۱۶ اردیبهشت ۱۴۰۰ | May 6, 2021
آغا سید علی رضوی

حوزہ/ سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان نے کہا کہ ہر محبوب اور پسندیدہ چیز کو قربان کیئے بغیر ہدف تک پہنچنا نہایت مشکل بلکہ محال ہے۔ لہذا اپنی پسندیدہ چیز کو قربان کرنا ہوگا۔ پسندیدہ اور محبوب چیز اولاد بھی ہوسکتی ہے، والدین بھی ہوسکتے ہیں،بیوی اور مال و زر بھی ہوسکتے ہیں اور شہرت یا جاہ اقتدار بھی ۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،سکردو/ جامعہ نجف سکردو میں ماہ مبارک رمضان میں سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان حجۃ الاسلام آغا علی رضوی نے طلاب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قافلۂ نوع آدم ہر دور میں نیکی کی طرف رواں دواں ہے۔ ہر انسان چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم نیکی اور اچھائی کی طرف گامزن ہے۔ عقل انسانی کا بھی یہی تقاضا ہے کہ انسان  نیکی ، اچھائی اور بھلائی کے کام کرے۔عقل انسانی جس قدر کمال کی طرف بڑھتی جائے گی  اسی قدر نیکی کی طرف رغبت بھی زیادہ ہوتی جائے گی ۔اسی طرح جس قدر علم و معرفت  میں اضافہ ہو گا اسی قدر نیکی کا جذبہ اور شوق بھی پروان چڑھے گا۔ مثبت اور تعمیری نفسیاتی،ماحولیاتی،تعلیمی یا مذہبی تربیت کی وجہ سے انسان نیکی کی طرف تیزی سےبڑھتا ہے۔ تربیت اور ماحول انسانی  اہداف اور مقاصد  پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔کوئی ماحول سب سے بڑی نیکی نماز کو سمجھتا ہے تو یقینا اس کی طرف عوامی رغبت اور توجہ بھی زیادہ ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کوئی معاشرہ تعلیم کو بڑی نیکی سمجھتا ہے تو لوگوں کی رغبت تعلیم کی طرف زیادہ ہوگی۔اسی طرح کہیں فلاحی امور کو زیادہ عظیم نیکی سمجھا جاتا ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی چیز کو عظیم نیکی سمجھ رہا ہوتا ہے۔ ہر کوئی اپنی تربیت اور ماحول کے حساب سے نیکی اور بھلائی کا تصور ذھن میں سموئے رکھتا  ہے۔ ہر ایک کا ہدف اور مقصد الگ ہے۔ انسان کو یہ بھی معلوم ہے کہ نیکی تک جانا اور مقصد تک رسائی حاصل کر لینا آسان کام ہرگز نہیں ہے۔ ہدف اور مقصد کے حصول کے لئے تاریک راستوں کو بھی خیر مقدم کہنا  پڑتا ہے نیز سختیوں اور مشکلات کے سمندر میں کودنا بھی پڑتا ہے۔جس قدر  ہدف عظیم اور بلند ہوگا اسی قدر تکالیف کو تسلیم بھی کرنا پڑے گا۔

قرآن مجید میں بھی اسی حقیقت کے بارے میں یوں اشارہ  فرماتاہے: "لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبّون"تم ہرگز نیکی تک نہیں پہنچوگے جب تک اپنی محبوب چیز کو راہ خدا میں قربان  نہ کروگے۔جب تک انسان اپنی پسندیدہ ترین اور ضروری ترین چیز کو راہ خدا میں خرچ نہ کرے اس وقت تک وہ منزل اور ہدف کو پانہیں سکے گا۔ مثلا جس طالب علم کا مقصد اور ہدف حصول تعلیم ہواگر اسے شب بیداری کی وجہ سے کلاس میں نیند آتی ہو تو یہ ہدف کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اگرچہ شب بیداری پسندیدہ اور محبوب ترین چیز ہے لیکن اس کے باوجود اسے قربان کرنا ہوگا کیونکہ اس کی وجہ سے آپ کے مقصد میں خلل آرہا ہے۔ ہر محبوب اور پسندیدہ چیز کو قربان کیئے بغیر ہدف تک پہنچنا نہایت مشکل بلکہ محال ہے۔ لہذا اپنی پسندیدہ چیز کو قربان کرنا ہوگا۔ پسندیدہ اور محبوب چیز اولاد بھی ہوسکتی ہے، والدین بھی ہوسکتے ہیں،بیوی اور مال و زر بھی ہوسکتے ہیں اور شہرت یا جاہ اقتدار بھی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ چیزیں منزل اور ہدف تک پہنچنے میں رکاوٹ ہیں توانہیں قربان کرنا ہی پڑے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا نیک ہدف وہی ہے جو ہر انسان اپنے تصورات اور خیالات میں رکھے ہوئے ہے؟ اصل اور بہترین نیکی کون سی ہے جس کی خاطر کچھ دوسری نیکیوں کو بھی قربان کرنا پڑے؟  وہ ہے "حب علی ابن ابی طالب"۔علی کی محبت کے حصول کے لئے دنیا وفیھا کو بھی قربان کرنا پڑے تو تیار رہنا ہوگا ۔علی کی محبت کے پیچھے ایک اور عظیم نیکی چھپی ہوئی  ہے جس کا اشارہ دعائے افتتاح میں  یوں ملتا ہے:  اللھم انا نرغب الیک فی دولۃ کریمۃ تعز بہا الاسلام واہلہ وتذل بہا النفاق واہلہ۔سب بڑی نیکی یہی ہے جس کے حصول کے راستے میں موجود رکاوٹوں کو نظر انداز کرنا ہوگا  تاکہ اصل ہدف اور مقصد حاصل ہوسکے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 6 =