۶ مهر ۱۴۰۰ |۲۰ صفر ۱۴۴۳ | Sep 28, 2021
لاہور ہائیکورٹ

حوزہ/ لاہور ہائیکورٹ نے محرم الحرام کے دوران مجالسِ عزاء منعقد کرنے پر عائد پابندی کو آئین سے متصادم ٹھہراتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور ہائیکورٹ نے محرم الحرام کے دوران مجالسِ عزاء منعقد کرنے پر عائد پابندی کو آئین سے متصادم ٹھہراتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں محرم میں مجالسِ عزاء منعقد کرنے پر عائد پابندی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ڈی سی لودھراں کے مجالسِ عزاء پر پابندی کے حکم کو کالعدم قرار دیا۔

ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس محمد شان گل نے کہا کہ آئین کی دفعہ 20 کے تحت پاکستان کے ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اگر مجلسِ عزاء سے کسی کا نقصان نہیں ہورہا تو روکنے کا کوئی جواز نہیں۔

عدالتِ عالیہ لاہور نے درخواست گزار کو 30 اگست کے روز ڈی سی کے روبرو پیش ہونے کے احکامات جاری کیے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ڈی سی اور ڈی پی او لودھراں پابندی کی قانونی حیثیت نہیں بتا سکے۔

 گزشتہ برس وفاقی حکومت نے کورونا کے باوجود احتیاطی تدابیر اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوس نکالنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایوان صدر میں صدر ڈاکٹر عارف علوی اور شیعہ علماء کرام کے مابین جولائی 2020ء میں ہونے والی ملاقات میں ایس او پیز کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کورونا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لئے اقدامات میں تعاون کرنے پر علماء کی تعریف کی۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 1 =