۲۷ فروردین ۱۴۰۰ | Apr 16, 2021
 حجت الاسلام والمسلمین سید عابد حسینی

حکومت کو چاہیئے کہ لا پتہ افراد کو متعلقہ عدالتوں میں پیش کیا جائے اور عدالتوں کے توسط سے انکی تحقیقات کرائی جائیں۔اگر کسی پر انٹی سٹیٹ ٹائپ کا کوئی قابل سزا جرم ثابت ہوتا ہے تو بیشک اسے سزا دی جائے، ورنہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے بزرگ عالم دین اور سابق سینیٹر علامہ سید عابدحسین الحسینی نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ نہایت سیریئس ہے۔ لوگ کئی سالوں سے لاپتہ ہیں، ان لاپتہ افراد سے زیادہ تکلیف اور مشکل انکے گھر والوں کو ہے، جنہیں اپنے پیاروں کا کچھ بھی علم نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ لاپتہ افراد کو متعلقہ عدالتوں میں پیش کیا جائے اور عدالتوں کے توسط سے انکی تحقیقات کرائی جائیں۔

علامہ سید عابد حسین الحسینی نے کہاکہ اگر کسی پر انٹی سٹیٹ ٹائپ کا کوئی قابل سزا جرم ثابت ہوتا ہے تو بیشک اسے سزا دی جائے، ورنہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم نے بالش خیل اور کنج علی زئی کے مسئلے اپنے موقف کا اظہار کر دیا ہے۔ بائیس اراکین پر مشتمل جرگہ اسکا حل نہیں نکال سکتا۔ بیشک اس میں اچھے افراد بھی ہونگے، تاہم حکومت اکثر ایسے افراد کا انتخاب کرتی ہے، جو سو فیصد ان کی منشاء کے مطابق چلیں اور حکومت کے سامنے اپنے موقف کا اظہار نہ کرسکیں، جبکہ قومی مسائل کے حل کے لئے انجمن اور تحریک دونوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیئے۔

انہوں نے مزید کہاکہ نمائندوں کے انتخاب کا حق انجمن اور تحریک کو دیا جائے۔ جو اپنی طرف سے ایسے افراد کا انتخاب کرسکیں، جو کسی کا حق غصب بھی نہ کریں اور ساتھ کسی پریشر میں آکر اپنے حق سے دستبردار بھی نہ ہوں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 2 =