۲ آبان ۱۴۰۰ |۱۷ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 24, 2021
News Code: 372523
19 ستمبر 2021 - 20:48
پیاده روی زائران اربعین حسینی در مسیر کربلا -۳

حوزہ/ سفر اربعین حسینی میں لوگوں کے جذبات، عزم وحوصلہ ان کی محبت اور مودت کو وہ بہتر طریقہ سے سمجھ سکتا ہے جو اس سفر عشق میں خود شریک ہو، یہ سفر عشق ایسا سفر ہے جسے بیان کرنا سخت اور مشکل ہے لیکن محسوس کرنا زیادہ آسان ہے۔

تحریر: مولانا سید ظفر عباس رضوی قم المقدسہ

حوزہ نیوز ایجنسی ویسے تو دنیا میں بہت سی جگہیں ہیں جہاں پہ لوگ جاتے ہیں اور سفر کرتے ہیں، نہایت ہی حسین اور خوبصورت جگہیں بھی ہیں جہاں پہ لوگ جاتے ہیں اور ان کی خوبصورتی کا ملاحظہ بھی کرتے ہیں اور خدا کی خالقیت اور اس کی صناعیت پہ تعجب کرتے ہیں کہ خدا وند عالم نے کس طرح سے ان  کوخلق کیا ہے، اس دنیا میں کچھ ایسی بھی جگہیں ہیں جہاں جانے کے لئے لوگ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی بھی صورت میں وہاں تک چلے جائیں، بعض جگہوں پہ جانے کے لئے لوگ کافی پیسے  بھی خرچ کرتے ہیں اور ہر طرح کی مشکلات اور پریشانی کو خوشی خوشی برداشت کرنے کے لئے آمادہ بھی رہتے ہیں، اور لوگ  اپنے اپنے ذوق کے اعتبار سے سفر کرتے ہیں، اور خود ہمارے یہاں بہت سی مقدس جگہیں ہیں جہاں جانے کی تاکید بھی ہے اور ثواب بھی بہت ہی زیادہ ہے، لیکن ان ساری جگہوں میں جو فضیلت اور مرتبہ زمین کربلا کا ہے اس کو سوچنا اور سمجھنا آسان نہیں ہے۔ 
سفر تو بہت ہو تے ہیں لیکن اگر کوئی ایسا سفر ہو جو سفر عشق ہو، سفر محبت و مودت ہو، جس سفر میں سب کے ارادے اور حوصلے برابر ہوں، چاہے بڑا ہو یا چھوٹا، بوڑھا ہو یا بچہ، مرد ہو یا عورت، ہر انسان کے اندر ایک عجیب جذبہ اور محبت ہو تی ہے جسے بیان نہیں کیا جاسکتا، ہر انسان محبت سے لبریز اور سرشار ہوتا ہے، اور اس سفر میں اپنے آپ کو بھلا دیتاہے، اپنی مشکلات، پریشانی، بیماری سب کچھ بھول جاتا ہے اور اپنے سفر عشق کو پوری آب وتاب کے ساتھ جاری و ساری رکھتاہے، آخر ان کے اندر کون سی ہمت اور کون سا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ بھول جاتے ہیں خدا ہی جانے۔
ویسے تو ہر دور اور ہر زمانے میں زیارت پہ پابندی لگانے کی انتھک کوشش کی گئی لیکن عاشقان امام حسین علیہ السلام نے اپنے جان و مال  کی بازی لگا کے اپنی محبت کا نذرانہ پیش کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے انشاء اللہ، اور ساتھ ہی ساتھ دنیا کے ہر زمانے کے ظالم و جابر کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم حسینی ہیں دنیا کی کسی بھی طاقت سے ہم کو ڈرایا نہیں جاسکتا ہے، دنیا کی بہت سی طاقتوں نے ہم کو زیارت سے روکنے کی بہت کوششیں کیں لیکن خود نیست و نابود اور مٹ گئیں لیکن ہم کو نہیں روک سکیں، چند سال پہلے داعش جیسی خبیث تنظیم موجود تھی اور وہ بھی  اب نابود ہوگئی لیکن زیارت پہ جانے سے نہیں روک سکی۔
یہ جذبہ اور حوصلہ پیغمبراعظم(ص) کی اس حدیث کو بیان کرتا ہے جس میں آپ فرماتے ہیں: 
"شہادت امام حسین علیہ السلام کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں وہ حرارت پیدا ہو گئی ہے جو کبھی سرد نہیں ہوگی"(مستدرک الوسائل ومستنبط المسائل ج10 ص318 ناشر- موسسہ آل البیت علیہم السلام قم) 
اربعین کے موقع کے پر اس حرارت کو باقاعدہ طور پہ دیکھا جا سکتا ہے بلکہ محسوس بھی کیا جا سکتاہے، کتنا عزم وحوصلہ ہوتا ہے ان ماؤں کے اندر جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ نجف سے کربلا پیدل چل کر جاتی ہیں، بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے ساز و سامان بھی ہوتے ہیں لیکن ان کے عزم و ارادے میں کسی طرح کی کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ اسے دیکھ کر دوسروں کے اندر جذبہ پیدا ہوتا ہے، ہمارا سلام ہو ایسے عزم وحوصلہ پر، ایسی محبت و مودت پر، یہ وہی چیز ہے جس کی طرف مولائے کائنات علیہ السلام نے اشارہ کیا ہے آپ فرماتے ہیں : 
"انسان کی قدر و منزلت اس کی ہمت کے اعتبار سے ہوتی ہے"(نہج البلاغہ حکمت47)
 اس حدیث کی روشنی میں عاشقان امام حسین علیہ السلام کی قدر و منزلت کا اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ  یہ لوگ کتنی قدر و منزلت کے مالک ہوں گے، یہی وہ عزم و ارادہ اور جذبہ ہے جس نے آج پوری دنیا کو حیران و سرگردان اور مبہوت کر رکھا ہے کہ آخر ان کے اندر کون سا جذبہ ہے جس کی وجہ سے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں یہاں تک کہ اپنی جان کو بھی نچھاور کرنے کے لئے آمادہ رہتے ہیں، بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب تک انسان خود اس کا  تجربہ اور مشاہدہ نہ کرے تو وہ اس کو اس طریقہ سے محسوس نہیں کر سکتا جس طرح سے محسوس کرنا چاہیئے۔
اربعین کے سفر میں لوگوں کے جذبات، عزم وحوصلہ ان کی محبت اور مودت کو وہ بہتر طریقہ سے سمجھ سکتا ہے جو اس سفر عشق میں خود شریک ہو، اور شاید بیان کرنے کے لئے اس کے پاس الفاظ نہ ہوں، ایک عجیب سماں اور منظر ہوتا ہے ہر طرح کی سہولتیں، نعمتیں اور انواع واقسام کی غذائیں موجود ہوتی ہیں، نجف سے کربلا تک کی پیادہ روی (پیدل چلنے) میں عجیب معنویت اور نورانیت ہوتی ہے، بلا کا خلوص ہوتا ہے ساتھ ہی ساتھ ہر طرح کی غذائیں اور راحت و سکون کے تقریبا سارے اسباب اور سامان مہیا اور فراہم ہوتے ہیں،
ہمارا سلام ہو عراق کے مومنین پہ جو اپنے مولا کے مہمانوں کی مہمان نوازی میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہیں کرتے بلکہ مہمان نوازی کا حق ادا کر دیتے ہیں، اپنے آپ کو زائرین کا خادم اور نوکر کہتے ہیں زائرین کے نام پہ سب کچھ کرنے کو تیار رہتے ہیں ان کا بس چلے تو اپنی جان بھی زائرین کے نام پہ نچھاور اور قربان کردیں، نہیں پتہ ان کو اپنے مولا سے کتنا لگاؤ اور کتنی معرفت ہے، اس طریقہ سے زائرین کی خدمت اور ان کا احترام کرنا ان کے ایمان اور معرفت کو بتاتا ہے کہ وہ ایمان و معرفت کے اس درجہ پہ ہیں جس کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے ہیں، یہ سفر عشق ایسا سفر ہے جسے بیان کرنا سخت اور مشکل ہے لیکن محسوس کرنا زیادہ آسان ہے،
لیکن ادھر دو سال سے کرونا کی منحوس اور مہلک بیماری کی وجہ سے حالات ایسے ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنے مولا کی زیارت پہ نہیں جا پا رہے ہیں پچھلے سال صرف عراق کے مومنین ہی زیارت پہ گئے تھے اور اس سال بھی دوسرے ممالک کے لوگوں کا جانا ابھی تک باقاعدہ طور پہ واضح نہیں ہو سکا ہے، کتنا سخت ہے امام حسین علیہ السلام کے چاہنے والوں کے لئے کہ جو ہر سال ہر طرح کی زحمت و مشقت کو برداشت کرکے جاتے تھے لیکن پچھلے سال سے کرونا کی وجہ سے نہیں جا پا رہے ہیں، خدا کرے کہ کوئی راستہ نکل آئے اور ہم ہر سال کی طرح  اس سال بھی اربعین میں کربلا چلے جائیں۔

زیارت امام حسین علیہ السلام کی اہمیت اور فضیلت
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "جب خدا کسی کے سلسلہ سے خیر اور نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے دل میں امام حسینؑ کی محبت اور آپؑ کی زیارت کی تڑپ پیدا کردیتاہے، اور اگر خدا کسی کے سلسلہ سے بغض و عداوت کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے دل میں امام حسینؑ کی دشمنی اور آپ ؑ کی زیارت کی نفرت پیدا کردیتا ہے"(وسائل الشیعہ ج14 ص496 ناشر-موسسہ آل البیت علیہم السلام قم) 
پیغمبراکرم (ص )نے فرمایا:
 "حاجت حسین کے قبہ کے نیچے ہے اور شفا آپ کی تربت میں ہے اور ائمہ آپ کی نسل سے ہیں"(وسائل الشیعہ ج14 ص452 ناشر- موسسہ آل البیت علیہم السلام قم)
امام صادق علیہ السلام نے ایک دوسری جگہ پہ فرمایا: 
"جو امام حسینؑ کی زیارت کے لئے نہ جائے اور وہ یہ خیال کرے کہ ہمارا شیعہ ہے اور اسی حالت اور خیال میں دنیا سے چلا جائے تو وہ ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے اگرچہ اہل جنت میں سے ہو جنت کے مہمانوں میں سے ہوگا" (بحار الانوار ج98 ص8 ناشر-دار احیاء التراث العربی بیروت) 
 یعنی جنت میں مہمانوں کی طرح سے رہے گا۔
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
"اگر لوگوں کو امام حسینؑ کی زیارت کی فضیلت کے بارے میں پتہ چل جاتا تو زیارت کے شوق میں مر جاتے"(کامل الزیارات ص142 ناشر- دار المرتضویہ نجف اشرف)
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
"جو امام حسین ؑ کی زیارت کرے فرات کے کنارے گویا اس نے خدا کی زیارت کی ہے"(کامل الزیارات ص147 ناشر-دار المرتضویہ نجف اشرف)

زیارت اربعین کی اہمیت اور فضیلت
امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا:
"مومن کی ایک علامت اور نشانی    یہ ہے کہ زیارت اربعین کو پڑھے"(مصباح المتہجد ج2 ص788 ناشر-موسسہ فقہ الشیعہ بیروت)
اگر ہم روایات کو پڑھیں اور اس میں غور و فکر کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ زیارت امام حسینؑ کی کتنی اہمیت اور فضلیت ہے، اور جیسا کہ زیارت اربعین کے بارے میں امام عسکری ؑ نے فرمایا کہ مومن کی ایک علامت یہ ہے کہ اربعین کے دن زیارت اربعین کو پڑھے، اب کیا کہنا اس کا اور کتنا خوش نصیب ہے وہ شخص جو اربعین کے دن زیارت اربعین کو کربلائے معلی اور حرم مطہر امام حسین ؑ میں پڑھے، اس کیفیت کو وہی محسوس کرسکتا ہے جو اربعین کے دن کربلائے معلی میں موجود ہو۔ 
آخر میں خداوند عالم سے دعا ہے کہ خدا محمد(ص) و آل محمد علیہم السلام کے صدقہ میں ہمیں توفیق عنایت فرمائے کہ ہم اربعین میں  ہمیشہ اپنے مولا کی زیارت سے مشرف ہوتے رہیں خاص طور سے اس سال، اور جو لوگ مولا کی بارگاہ میں جانے کی تمنا کرتے ہیں اور ابھی تک نہیں جاسکے ہیں خدا  امام حسین علیہ السلام کے صدقہ میں انھیں کربلائے معلی جلد سے جلد جانےکی توفیق عنایت فرمائے۔ 

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 11 =