۳ مرداد ۱۴۰۰ | Jul 25, 2021
News Code: 368916
24 مئی 2021 - 01:06
علی ہاشم عابدی

حوزہ/ جنت البقیع کو مجاور تعمیر نہیں کرا سکتے بلکہ مجاہد کی ضرورت ہے جو اپنے جان ، مال ، اولاد کی فکر کئے بغیر دشمن کی فوج میں گھس کر انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے۔ قربانیاں جنکی فضیلت ہو اور شہادت جن کے لئے کرامت ہو۔ 

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی انہدام جنت البقیع کے۹۸ ؍سال گذر گئے، جس کی یاد منائی گئی، لاک ڈاون کے سبب اجتماع ممکن نہ تھا لہذا آن لائن احتجاجات ہوئے، بیانات آئے، محبان آل محمد علیہم السلام نے حسب امکان میڈیا، سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اپنی بات دنیا تک پہنچائی۔ 

اللہ اہلبیتؑ کے تمام چاہنے والوں کی زحمتوں کو قبول فرمائے، انشاء اللہ عنداللہ سبھی حضرات ماجور ہیں۔

اسی غم و الم کے ماحول میں اسرائیل کی شکست کی خوشخبری بھی موصول ہوئی تو ہر ذی شعور سوچنے پر مجبور ہوا کہ آخر ۱۹۴۸ ؁ءسے قابض و غاصب اسرائیل نے کیسے گھٹنے ٹیک دئیے،  ۷۱ ؍ برسوں سے اسرائیلی ظلم و ستم کے شکار فلسطینیوں کو فتح کیسے نصیب ہوئی۔  صیہونی فوجیوں کی موجودگی میں مسلمان آزادی سے مسجد اقصی میں داخل ہوئے، اپنے منہدم گھروں کے سامنے فلسطینوں نے جشن منایا۔ لیکن آخر یہ کیوں کر ممکن ہوا، جبکہ دنیا کی بڑی طاقتوں نے اسرائیل کی نہ صرف حمایت بلکہ ہر ممکن مدد سے کبھی پرہیز نہیں کیا، جنگ پسند صیہونی آخر کیسے صلح پر آمادہ ہو گئے؟ گولیوں اور  بارود کا ڈھیلے پتھر سے جواب دینے والے کیسے اتنے مضبوط ہو گئے کہ دشمن ان سے صلح کی پیشکش پر مجبور ہوگیا؟ 

آخر اچانک اس تبدیلی کا سبب کیا ہے؟ 

میڈیا سوشل میڈیا پر بھی اسی طرح کےسوالات دیکھنے کو ملے اور ان کے جوابات بھی دیکھے جس سے مندرجہ ذیل نتائج سامنے آئیں:

۱۔ فلسطینیوں نے دشمن کی شناخت کر لی۔

۲۔ فلسطینیوں کو تجربہ ہو گیا کہ ان کا حقیقی دوست کون ہے۔

۳۔ فلسطینیوں نے زبانی اور حقیقی دوست کی مکمل پہچان کر لی کہ کون ہے جو صرف زبان و بیان سے حمایت کرتا ہے اور کون ہے جو دل وجان سے ساتھ ہے۔ بیت المقدس کے مجاوروں کے تجربہ نے انہیں سمجھا دیا کہ خانہ خدا اور انبیاء و مرسلین کےقبور و آثار کا مخلص کون ہے اور کون ان کی حفاظت میں پیش قدمی اپنا فریضہ سمجھتا ہے؟ کون ہیں جو نہ فقط اپنے ملک و ملت بلکہ دنیا کے تمام کمزوروں اور مظلوموں کے حق میں نہ صرف آواز بلند کرتے ہیں بلکہ کسی بھی ممکن اقدام سے پیچھے نہیں ہٹتے ؟ کون ہیں جنہوں نے اسلام و انسانیت کے لئے قربانیاں پیش کیں؟  

فلسطینیوں کے لئےواضح ہو گیا کہ وہ نجدی جب اپنے ملک میں مختلف بہانوں سے توحید کی نشانیوں کو مٹا رہے ہیں، جن بزرگان  دین نے دنیا کو اسلام سکھایا ہے نجدیوں نے انہیں کے مزارات کو شرک و بدعت بتا کر منہدم کر دیا تو جو اپنے ملک میں مساجد کو شہید کرتے ہیں، روضوں کو مسمار کرتے ہیں ان سے بیت المقدس ، قبور انبیاء علیہم السلام اور اسلامی آثار اور انسانیت کے تحفظ کی امید عبث ہے، جن کی جیلیں علماء اور دانشوروں سے بھری ہوں ، قطیف میں آئے دن حملے ان کا مشغلہ ہو ، بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلنا ان کا شوق ہو وہ کیسے فلسطینیوں کے حق میں بولیں گے؟ جن کو اپنے ملک میں مظلوم کی آہ نہیں سنائی دیتی انھیں فلسطینی بے گناہوں کی فریاد کیسے سنائی دے گی؟ 

فلسطینیوں کو یہ بھی معلوم ہے اور تجربہ ہے کہ ترک حکمرانوں کی تاریخ رہی ہے کہ عالم اسلام کے ہیرو بننے اورقیادت کی لالچ میں ہمیشہ ہر اچھی تحریک کی کھل کر حمایت کرتے ہیں لیکن جب قربانیوں کی بات آتی ہے تو خود مظلوموں کی مخالفت کر دیتے ہیں اور ظالموں سے کبھی بھی ان کے رابطہ خراب نہیں رہے بلکہ سب سے پہلے جس نام نہاد اسلامی ملک نے اسرائیل کو قبول کیا وہ یہی ہیں۔ زبان و بیان سے تو ظالم کی مخالفت کرتے ہیں لیکن تعلقات کبھی بھی خراب نہیں کئے تا کہ کبھی اقتصادی اور سیاسی مشکل درپیش نہ ہو۔ 

لہذا فلسطینیوں نے اپنے مخلص مددگار کو پہچان لیا جس نے ہمیشہ انکے حق میں آواز بلند کی اور انکی حمایت میں ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو یوم قدس کا نام دیا اور عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ ان کے حق میں آواز بلند کریں، اور صرف زبان و بیان ہی نہیں بلکہ ہر ممکن مدد کی جس کے نتیجہ میں مظلوموں کو فتح اور ظالموں کو شکست نصیب ہوئی۔

جی وہ مخلص مددگار کوئی اور نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے۔ جو پوری دنیا کے مظلوموں اور کمزوروں کا حامی اور ظالموں کا دشمن ہے۔ جس نے فلسطین کو یہودیوں کے شر سے بچایا ، عراق، شام اور لبنان وغیرہ کو سعودی زر خرید دہشت گردوں طالبان و داعش سے بچایا۔  داعش کی قید سے وطن عزیز ہندوستان کی دسیوں نرسوں کو آزاد کرایا۔ جس نے عراق و شام میں موجود روضوں کی حفاظت کے لئے قربانیاں پیش کی کہ اگر یہ قربانیاں نہ ہوتیں تو عراق و شام میں بھی جنت البقیع جیسی مظلومیت نظر آتی۔ کیوں کہ عراق و شام کے روضوں کو منہدم کرنا داعشیوں کے اہم مقاصد میں شامل تھا اور جب انہیں موقع ملا تو سامرہ پر حملہ کر کے بتا بھی دیا کہ ہم یہی ویرانی کربلا، کاظمین، نجف اور دمشق میں بھی چاہتے ہیں۔ 

تو کیا اب بھی ہمیں سوچنا نہیں چاہئیے ؟ ہم کب تک خواب غفلت کا شکار رہیں گے؟ ہم کب بیدار ہوں گے؟

وہ نعرہ لگانے والے کہ جب حالات اچھے تھے تو جہاز بھر بھر کر شام جاتے رہے لیکن جہاں حالات خراب ہوئے تو بیان کی حد تک بھی سامنے نہ آئے۔ ان سے کسی خیر کی امید عبث ہے۔

جنت البقیع کو مجاور تعمیر نہیں کرا سکتے بلکہ مجاہد کی ضرورت ہے جو اپنے جان ، مال ، اولاد کی فکر کئے بغیر دشمن کی فوج میں گھس کر انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے۔ قربانیاں جنکی فضیلت ہو اور شہادت جن کے لئے کرامت ہو۔ 

چونکہ جنت البقیع ایک عالمی مسئلہ ہے، جس طرح بیت المقدس پورے عالم اسلام کا قبلہ اول ہے اسی طرح جنت البقیع عالم اسلام کا مقدس مقام ہے، جہاں اللہ کے پیارے نبیؐ حکم خدا سے تشریف لاتے تھے، جس کے دامن میں باغ رسالت کا پہلا کرامت کا پھول ہے(امام حسن ؑ)، جس کی آغوش بندگی کی زینت (امام زین العابدینؑ) سےمزین ہے، جہاں بشریت کے دو عظیم معلم و مربی  (امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ) دفن ہیں، جہاں ولایت کبریٰ کاوہ عظیم صدف ہیں  (جناب فاطمہ بنت اسدؑ) جن کے دامن میں محبوب خدا کو ماں کی محبت محسوس ہوتی تھی، جہاں وفا کا وہ صدف ہے (جناب ام البنینؑ) جس نے کربلا میں وفا کو چار چاند لگا دئیے۔ جہاں وہ بیت الحزن ہے جہاں صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا اپنے والد محبوب کبریاء کی عزاداری فرماتی تھیں، جہاں ازواج و اصحاب کی آرام گاہیں ہیں۔ جہاں امام مالک جیسے عالم اسلام کے بزرگوں کی قبریں ہیں۔ 

لہذا فلسطین سے سبق لیتے ہوئے ہمیں سوچنا ہو گا، سمجھنا ہو گا، محاسبہ کرنا ہو گا کہ ہم کہیں اپنی انا کے غلام تو نہیں، ہم کہیں چند روزہ دنیوی لذات کے اسیر تو نہیں اور فیصلہ کرنا ہو گا ۔ جب آج تجربہ نے بقا اور فنا کے راستہ دکھا دئیے ، تعمیر و تخریب کی راہوں کی رہنمائی کر دی تو اگر ہم حقیقت میں چاہتے ہیں کہ ہمارے مقدسات محفوظ رہیں، ہمارے روضوں کی دشمنوں کے شر سے حفاظت ہو، جنت البقیع کی ویرانی ختم ہو، روضے تعمیر ہوں، زیارتوں کا سلسلہ شروع ہو تو ہمیں بھی اسی مخلص دوست کی حمایت کرنی چاہئے جو بلا تفریق مذہب و ملت اور رنگ ونسل انسانیت کے حق میں آواز اٹھاتا ہے، مدد کرتا ہے، عراق و شام میں موجود روضوں کی بقا میں اسکی قربانیں شامل ہیں ۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 3 =