۲۷ فروردین ۱۴۰۰ | Apr 16, 2021
حجت الاسلام سید احمد اقبال رضوی

حوزہ/ مجلس وحدت المسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہمارے قانون کا نصاب اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اس میں مولا علی علیہ السلام کے فیصلہ جات کو شامل نہیں کیا جاتا کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمان کے مطابق علی علیہ السلام اس امت میں بہترین قاضی ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لاہور ہائیکورٹ میں سالانہ یوم علی علیہ السلام منعقد کیا گیا جس میں شیعہ، سنی وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی، مہمان خصوصی مجلس وحدت المسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل حجت الاسلام و المسلمین مولانا سید احمد اقبال رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارے قانون کا نصاب اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اس میں مولا علی علیہ السلام کے فیصلہ جات کو شامل نہیں کیا جاتا کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمان کے مطابق علی علیہ السلام اس امت میں بہترین قاضی ہیں، اس کی مثال خلفائے راشدین کا دور ہے جس میں جب بھی صحابہ کو کوئی فیصلہ کرنے میں دشواری ہوتی تو وہ مولا علی علیہ السلام کو مدد کے لیے پکاڑتے حتیٰ کہ حضرت ابو بکر رضی ، حضرت عمر رضی اور حضرت عثمان کو بھی کہنا پڑا کہ اگر علی نہ ہوتے ہم ہلاک ہوجاتے اس چیز سے مولا علی علیہ السلام کی ذات اور ان کے فیصلہ جات کی اہمیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید وکلاء کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اس ملک میں موجود نہ صرف مسلم وکلاء بلکہ پوری دنیا کے غیر مسلم وکلاء اور عدالتیں اگر  انصاف کرتے ہوئے مولا علی علیہ السلام کے فیصلہ جات اور مولا علی علیہ السلام کی ذات کو سامنے رکھیں تو اس معاشرے میں انصاف قائم ہو سکتا ہے اور جو عوام کا اعتماد اس نظام انصاف سے اٹھ گیا ہے وہ بھی بحال ہو سکتا ہے۔

پروگرام کے اختتام میں انہوں نے امام کے جلد ظہور کی دعا سے کیا اور امید ظاہر کی کے انشاءاللہ امام کا ظہور جلد ہوگا اور امام کے ظہور کے ساتھ اس پوری کائنات میں عدل انصاف کا بول بالا ہوگا۔

آخر میں کہ جب بھی کوئی وزیر حلف لے تو اسے اُسی حلف نامہ پر حلف لینا چاہیے جو مولا علی علیہ السلام نے مالک اشتر سے گورنر بناتے ہوئے لیا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 3 =