۲۸ خرداد ۱۴۰۳ |۱۰ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 17, 2024
سوئیڈن

حوزہ/ سوئیڈن کے مسلمان توہین روکنے کے لیے قانون کی تبدیلی کی کوشش کریں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ڈنمارک کے اسلام مخالف شدت پسند رھنما راسموس پولڈان Rasmus Paluda)  کی جانب سے قرآن سوزی کے بعد  یہاں کے مسلمانوں کی کوشش ہے کہ مذاہب کی توہین کے لیے قانون سازی ہو. انکا مطالبہ ہے کہ قرآن سوزی کے حوالے سے قانون سازی کی جائے۔

سوئیڈن کے ایک مقامی عالم اور امام جماعت حسین فرح ورشامه کا کہنا ہے: ہم نہیں چاہتے کہ کوئی مقدس کتاب قرآن، انجیل یا تورات کو جلایا جائے یا ان مذاہب کی توہین ہو۔

قرآن سوزی کی مختلف شخصیات نے مذمت کی ہے اور  اسقف اعظم آنیٹه ژاکلن(Antje Jackelén  نے بھی عیسائی رھنما کے حیثت سے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سوئیڈن میں ۱۹۶۰ سے مسلمانوں کی ہجرت بڑھی ہے اور سروے مرکز PEW کے مطابق سال ۲۰۱۷ میں ملک کی دس ملین کی ابادی کا ۸۔۱ فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے اور مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .