۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
مولانا سید صفی حیدر زیدی

حوزہ/ سربراہ تنظیم المکاتب نے فرمایا: معصومؑ نے فرمایا کہ اگر یہ پتہ کرنا ہو کہ اللہ ہم سے راضی ہے یا نہیں تو یہ دیکھو کہ تم اس سے کتنا راضی ہو، اس کے فیصلوں پر کتنا راضی ہو۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنو/ سابق رکن مجلس انتظام تنظیم المکاتب حاجی اکبر علی تیجانی صاحب مرحوم کی منعقد آن لائن مجلس ترحیم میں سربراہ ادارہ تنظیم المکاتب حجۃالاسلام والمسلمین مولانا سید صفی حیدر زیدی نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث ’’لوگوں کے درمیان ایسے رہو کہ اگر نہ ملو تو لوگ تم سے ملاقات کے مشتاق ہوں اور اگر مر جاو تو تم پر گریہ کریں۔ ‘‘ کو سرنامہ کلام قرار دیتے ہوئے فرمایا:  بہت سے لوگ اسی طرح زندگی گذارتے ہیں جس طرح معصومینؑ نے انھیں ہدایت دی ہے اور پھر انھیں وہ نتائج حاصل ہوتے ہیں جو ان ہدایات پرعمل کرنے میں حاصل ہونا چاہئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کےساتھ ایسے زندگی بسر کرو ، اس طرح ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ، آنا جانا رکھو ،اس طرح ان سے میل ملاپ اور معاشرت رکھوکہ جب تم ان کے بیچ سے ہٹ جاو کہیں اور چلے جاوتو تم سے ملنے کے وہ مشتاق ہوں  اور جب تم ان کے درمیان نہ رہ جاو، تمہیں موت آ جائے تو وہ تم پر روئیں۔ یہ دو کیفیتیں کہ اگر نہ ملیں تو لوگ ملاقات کے مشتاق ہوں اور اگر مر جائیں تو لوگ روئیں تو یہ دونوں صفتیں انسان کو ایسے ہی نہیں ملتی جب تک انسان جینے کے لئے وہ سلیقہ نہ اپنائے جو دوسروں کے دلوں میں محبت پیدا کرے، انس پیدا کرے اور جی چاہے ملنے کا اور یہ تب ممکن ہے جب دین کے بتائے اصولوں پر عمل کیا جائے۔ 

سکریٹری تنظیم المکاتب نے فرمایا: دین نے ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں ہدایات دی ہیں۔ ان میں سے ایک شعبہ ہے دوسروں کےدرمیان جینا، اگر ہم اکیلے رہنے کے لئے بنائے گئے ہوتے تو ہماری زندگی کے احکام اللہ نے ہمیں اکیلے نظر میں رکھ کر بنائے ہو تے لیکن ہم اکیلے رہنے کے لئے نہیں خلق کئے گئے ہیں ، ہم دوسروں کے ساتھ رہنے کے لئے بنائے گئے ہیںلہذا دوسروں کے ساتھ رہ کر جینے کے اصول پروردگار نے معین کئے ہیں۔ اور اگر ان اصولوں پر عمل کر کے انسان زندگی بسر کرے تو وہی نتیجہ ملے گاجو نتیجہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ اس طرح جیئو کہ لوگ اگر تمہیں نہ پائیں تو تمہیں ڈھونڈھے ، تم سے ملنا چاہیں ، تمہاری ملاقات کے مشتاق ہوں، اور مر جاو تو تم پر روئیں، یہ نہ ہو کہ مر گیا چھٹی ملی، یہ نہ ہو کہ ہٹ گیا یہاں سے خوف ختم ہواہمارے بیچ میں نہیں ہے ، چلا گیا۔ مرحوم اکبر علی تیجانی صاحب جن لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے وہ ان سے محبت کرتےتھے اور ملنے کے مشتاق ہوتے تھے۔ دنیا میں کچھ لوگوں سے مل کر انسان کو سکون ملتا ہے اور اس کے برخلاف کچھ لوگوں سے مل کر گھبراہٹ محسوس ہوتی کہ کیا کہہ دیں ۔ یعنی زندگی کے اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان سے لوگ ملیں تو سکون محسوس کریں خطرہ نہیں۔ نہ ملنے والوں کو زبان سے  اپنی توہین کی امید ہو اور نہ عمل سے نقصان کی توقع ہو۔ 

مولانا سید صفی حیدر زیدی نے بیان کیا : مذہب نے لوگوں کے درمیان اچھی زندگی بسر کرنے کے جو اصول بتائے ہیں۔ انمیں سے ایک بنیادی اصول ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی کے سوال کے جواب میں فرمایا تھاکہ جب ان صحابی نے آپؐ کی خدمت عرض کیا تھا کہ میرے چھ مطالبے ہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے یہ مطالبے پورے کر دیں۔’’ میری پہلی آرزو یہ ہے کہ اللہ مجھ سے راضی ہو جائے‘‘ رسول اللہ ﷺ کا تربیت یافتہ تھا ، مومن تھا ، اس لئے یہ مطالبہ کیا کہ اللہ راضی ہو جائے ورنہ اللہ تو دور کی بات ہےانسان ماں باپ کو راضی رکھنے کی فکر نہیں کرتا، انسان اسی کو راضی رکھنا چاہتا ہے جس سے اسکی دنیا وابستہ ہے لیکن جو دنیا میں آنے کا سبب بنے ان کو خوش کرنے کی فکر نہیں کرتا ، بے شک دنیوی زندگی میں جو ذریعہ ہیں انھیں خوش رکھے لیکن والدین جیسا ذریعہ ہیں ویسا کوئی ذریعہ نہیں، ان سے انسان کو زندگی ملتی ہے، عزت ملتی ہے، محبت ملتی ہے، لہذا ان کو راضی رکھنا خوش رکھنا پہلی منزل پر ہے اور جب انکا خوش رکھنا اتنا اہم ہے تو جس (خدا) نے ہمیں یہ عطا کیا ہےاس کی خوشنودی کتنی اہم ہوگی۔ 

سربراہ تنظیم المکاتب نے فرمایا : معصومؑ نے فرمایا کہ اگر یہ پتہ کرنا ہو کہ اللہ ہم سے راضی ہے یا نہیں تو یہ دیکھو کہ تم اس سے کتنا راضی ہو، اس کے فیصلوں پر کتنا راضی ہو۔ اس صحابی نے دوسرا مطالبہ یہ کیا کہ لوگ ہم سے خوش رہیں، ہماری دولت میں فراوانی ہو، لمبی عمر چاہئیے، لمبی عمر میں اچھی صحت ہو اور آخرت میں مجھے آپ کا پڑوس نصیب ہو۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایااگر چاہتے ہو کہ اللہ راضی رہے تو اسکی اطاعت کرو اور اسکی نافرمانی نہ کرو، کم سے کم واجب پر عمل کرو اور حرام میں مبتلا نہ ہو۔ اگر چاہتے ہو کہ لوگ تم سے راضی رہیں تو انکے پاس جو ہے اس پر نظر نہ رکھو اور جو تمہارے پاس ہے اسے ان تک پہنچاتے رہو۔ اگر چاہتے ہو کہ تمہارا مال زیادہ ہو اس میں کمی نہ آئے تو اللہ نے جو ادائگی واجب کی ہے۔(خمس و زکات) اسے ادا کرتے رہو، اگر چاہتے ہو کہ تمہاری عمر لمبی ہو تو جو رشتہ اللہ نے بنائے ہیں اسے جوڑ کر رکھو یعنی صلہ رحم کرو۔رشتہ توڑنے سے عمریں گھٹتی ہیں۔ اگر چاہتے ہو کہ صحت مند رہو تو صدقہ دو، اگر آخرت میں میرا پڑوس چاہتے ہو تو طولانی سجدے کرو۔ 

مولانا سید صفی حیدر زیدی نے فرمایا کہ معصومینؑ نے جو زندگی کے اصول بتائے ان میں ایک اسی حدیث میں بیان ہو ا کہ لوگوں کے پاس جو ہے اس پر نظر نہ رکھو اور جو تمہارے پاس ہے اسے لوگوں تک پہنچاو مرحوم اکبر علی تیجانی صاحب نے دوسروں کی امداد کے لئے اپنے پیسوں سے مولانا غلام عسکریؒ ٹرست بنایا جو انکے بعد انکے بیٹے چلا رہے ہیں اور مستحقین کی مدد کر رہے ہیں۔ 

تبصرہ ارسال

You are replying to: .