲۶۵ 

 (۱۲)اثبات الہداۃ، ج۵، ص۲۶۵ 

(١٣)الارشاد، ص ۱۵۷

 (١۴)البدایہ و النہایہ، ج۹، ص۳۳۸ 

(١٥)البدایہ و النہایہ، ج۹، ص۳۳۹

 (۱٦)الصواعق المحرقہ، ص۲۰۱ 

(١۷)الفصول المہمہ، ص۱۹۳ 

(١۸)تہذیب التہذیب، ج۹، ص۳۵۰

 (١۹)بحار الانوار، ج۴۶، ص۲۸۶، الارشاد، ص۱۶۰

 (۲۰)بحار الانوار، ج ۴۶، ص۲۸۶ 

(۲١)شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج۱۵، ص۲۷۷

(۲۴)الامام الصادقؑ والمذاہب الاربعہ،ج۲،ص۴۴۰اسد حیدر، 

 (۲٥)بحار الانوار، ج۴۶، ص۲۹۷

 (۲٦)کشف الغمہ، ج۲، ص۳۳۰

(۲۷)کشف الغمہ، ج۲، ص۳۲۹ 

(۲۸)کشف الغمہ، ج۲، ص۳۳ 

(۲۹)بحار الانوار، ص۳

(٣۰)بحارالانوار،ج۴۶،ص۲۹۷ولایرہق وجوہم قترۃ ولاذلۃ}

 (٣۱)بحار الانوار، ج۴۷، ص۳۰۲ 

(۲٣)بحار الانوار، ج۴۶، ص۲۹۴ 

(٣۳)بحار الانوار، ج۴۶، ص۲۹۴

 (٣۴)بحار الانوار، ج۴۶، ص۲۸۸

 (٣٥)بحار الانوار، ج۴۶، ص۲۸۸

 (۳٦)کشف الغمہ، ج۲، ص ۳۳۰ 

(٣۷)بحار الانوار، ج۴۶، ص۳۰۲ 

 (٣۸)بحار الانوار، ج۴۶، ص ۲۸۷

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
9 + 1 =