۲ آبان ۱۴۰۰ |۱۷ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 24, 2021
News Code: 372561
20 ستمبر 2021 - 23:53
حرکت زائران اربعین در مسیر کربلا

حوزہ/ اگر کوئی زیارت پہ جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے خود اس کو زیارت کی توفیق دی ہے اور اگر کوئی سب کچھ ہونے کے باوجود بھی نہیں جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ توفیق سلب ہو گئی ہے۔

تحریر: مولانا سید ظفر عباس رضوی قم المقدسہ

حوزہ نیوز ایجنسیامام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"مَنْ أَرَادَ الله بِهِ الْخَيْرَ قَذَفَ فِي قَلْبِهِ حُبَّ الْحُسَيْنِ وَ حُبَّ زِيَارَتِهِ وَ مَنْ أَرَادَ الله بِهِ السُّوءَ قَذَفَ فِي قَلْبِهِ بُغْضَ الْحُسَيْنِ وَ بُغْضَ زِيَارَتِهِ"
(وسائل الشیعہ ج4 ص496 ناشر- موسسہ آل البیت قم )
واقعا کتنی خوش نصیبی اور کتنی توفیق کی بات ہوتی تھی کہ امام حسین علیہ السلام کے چاہنے والے ہر سال اس وقت سفرعشق(اربعین)  پہ جانے کے لئے بے قرار رہتے تھے اور اس سال بھی بے قرار ہیں۔
حالات جیسے بھی ہوں لیکن چاہنے والے اپنے امام کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور دنیا کو بتاتے تھے تم جتنی بھی کوششیں اور سازشیں کر لو اور جتنی بھی افواہیں پھیلاؤ لیکن یہ تحریک رکنے والی نہیں ہے۔
ہر سال یہ بات سننے میں آتی تھی کہ عراق کے حالات خراب ہیں یا خراب کئے جارہے ہیں، لیکن حالات کو خراب کرنے والوں کو یہ خبر نہیں ہے کہ ہمیشہ زیارت پہ پابندی لگائی گئی اور ہمیشہ ظالم حکومتوں نے زیارت پہ جانے والوں پہ ظلم ڈھائے شہید کیا لیکن کیا یہ سلسلہ رک گیا؟ 
کیا زیارت پہ جانے والوں کی کمی واقع ہوگئ؟؟ نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے یہ سلسلہ سفر عشق روزبروز بڑھتا ہی جا رہا ہے اور اسی طریقہ سے بڑھتا ہی رہے گا انشاءاللہ، ابھی چند سال پہلے بھی عراق کے حالات خراب تھے اور اس وقت داعش جیسی خبیث اور نجس تنظیم  بھی وہاں پہ موجود تھی لیکن ایسے حالات میں بھی چاہنے والے جوق در جوق اپنے مولا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے مولا سے اپنی عقیدت و محبت اور عشق کا ثبوت پیش کیا اور پیش کرتے رہتے ہیں۔
لہذا اگر دشمن یہ سوچتا ہے کہ حالات کو خراب کر کے زیارت پہ جانے والوں کو روک دیا جائے گا تو یہ اس کا خیال خام اور اس کی بھول ہے۔
مومنین اور امام حسین علیہ السلام کے چاہنے والے ہر سال امام کی زیارت پہ جاتے تھے حالات چاہے جیسے بھی ہوتے تھے، لیکن پچھلے سال سے کرونا جیسی منحوس بیماری کی وجہ سے حالات بالکل بدل گئے ہیں پچھلے سال صرف عراق ہی کے مومنین نے زیارت کی تھی اور دوسرے ممالک سے لوگ نہیں جا سکے تھے اور اس سال بھی حالات بہت واضح نہیں ہیں شرائط بھی سخت ہیں، جس کی وجہ سے ہر کوئی نہیں جا سکتا ہے خاص طور سے وہ جس کے پاس پیسہ زیادہ نہ ہوں، لیکن خدا کرے کہ سب کے لئے جانے کی کوئی راہ ہموار ہو جائے۔
لیکن اگر اس سال بھی ہم کربلا نہیں جا سکے تو جہاں پہ بھی رہیں وہیں پہ کربلا بنا دیں اور انشاءاللہ اگلے سال پھر ہر سال سے زیادہ تعداد میں اربعین میں کربلا جائیں، اور یہ سفر عشق اور یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہے یہاں تک کہ اپنے حقیقی وارث کے ظہور سے جا کے مل جائے انشاءاللہ۔
اربعین میں یا  امام حسین علیہ السلام کی زیارت پہ جانے کے لئے توفیق اور سعادت چاہیئے اس لئے کہ امام صادق علیہ السلام فرما تے ہیں: 
"خدا وند عالم جب کسی کے سلسلہ سے نیکی اور خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے دل میں امام حسین علیہ السلام کی محبت اور آپ کی زیارت کی تڑپ پیدا کر دیتا ہے، اور جب خدا کسی کے سلسلہ سے شر اور برائی کا ارداہ کرتا ہے تو اس کے دل میں امام حسین علیہ السلام کی دشمنی اور آپ کی زیارت کی نفرت پیدا کر دیتا ہے"
تو اگر کوئی زیارت پہ جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے خود اس کو زیارت کی توفیق دی ہے اور اگر کوئی سب کچھ ہونے کے باوجود بھی نہیں جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ توفیق سلب ہو گئ ہے۔
اس تحریر میں جس چیز کی طرف اشارہ کرنا ہے وہ یہ ہے کہ انشاءاللہ جب امام زمانہ علیہ السلام ظہور کریں گے اور جب کعبہ کے پاس جائیں گے تو، امام علیہ السلام  رکن اور مقام کے درمیان کھڑے ہو کے آواز دیں گے:
اَلا يا اَهلَ العالَم اَنَا الاِمام القائِم
اَلا يا اَهلَ العالَم اَنَا الصَّمصامُ المُنتَقِم
 اَلا يا اَهلَ العالَم اِنَّ جَدِي الحُسَين قَتَلُوهُ عَطشان
الا يا اَهلَ العالَم اِنَّ جَدِي الحُسَين طَرَحُوهُ عُرياناً
اَلا يا اَهلَ العالَم اِنَّ جَدِي الحُسَين سَحَقُوهُ عُدواناً (الزام الناصب فی اثبات الحجة ج2ص233 ناشر- موسسہ الاعلمی بیروت) 
امام علیہ االسلام دنیا والوں سے مخاطب ہو کے پانچ چیزیں کہیں گے :
1-اے دنیا والوں میں امام قائم ہوں
2-اے دنیا والوں میں انتقام لینے والی تیز تلوار ہوں-
3-اے دنیا والوں میرے جد امام حسین علیہ السلام کو پیاسا شہید کر دیا گیا-
4-اے دنیا والوں میرے جد حسین علیہ السلام کو برہنہ چھوڑدیا گیا-
5-اے دنیا والوں میرے جد حسین علیہ السلام کو دشمنی اور کینہ کی وجہ سے پائمال کر دیا گیا-
یہاں پہ جو چیز دقت کرنے کی اور توجہ کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام  پہلے اپنا تعارف کروا رہے ہیں کہ میں کون ہوں اس کے بعد فرماتے ہیں کہ میرے جد حسین علیہ السلام کو پیاسا شہید کر دیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو امام علیہ السلام پوری دنیا کو مخاطب کر کے کیوں فرما رہے ہیں کہ دنیا والوں میرے جد کو پیاسا شہید کر دیا گیا، اس لئے کہ اگر کوئی اپنے آپ کو کسی کے ذریعہ سے پہچنوانا چاہتا ہے تو ایسے انسان کے ذریعہ سے پہچنواتا ہے جسے سب جانتے ہیں ، یہاں پہ اگر ہمارے آخری امام (عج) اپنے جد امام حسین علیہ السلام کا بار بار نام لے رہے ہیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انشاءاللہ جب امام زمانہ علیہ السلام ظہور کریں گے تو پوری دنیا امام حسین علیہ السلام کو پہچانتی ہوگی، جانتی ہو گی۔ اور پوری دنیا کا امام حسین علیہ السلام کو پہچاننے کا سب سے بڑا ذریعہ اور راستہ اربعین ہے جہاں پہ ایک ہی وقت میں دنیا کے سب سے زیادہ لوگ جمع ہوتے ہیں، اتنا بڑا اجتماع، جم غفیر، لوگوں کا ہجوم اور سیلاب کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتا، اور یہ بات شاید مبالغہ اور غلط نہ ہو  کہ تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع اربعین حسینی ہے، دنیا حیران و پریشان ہے کہ یہ اربعین ہے کیا جہاں پہ اتنے لوگ جمع ہوتے ہیں، شیعوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اربعین میں کربلا جاتے ہیں تاکہ یہ دیکھیں کہ آخر اربعین ہے کیا، آج دنیا کے بڑے بڑے لوگ اور بڑیں بڑیں طاقتیں پتہ نہیں کیا کیا کرتی ہیں اور بے حد پیسہ خرچ کرتی ہیں کہ لوگ انھیں جاننے اور پہچاننے لگیں لیکن تب بھی  لوگ نہیں جانتے، لیکن ظہور کے بعد امام زمانہ علیہ السلام کا خانہ کعبہ سے دنیا والوں کو خطاب کر کے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں بتانا اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت پوری دنیا امام حسین علیہ السلام کو پہچان رہی ہوگی، اور اس پہچان کی جو سب سے بڑی وجہ ہوگی وہ اربعین حسینی ہوگا، جہاں پہ لوگوں کا اتنا بڑاجم غفیر ہوتا ہے، اور سب کے عزم و حوصلہ ایک ہوتے ہیں چاہے بڑا ہو یا چھوٹا، مرد ہو یا عورت، ایسا حوصلہ اور جذبہ کہ جہاں پہ کھانے والے تھک جاتے ہیں لیکن کھلانے والے نہیں تھکتے، جن کی خدمت کی جاتی ہے وہ تھک جاتے ہیں لیکن جو لوگ خدمت کرتے ہیں وہ نہیں تھکتے، ایسے جذبہ اور حوصلوں کو سلام۔
لہذا اربعین پہ جاتے وقت زیارت کے ساتھ ساتھ ہماری توجہ اس بات پہ بھی ہونا چاہیئے کہ کل کو جب امام زمانہ علیہ السلام ظہور کریں گے اور خانہ کعبہ سے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں بتائیں گے اور پوری دنیا امام حسین علیہ السلام  کواس وقت  پہچان رہی ہوگی، تو اس پہچان کا سب سے بڑا راستہ اور ذریعہ اربعین ہوگا انشاءاللہ، ساتھ ہی ساتھ امام حسین علیہ السلام کے قبہ کے نیچے امام زمانہ (عج) کے ظہور کے لئے دعا کرنا فراموش نہ کریں۔
آخر میں خدا وند عالم سے دعا ہے کہ خدا امام حسین علیہ السلام کے صدقہ میں کرونا جیسی منحوس اور مہلک بیماری کو جلد سے جلد عالم بشریت سے دور فرمائے اور ہم سب کو زیارت امام حسین علیہ السلام کی خاص طور سے اس سال اربعین میں کربلا جانے کی توفیق عنایت فرمائے اور ہمارے زمانہ کے امام کے ظہور میں تعجیل فرمائے، اور ہم کو امام علیہ السلام کے اعوان و انصار میں شمار فرمائے اور ہمارے امام کو ہم سے راضی و خوشنود فرمائے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 15 =