۲۵ فروردین ۱۴۰۳ |۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 13, 2024
صفی حیدر زیدی

حوزہ/ سکریٹری تنظیم المکاتب نے کہا کہ اللہ کی ایک عظیم نعمت وقت ہے، جس کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا جب کہ ہمیں اس کا بھی حساب دینا ہوگا، مجلسوں میں تاخیر کہ جس کی جانب ہم توجہ نہیں دیتے، منبر سے وہی بیان ہو جو قرآن و احادیث کے مطابق ہو، ذاتیات بیان کرنے کی یہ جگہ نہیں ہے، کیوں کہ اس میں بھی لوگوں کا وقت صرف ہوتا ہے، لہذا ایسے کو منبر دیں جو اس کا حق ادا کرے۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دہلی/ جناب سید علی حیدر زیدی صاحب کی اہلیہ مرحومہ کے سوئم کی مجلس درگاہ شاہ مرداں میں منعقد ہوئی۔ مولانا سید صفی حیدر زیدی صاحب قبلہ سکریٹری تنظیم المکاتب لکھنؤ نے  سورہ اعلیٰ کی آیات ’’قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّى، وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى، بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا‘‘  (وہ شخص کامیاب ہوا جس نے خود کو پاک کیا۔اور اپنے پروردگار کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی۔ مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو (آخرت پر) ترجیح دیتے ہو۔ )کو سرنامہ کلام قرار دیتے ہوئے بیان کیا کہ موت کے سلسلہ میں دو نظریہ ہیں ایک دینی نظریہ ہے یعنی موت فنا نہیں بلکہ بقا ہے دوسرا غیر دینی نظریہ ہے یعنی موت فنا ہے۔ جو انسان روز قیامت، روز حساب پر یقین رکھتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ اسے موت کے بعدحساب دینا ہو گا تو اسکی زندگی بھی اسی کے مطابق بسر ہوتی ہے، قدم قدم پر خیال رہتا ہے کہ جو بول رہا ہوں اس کا حساب دینا ہے، کو کر رہا ہے اس کا حساب دینا ہے ، جو دیکھ رہا ہے اس کا حساب دینا ہے۔ تو زندگی بھی ویسی ہی بسر کرتا ہے لیکن جس کو قیامت اور روز حساب پر یقین نہیں ہوتا تو وہ اسی کے مطابق زندگی  بسر کرتا،  وہ اپنے دنیوی فائدہ کے پیش نظر کام انجام دیتا ہے، من مانی کرتا ہے۔

اللہ کی ایک عظیم نعمت ’’وقت‘‘ ہے، مولانا سید صفی حیدر زیدی

مولانا سید صفی حیدر زیدی صاحب قبلہ نے فرمایا: اللہ کی ایک عظیم نعمت وقت ہے، جس کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا جب کہ ہمیں اس کا بھی حساب دینا ہوگا، مجلسوں میں تاخیر کہ جس کی جانب ہم توجہ نہیں دیتے، منبر سے وہی بیان ہو جو قرآن و احادیث کے مطابق ہو،  ذاتیات بیان کرنے کی یہ جگہ نہیں ہے، کیوں کہ اس میں بھی لوگوں کا وقت صرف ہوتا ہے، لہذا ایسے کو منبر دیں جو اس کا حق ادا کرے۔

اللہ کی ایک عظیم نعمت ’’وقت‘‘ ہے، مولانا سید صفی حیدر زیدی

سکریٹری تنظیم المکاتب نے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی حدیث بیان کی ’’ انسان بے چارہ ہر دن ان تین مصیبتوں سے دوچار ہوتا ہے لیکن وہ انمیں سے کسی ایک سے بھی نصیحت اور عبرت حاصل نہیں کرتا، اگر عبرت حاصل کرتا تو دنیوی مسائل اس کے لئے آسان ہو جاتے۔ اول: جو دن بھی گذرتا ہے اس کی عمر کم ہوتی ہے، اگر مال کم ہو جائے تو اس کا بدل ممکن ہے جب کہ عمر کا بدل ممکن نہیں۔ دوم:  روزآنہ اپنی روزی حاصل کرتا ہے۔ اگر حلال راستے سے روزی حاصل کرے گا تو قیامت میں حساب دینا ہو گا اور اگر حرام راستے سے حاصل کرے گا تو عذاب ملے گا، سوم: یہ قسم پہلی دو قسموں سے زیادہ اہم ہے کہ انسان کا ہر قدم اسے آخرت سے نزدیک کرتاہے اور اسے نہیں پتہ کہ اس کی منزل جنت ہے یا جہنم ہے۔‘‘ سال گذرنے پر انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئیے نہ کہ برٹھ ڈے منانی چاہئیے۔ اسی طرح دھاگہ باندھنا، تالا لگانا نہ جانے کہاں سے دین میں داخل ہو گیا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .